ہرنائی (ڈیل گرین گوادر) ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آمریت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں پشتونخوامیپ اور اس کے اکابرین کی ہیں،خان شہید محض اس مطالبے کی پاداش میں ایوبی آمریت میں چودہ سال قید بامشقت رہے کہ ہر بالغ مرد و عورت کو ووٹ کا حق دیا جائے اس جائز و برحق مطالبے پر جیل کی سزائیں تو اپنی جگہ ساتھ ہی کفر کے فتوے بھی خان شہید کے خلاف صادر ہوتے رہے، ان تمام تر مشکلات کو سہنے کے بعد جیل سے رہائی کے ساتھ ہی ووٹ کی پرچی ساتھ لے آئے لیکن بدقسمتی سے روز اول سے ملک میں ووٹ کے تقدس کی پامالی جاری ہے،پشتونخوامیپ اپنے اکابرین کی پیروکاری کرتے ہوئے ووٹ کی تقدس کو ہر قیمت پر بحال کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ان خیالات کا اظہار پشتونخوامیپ شارگ کلی فیض آباد میں نصراللہ ترین اور ظریف ترین کی قیادت میں 62 افراد،کلی بندو میں عباس خان کی قیادت 20 افراد، کلی وہاب تنگی میں حاجی پیر محمد کے قیادت میں 30 افراد، کلی مرغہ میں عالم خان کے قیادت میں 8 افراد اور شیرو محلہ شارگ بازار میں ظفراللہ کی قیادت میں 11 افراد کی پشتونخوامیپ میں شمولیت کے مختلف اجتماعات سے پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل حلقہ پی بی 7 زیارت کم ہرنائی کے امیدوار عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری حفیظ ترین،ضلعی معاون حاجی لعل محمد خوستی،عنایت لالا،علاقائی سیکرٹریز حاجی امین اللہ علیزئی، عطااللہ،ناصر شاہ، نظام عسکر، ضیاالحق ترین،ملک سہراب ترین، حاجی پیر محمد،فتح محمد تارنڑ اور حاجی ادریس میانی نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ آج ووٹ مانگنے آنے والے صرف 8 فروری الیکشن کے دن تک آپ کے ہمدرد ہیں 8 فروری کے بعد نہ آپ کو پہچانیں گے اور نہ پھر آپ کے پاس آئینگے عوام ایسے مداریوں اور عوام کے ضمیروں کو پیسوں سے خریدنے کا اپنے ووٹ کے ذریعے محاسبہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ سابق ورزاء نے کرپشن کمیشن اور عوامی فنڈز کے اربوں روپے چوری کرنے کے بعد اب انھی پیسوں سے ووٹ خریدنے،عوام کو ٹرانسفرمر بجلی کمبوں، واٹر ٹینکی دینے کے جھانسے دینے اور انھیں ورغلانے کے لیے سرگرم عمل ہیں ہم الیکشن کمیشن کو خبردار کرانا چاہتے ہیں کہ پیسوں کے ذریعے عوام کے ضمیر خریدنے والوں کے خلاف فی الفور اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری مشکوک تصور ہوگی اور عوام ایسے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ مقررین نے کہا کہ چمن میں تین ماہ سے ہزاروں لوگ اپنے جائز مطالبات کے حق میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں لیکن بے حس حکمران ٹھس سے مس نہیں ہورہی جبکہ دیگر تمام راستے ماہ سوا چمن کہ کھولے ہیں۔ چمن دروازے کی بندش کا واضح مقصد چمن کے عوام کی روزی روٹی چیننے کے سوا اور کچھ نہیں ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلاتاخیر چمن دروازے سمیت افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستوں کو کھولا جائے۔مقررین نے کہا کہ نئے شامل ہونے والے ساتھوں کو دل کی عطا گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نئے شامل ہونے والے ساتھی پارٹی پروگرام فرد فرد اور گھر گھر پنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تک تمام پشتون غیور ملت کو اپنے قومی پارٹی پشتونخوامیپ کے جھنڈے تلے متحد نہیں کرینگے تب تک قومی غلامی سے نجات بولان سے چترال تک متحدہ قومی واحدت اپنے قدرتی وسائل پر واک واختیار حاصل کرنا ممکن نہیں۔
بولان سے چترال تک متحدہ قومی واحدت اپنے قدرتی وسائل پر واک واختیار حاصل کرنا ممکن نہیں،عبدالرحیم زیارتوال

ٹیگز:
عبدالرحیم زیارتوال
