کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ نورین نے کہا ہے کہ ایس بی کے یونیورسٹی میں موجود لابی نے یونیورسٹی اور مجھے بدنام کیا یونیورسٹی میں موجود لابی بدعنوانی میں ملوث ہے، مجھ پر 77 کروڑ روپے کے خربرد کاالزام لگایاگیاہے بہت سی طالبات کی فیس اساتذہ اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی، پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ نورین نے کہا ہے کہ ایس بی کے یونیورسٹی 2004 سے وویمن یونیورسٹی کے طور پر بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہوں، میں میرٹ پر ایس بی کے یونیورسٹی میں وائس چانسلر تعینات ہوئی جیسے ہی میں نے چارج سنبھالا تو کوشش رہی کہ یونیورسٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن کروں،میں بلوچستان یونیورسٹی سے 20 سال منسلک رہی ہوں تعلیمی اداروں کا کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے اہم کردار ہوتا ہے چارج سنبھالنے پر علم ہوا کہ ایس بی کے یونیورسٹی میں ایک لابی ہے ایس بی کے یونیورسٹی میں موجود لابی میرے خلاف سازش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی کے یونیورسٹی میں موجود لابی بدعنوانی میں ملوث ہے ایس بی کے لابی نے تعیناتی کے وقت سے اب تک میرے خلاف مشکلات کھڑی کیں سابق گورنر بلوچستان نے انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھ سے پہلے ایس بی کے یونیورسٹی ہاسٹل میں ہراسگی کیسز ہوئے ہیں میں عزت دار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں ہراسگی کے الزامات برداشت نہیں کرسکتی ایس بی کے یونیورسٹی لابی اسٹوڈنٹس سے مختلف طریقوں سے پیسے بٹورنے میں ملوث ہے ایس بی کے یونیورسٹی میں موجود لابی نے یونیورسٹی اور وائس چانسلر کو بدنام کیا میرے خلاف سوشل میڈیا پر سازش کی گئی یونیورسٹی کی بہت سی بچیوں نے تعلیم ترک کردی ہے، انہوں نے کہاکہ مجھ پر 77 کروڑ روپے کے خربرد کاالزام لگایاگیاہے بہت سی طالبات کی فیس اساتذہ اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں ٹرانسپورٹ میں کرپشن کی گئی، غرض ہر شعبے میں بدعنوانی کی گئی یوینورسٹی کے تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کررہے ہیں ہرممکن کوشش ہے یونیورسٹی بد نام نہ ہو۔
ایس بی کے یونیورسٹی میں موجود لابی نے یونیورسٹی اور مجھے بدنام کیا ہے،پروفیسر ڈاکٹرساجدہ نورین

ٹیگز:
پروفیسر ڈاکٹرساجدہ نورین
