حب(ڈیلی گرین گوادر) حب میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں تھم نہ سکی،نامعلوم چوروں کا شٹر و تالہ توڑ آپریشن ایک ہی رات میں 6دکانوں کا صفایا کردیا،لاکھوں روپے کے سامان اور نقدی لیکر فرار ہو گئے،چوری کی وارداتوں کے خلاف حب کے تاجر وشہری،تاجر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماء سڑکوں پر نکل آئے،اسد چوک کے قریب مین آر سی ہائی وے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلاک کردی،حب پولیس کے خلاف نعرے بازی،چوروں کو گرفتار اور سامان برآمد کیلئے حب پولیس کو 7دنوں کا الٹی میٹم دے دی گئی،چوروں کی عدم گرفتاری پر ایک ہفتے بعد تاجروں نے کاروبار غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کی دھمکی دے دی،حب پولیس چوری ڈکیتی کی وارداتوں پرقابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے،تاجر و شہری عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ پولیس تاجروں وشہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے غیر قانونی سرگرمیوں،ایرانی ڈیزل و پیٹرول اور چھالیہ اسمگلرز سے بھتہ لینے میں مصروف حب شہر کو چوروں لیٹروں ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا،مظاہرین کا صحافیوں سے گفتگو اس موقع پر صحافیوں سے خورشید رند۔ بشیر احمد مینگل،مولابخش،نائب غلام مصطفی زہری اور نوید لاڈلہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حب چوری ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں روز کے معمول بن گئے گزشتہ کئی سالوں سے حب میں رہائش پذیر ہیں اتنی چوری ڈکیتی کی وارداتیں دیکھنے کو نہیں ملی گزشتہ چند ماہ میں سے حب شہر میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے پولیس چوری ڈکیتی کی وارداتوں پر قابوں پانے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جمعہ اور ہفتہ کی شب نامعلوم شٹر توڑ گروہ نے حب سٹی پولیس تھانے سے چند فرنگ مینRCDشاہراہ پر قائم ایری پیشہ،جنرل اسٹور سمیت جنریٹر دکان سمیت چار دنوں میں شٹر توڑ آپریشن کر کے دکانوں کے تالے توڑ کر اندر داخل ہو کر لاکھوں روپے کا سامان اور کیش چوری اٹھا کر فرار ہو گئے اس سے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دینے کے باوجود اب تک وقوعہ جائزہ لینے کی زحمت کررہے ہیں اور نہ ہی چوروں کی گرفتاری کیلئے ہمت دکھا رہے ہیں حب پولیس چوری ڈاکوراج خاتمہ اور تاجروں وشہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے ایرانی ڈیزل وپیٹرول کی گاڑیاں پار کرانے اور بھتہ خوری کرنے میں مصروف ہے جبکہ تاجربرادری اور شہریوں کو ڈاکوؤں چوروں لیٹروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے انھو ں نے کہا کہ حب شہر میں پولیس گشت نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے شٹر توڑ گروہ سمیت چور ڈاکو ڈکیت گروہ شہر میں بآسانی وارداتیں کرکے فرار ہو جاتے ہیں پولیس کی ناہلی اس بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ حب رات سے لیکر صبح صادق تک تجارتی مارکیٹوں و دکانوں کے سامنے منشیات کے عادی افراد کا بسیرا ہوتا ہے دکانوں کے سامنے رات کے نشئی افراد ٹولیوں کے شکل میں سوتے ہیں لیکن پولیس نشے افراد کو دکانوں کے سامنے ہٹانے کے بجائے خاموشی سے گزر جاتے ہیں ایک طرف چوروں ڈاکوؤں نے شہریوں کو جینا محال بنا دیا ہے تاجروں سے روزانہ لاکھوں روپے چھینا جاتا ہے اور شٹر توڑ گروہ اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ حب پولیس اپنی موج موستیوں میں مگن ہے انہیں شہریوں و تاجروں کے حال پر کوئی سروکار نہیں ہے بس اپنی خانہ پوری کرنے کیلئے چند ایک ٹارگٹک کر کے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں انھوں نے کہاکہ حب کے تاجر برادری اور شہریوں میں ڈاکوؤں چوروں لیٹروں اور اسٹریٹ کرمنلز اور شٹر توڑ گروہ نے خوف وہراس پھیلا دیا ہے حب میں کاروبار کرنا بھی مشکل بن
گیا ہے اگر حب پولیس نے گزشتہ رات ہونے والی چوری کے واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا تو ہمارا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دینگے جبکہ ملزمان گرفتار نہیں ہوتے اس وقت اپنا احتجاج جاری رکھیں گے حب میں بڑھتی ہوئی چوری ڈکیتی کی وارداتوں پر حب کے تمام سیاسی جماعتوں اور تاجروں تنظیموں سے بھی رابطہ کیا جائے گا چوری ڈکیتی کے واقعات اور حب پولیس کی نااہلی کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا انھوں نے کہاکہ حب پولیس چوروں لیٹروں ڈاکوؤں کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے شریف النفس شہریوں کے خلاف جلاجواز مقدمات درج کر رہا ہے انھوں نے کہاکہ حب پولیس جرائم و کرائم کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی کشش کمیونیکیشن میں تین سے چار مرتبہ ڈکیتی کی وارداتیں ہو چکی ہیں اور پولیس ریکارڈ میں موجود ہے لیکن آج دن تک نہ تو ڈکیت گروفتا ہوئے اور نہ ہی مسروقہ سامان و رقم برآمد ہوئی حب پولیس محض نمائشی رہے رہ گئی ہے حالانکہ تاجربرادری کروڑوں روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور ان ہی ٹیکسوں سے پولیس کو تنخواہ ملتی ہیں اس کے باوجود تاجروں وشہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا انھوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے حب میں بڑھتی ہوئی چوری ڈکیتی،رہزنی کی وارداتوں کا نوٹس لینے اور ایماندار پولیس آفیسر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔
حب میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں تھم نہ سکی،چوروں نے ایک ہی رات میں 6 دکانوں کا صفایا کردیا

