کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک عابد کاکڑ اور جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے اک بیان میں کہا کہ 75 سالوں سے ایک سازش کے تحت ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ 2024 کے الیکشن نے مزید سوالوں کو جنم دیا ہے جس طریقے سے الیکشن کا انعقاد کیا گیا اس سے یہی پیغام ملتا ہے کے ملک میں جمہوریت کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلوچستان میں انتہائی خراب حالات کے باوجود عوام اپنی جان کی بازی لگا کر الیکشن کے عمل کا حصہ بنی اور اس امید کے ساتھ ووٹ کاسٹ کیا کے وہ اپنا حقیقی نمائندہ ووٹ کی طاقت سے ایوان میں بھجے گا جو اسکی کی حقیقی نمائندگی کرے گا۔ پر یہاں عوام کو اپنے نمائندوں کو چننے کا حق نہیں۔ ایسے لوگوں کو جتوایا گیا جو الیکشن کمپئین کا حصہ بھی نہیں بنے نا ہی انہوں نے عوام کے بیچ جا کے ووٹ کی کوئی درخواست کی ہو اگر اس طرح کا الیکشن کرنا تھا تو بہتر ہوتا کے الیکشن نا ہی کرواتے کیونکہ عوام کا قیمتی پیسہ اور وقت ضائع کیا گیا۔ آفرین ہے حقیقی سیاسی پارٹیز کا اکابرین اور جو سیاسی ورکرز کو جو کھٹن حالات میں بھی الیکشن کے عمل کا حصہ بنے۔ لیکن افسوس ٹھیکیداروں مافیا اور عوام دشمن ٹولے اور ایسے زورآوروں کو جو حلقے کے ایک گلی بھی واقف نہیں انہیں چور دروازے کے ذریعے سلیکٹ کروایا گیا جہاں وہ بلوچستان اور عوام دشمن پالیسیز کا حصہ بنے گے۔ عجیب تماشا تھا ایک گھنٹے بعد ایک جیت جاتا ہے اور دوسرے گھنٹے بعد کسی اور کے حق میں فیصلہ دیا جاتا ہے اس الیکشن سے دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ الیکشن میں بجا مداخلت جمہوریت دشمن عمل ہے، عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا نیک شگون نہیں، ملک اس وقت تک مسائل سے نکل نہیں سکتا جب تک ملک میں مکمل جمہوری نظام نہیں اتا، وقت ہے کہ حقیقی سیاسی پارٹیز آپس کے تمام اختلافات بھلا کر حقیقی جمہوریت کے لیئے مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں۔
عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے کے خلاف آج کے آل پارٹیز ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن

ٹیگز:
کوئٹہ بار ایسوسی ایشن
