کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ گوادر نارتھ فری زون واٹر سپلائی منصوبے پر 60 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے منصوبے کا مقصد رواں برس آپریشن شروع کرنے کی خواہش مند کمپنیوں کی ضرورت کو فوری طور پر پورا کرنا ہے اس اہم منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا حصہ جس کی نگرانی گوادر پورٹ اتھارٹی کر رہی ہے ڈیموں سے لے کر گوادر نارتھ فری زون کی بیرونی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہاکہ منصوبے کا دوسرا حصہ چین اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے شروع کیا جائے گا گوادر نارتھ فری زون فیکٹریوں کے لئے مخصوص جگہوں تک ہوگا منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کا کام ڈیم کے پانی کو دو ذرائع سے پانی کی پائپ لائنوں کو بچھا کر پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے اس اہم منصوبے میں سوار اور شادی کور ڈیم شامل ہیں دونوں ڈیموں سے گوادر نارتھ فری زون کی باؤنڈری تک پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک بچھانے کی کل لاگت 110 ملین روپے سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان منصوبے کی تکمیل اس برس مئی تک ممکن ہو سکے گی آئندہ ایک برس میں بجلی اور پانی کے منصوبوں پر کام کا بیشتر حصہ مکمل کر لیا جائے گا گوادر کو بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا گوادر شہر اور مضافات کا دیرینہ مطالبہ ہے گوادر کی ترقی کیلئے گوادر پورٹ اتھارٹی تن دہی سے کام پر توجہ دے رہی ہے اس سلسلے میں بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت کو مزید توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کوئٹہ کے بعد گوادر عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے گوادر سی پیک سے منسلک پراجیکٹس کا مرکز ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑی توجہ حاصل کر رہا ہے اس شہر کو چینی شہر ارومچی کے معیار کے مطابق لانا ہو گا اس طرح صوبہ اپنی پسماندگی سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا گوادر پورٹ اتھارٹی اور اس سے منسلک پراجیکٹس پر کام کرنے کے لئے بلوچستان کی سکلڈ اور نان سکلڈ افرادی قوت کو بروئے کار لایا جائے تاکہ صوبے کے عوام کی معاشی مشکلات ختم ہو سکیں اور ان کا احساس محرومی ختم کیا جا سکے۔
گوادر نارتھ فری زون واٹر سپلائی منصوبے پر کام کی رفتار اطمنان بخش ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
