خاران(ڈیلی گرین گوادر)بی این پی کے نامزد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی تینتیس خاران ثناء بلوچ نے گواش خاران کے علاقے کلی سالو خان طوقی سے میر سالو خان، خداداد دادالرحمان، اختر طوقی، عطاالرحمان عبدالرازق، کی بی این پی میں شمولیت و کلی علی محمد بیدی میر علی محمد،کلی سراوان سے حاجی نوراحمد مینگل حاجی عبدالحمید مینگل حاجی میر بدل خان مینگل بلال احمد مینگل و دیگر کی حمایتی پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ کی بازیابی کے لیئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں بی این پی کو الیکشن سے دور کرنے کی ناکام کوششیں کی گئی لیکن حکمران یہ بات بھول گئے کہ بی این پی نے ہر ظالم و جابر کے دور میں مقابلہ کیا لیکن آج تک بلوچ اور بلوچستان کے لیئے جمہوری جہدوجہد سے دست بردار نہ ہو سکا آج بلوچستان کے کونے کونے سے ہر زی شعور انسان بی این پی پی کو بلوچستان کے مسائل سے نجات دہندہ جماعت سمھجتی ہے انھوں نے کہا کہ ووٹ ایک امانت اور آرہ ہے جسکے درست استعمال ہی علاقہ کے ناموں اور انکے باسیوں کی سربلندی آشکار ہوتی ہے ہم نے اپنے ایم پی اے شپ میں دیہی علاقوں میں عوام کو سہولت کی فراہمی کے لیئے اجتماعی اقدامات اٹھائے جو پینتیس سال والوں نے اپنے چھ باریوں میں نہیں اٹھائے انھوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو حق و باطل کے درمیان مقابلہ ہے فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور بی این پی نے اہل خاران میں ایک نظریاتی اور سیاسی شعور کو پروان چڑھا کر ہر نوجوان پیر و کماش کو نمائندوں کے انتخاب کے لیئے درست فیصلوں کی جامب ترغیب دلائی جو مخالفین پر گران گزر رہی ہے انھوں نے کہا کہ دوہزار تیرہ سے سترہ تک لوگ بدامنی و لوٹ مار کے باعث سرے شام گھروں میں محصور ہوا کرتے تھے ہم نے دوہزار اٹھارہ سے تیئیس تک ان خوف پھیلانے اور لوٹ مار کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا انھوں نے کہا کہ بی این پی بلوچستان کی حقیقی سیاسی جماعت ہے بی این پی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت بلوچستان کا ہمددر نہیں عوام آٹھ فروری کو اپنے پسندیدہ جماعت بی این پی کے امیدواروں کے انتخابی نشان کہلاڑہ پر مہر ثبت کرکے ثابت کر دینگے کہ خاران شعور،زانت،عقل و فہم رکھنے والوں کا ڈیرہ ہے لوگ جھوٹ فریب غنڈہ گردی کی سیاست کو کسی صورت زندہ رکھنا نہیں چاہتے ثناء بلوچ نے کہا کہ مخالفین لاکھ پروپگنڈہ کر لیں مگر آٹھ فروری کو سیاسی کارکن انھیں شکست فاش سے دوچار کرینگے۔
بی این پی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت بلوچستان کا ہمددر نہیں ، ثناء بلوچ

ٹیگز:
ثناء بلوچ
