اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)پارلیمنٹ میں اہم ترامیم کے معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت نے تمام اتحادیوں کو عشائیے کی دعوت دی ہوئی ہے، عشائیہ میں شریک اراکین سے ایوان میں ہونے والے مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کی جائے گی۔ تاہم، وزیراعظم کے عشایئے میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ حکومت ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے قانون سازی پر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد نے مشترکہ اجلاس اور مجوزہ آئینی ترمیم کے لئے نمبرز گیم پورے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنی اہم حکمت عملی کے تحت حکومتی اتحاد کو نمبر گیم کے حوالے سے اہم کامیابی دلوادی۔آئندہ ہونے والی اہم قانون سازی اور ترامیم کے حوالے سے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس متحرک ہوگئے ہیں، دونوں نے الگ الگ حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین کو آج عشائیہ کی دعوت دی۔ لیکن پیپلز پارٹی اراکین نے صرف صدر آصف زرداری کے عشائیے میں شرکت کی۔
صدر مملکت کے عشائیہ میں بلاول بھٹو، آصفہ زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور گورنر فیصل کریم کنڈی موجود ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی اراکین کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کو عشائیہ کی دعوت دی ہے۔ایوان صدر کے عشائیہ میں پیپلز پارٹی، ق لیگ، استحکام پارٹی اور اے این پی شریک ہوئی۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر ، انوار الحق کاکڑ، چودھری سالک حسین، عبد العلیم خان اور اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان بھی مشاورتی اجلاس میں موجود ہیں۔صدر ِ مملکت نے عشائیہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی جمہوریت مزید مضبوط کرنے اور سیاسی استحکام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نکالنے کیلئے سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رواداری اور باہمی احترام فروغ دینے اور جمہوری ادارے مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ خدمات کی فراہمی بہتر بنانے، معاشی خوشحالی کیلئے سیاسی، معاشی اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، عوامی فلاح کیلئے گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پرعزم طریقے سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والی محاذ آرائی کی سیاست کے خلاف ہیں۔عشائیہ میں سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے استحکام اور عوامی ریلیف کیلئے مختلف تجاویز دیں۔اراکین نے قومی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں صدر مملکت کی سیاسی دانشمندی اور وژن کو بھی سراہا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی تمام اتحادی پارٹیوں کو آج عشائیہ کی دعوت دی، شہباز شریف کے عشائیہ میں مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں نے شرکت کی۔
وزیراعظم کے عشائیہ میں ن لیگ، ایم کیو ایم، بی اے پی، نیشنل پارٹی اور ضیا لیگ شریک ہوئے۔وزیراعظم کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں دیا گیا عشائیہ اختتام پذیر ہوگیا، وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی اور موجودہ صورتحال پر ارکان پارلیمنٹ کو آن بورڈ لیا۔
وزیرِاعظم نے اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز کے اعزاز میں عشائیہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح کا 9.6 فیصد پر آنا معیشت میں بہتری کا عکاس ہے، افراط زرکی شرح میں مزید کمی کی پیشگوئی خوشخبری سے کم نہیں، 2018 میں افراط زر کی شرح سنگل ڈجیٹ پر چھوڑ کر گئے تھے، جدوجہد کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی ہے، ہم نے سیاست کی قربانی دے کر معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی ٹیم کی شبانہ روز محنت کی بدولت نہ صرف معیشت مستحکم ہوئی بلکہ ترقی کی جانب گامزن ہے، خادمِ پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عوام سے عہد کیا تھا کہ ان کی پریشانیوں کوکم کرکے ہی دم لیں گے، حکومتی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج عوام کی خوشحالی کی صورت عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، عام آدمی کی زندگی کو آسان کئے بغیر پاکستان کی ترقی کے ہدف کا حصول ممکن نہیں، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مکمل ڈیجیٹائز یشن کا آغاز اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے غریب اور کم آمدنی والے طبقات کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، خرچے میں کمی کے حوالے سے رائٹ سائزنگ اور ڈاؤن سائیزنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے، پاکستان کو معاشی مشکلات سی نکالنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل ایک سیاسی جماعت کے جلسے میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کی گئی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز نے حالیہ معاشی استحکام پر وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا، اتحادی جماعتوں کے ارکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
عشائیہ کے بعد حکومتی اتحاد نے مشترکہ اجلاس اور مجوزہ آئینی ترمیم کے لئے نمبرز گیم پورے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔حکومت ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعداد بڑھانے سمیت ایک آئینی پیکج لانا چاہتی ہے۔دعویٰ کیا گیا کہ حکومتی اتحاد قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرچکی ہے، جے یو آئی کی حمایت حاصل ہوئی تو حکومت کو مزید تین ووٹ درکار ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت جے یو آئی ف کی قیادت سے بھی مکمل رابطے میں ہے، جے یو آئی ف مجوزہ ترامیم کے لئے حکومت کا ساتھ دے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے کی جائے گی، سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑحانے کی تجویز اور اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی عمر کی حد بڑحانے کی ترمیم بھی شامل ہے۔

