کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء حلقہ پی بی 43سے امید وار سید حسنین ہا شمی نے کہا ہے کہ ملکی تر قی کا خواب نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، بلو چستان بالخصوص کوئٹہ کے نوجوانوں اور خواتین کے مسائل کا ادراک ہے، پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر نوجوانوں اور خواتین کے مسائل کو حل اور انکے لئے خصوصی مراعات کا اعلان کریگی، کوئٹہ شہر کے جتنے بھی اہم مسائل ہیں انکو حل کرنا میری تر جیحات میں شامل ہے، عوام بالخصوص خواتین اور نوجوان 8فروری کو گھروں سے نکلیں اور پیپلز پارٹی کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں ہمار ا وعدہ ہے کہ ہم انکے مسائل کو عوام کی خواہش اور منشا کے مطابق حل کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کلی مبارک، افنان ٹاؤن، سی جی ایس کالونی سیٹلائٹ ٹاؤ ن میں کارنر میٹنگز اور پارٹی کی خواتین رہنماؤں کے وفد سے بات چیت کر تے ہوئے کہی۔ اس موقع پرقاضی قاہر،عبدالغفار،امیرمحمد،نورمحمد، میرجہانزیب بنگلزئی،شاہ زیب بنگلزئی، سکینہ عبد اللہ، فائزہ بنگلزئی سمیت دیگر بھی موجود تھیں۔ سید حسنین ہا شمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس نے ہمیشہ خواتین اور نوجوانوں کو با اختیار بنا نے کے لئے اپنا کر دار ادا کیا ہے شہید بے نظیر بھٹو سے لیکر آج تک ہم نے ہمیشہ خواتین کے کردار کو ملک کی تر قی کے لئے نا گزیر سمجھا ہے اور آئند ہ بھی خواتین کی تر قی کے سفر میں شمولیت کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں مر دوں کے مسائل ہیں وہیں ہماری خواتین بھی بہت سارے مسائل سے دو چار ہیں معاشرے کا اہم حصہ ہو نے کے نا طے مجھے خواتین کے مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور انشاء اللہ ہم کامیاب ہو نے کے بعد خواتین کے مسائل کو تر جیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور عوام کا پہلا مطالبہ یہی ہے کہ انکے مسائل کو حل کیا جائے لہٰذ کلی مبارک، افنان ٹاؤن اور سیٹلائٹ ٹاؤ ن کے عوام سے وعدہ کر تا ہوں کہ کا میاب ہو کر انکے مسائل کو انکی دہلیز پر جا کر حل کروں گا اور جس طرح انہیں دوسرے نمائندے نے مایوس کیا ہے انہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان، خواتین، علا قہ عمائدین اور بزرگ گھر گھر پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچائیں اور 8فروری کو تیر کے نشان پر ٹھپہ لگا کر پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائے۔
ملکی تر قی کا خواب نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، سید حسنین ہا شمی

ٹیگز:
سید حسنین ہا شمی
