کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی اعلامیہ کے مطابق پارٹی کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سانحہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین ہے شہدا کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کشمیر کی آزادی کی بات کرنے والے بلوچستان کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق دینے کو تیار نہیں ہیں 9 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود شہدا کا خون تاحال انصاف کے منتظر ہے سانحہ 8 اگست کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بیان میں کہا کہ کوئٹہ کی پر سکون فضا میں امن دشمن عناصر نے خون کا ہولی کھیل کر بلوچستان کے شعوری باغ کو اجاڑ دیا جس میں 80 سے زائد وکلا برادری، ڈاکٹرز اور صحافیوں کو شہید کیا گیا اہلِ بلوچستان کے لیے 8 اگست 2016 کا دن سیاہ ترین دن ہے جسے کبھی نہیں بھول سکتے اس دن سفاک دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ اور خودکش دھماکہ کرکے پورے بلوچستان میں سوگ و ماتم کی فضا قائم کردی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بلوچ اور پشتون قوم اپنے پیاروں کی یاد میں افسردہ ہیں اور شہدا کی خون کے انصاف کا منتظر ہے۔بیان میں مزید کہا کہ ملکی تاریخ کے بدترین و تاریک واقعات میں سے ایک ہے اور بلوچستان کے انتہائی باشعور و متحرک افراد کے خلاف گھنانی سازش تھا۔انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی جہالت اور غربت کے خلاف ہم نے ملکر جدوجہد کرنا ہوگا اور شہدا 8 اگست کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم نے ملکر ملک میں قانون کی حکمرانی اور میڈیا کی آزادی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے بھرپور انداز میں جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔
کشمیرکی آزادی کی بات کرنے والے بلوچستان کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق دینے کو تیار نہیں،میر اسرار زہری

ٹیگز:
میر اسرار زہری
