تربت(ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ نیشنل پارٹی کو اگرعوام نے مینڈیٹ دی تونیشنل پارٹی نیپ حکومت کی طرح کردار اداکرکے بلوچ قومی تشخص اورقومی مفادات کے تحفظ کویقینی بنائے گی، کیونکہ بلوچ کا سب سے بڑا مسئلہ قومی وجود اورتشخص کی بقاء ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کی شام آپسر کولواہی بازار میں احسان شاہ گروپ کے سرکردہ رہنما سیٹھ محمد ابراہیم بمعہ فیملی، ڈاکٹر محمد حیات بلوچ بمعہ فیملی، سیٹھ نصیر احمد بمعہ فیملی کی اپنے خاندان اور درجنوں ساتھیوں سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،ڈاکٹر مالک بلوچ نے نیشنل پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل پارٹی نے حالیہ الیکشن کے حوالے سے اپنا الیکشن منشور تیارکرلیا ہے، نیشنل پارٹی کامنشور جان محمدبلیدی اور اس کی ٹیم نے تیارکیا ہے، نیشنل پارٹی کو موقع ملاتو اپنے منشورپر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گی کیونکہ نیشنل پارٹی کوبلوچستان کے مسائل ومشکلات کا اچھی طرح ادراک ہے اس وقت بلوچستان کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑا مسئلہ بلوچ قومی وجود،بلوچ سرزمین کے تحفظ کاہے وسائل سے مالامال سرزمین کے باشندے بے روزگاری اوربھوک کا سامنا کررہے ہیں نیشنل پارٹی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ سماج کے قیام کیلئے کوشاں ہے، انہوں نے کہاکہ باپ پارٹی اور اس کی باقیات الیکشن ملتوی کرانے کیلئے اپنی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں مگر ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ اورالیکشن کمیشن کے حکم پر الیکشن وقت مقررہ پر ہوں گے، انہوں نے کہاکہ گزشتہ 5سال کرپشن اورلوٹ مار کی نذرہوگئے محکمہ صحت کے7ارب روپے کمیشن کے مسئلہ پر جھگڑا کے باعث لیپس ہوگئے اگریہ 7ارب روپے بلوچستان میں صحت کے شعبہ پر ایمانداری سے خرچ کئے جاتے تو بلوچستان کے تمام ہسپتالوں جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہوسکتے تھے، مگران کی سوچ کمیشن اورکرپشن سے آگے نہیں جاتی، ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہاکہ بلوچستان بھر میں نیشنل پارٹی بھرپور اندازمیں الیکشن مہم چلارہی ہے مکران ڈویڑن کے ساتھ ساتھ خیرجان بلوچ، سردار کمال خان بنگلزئی، سردار اسلم بزنجو، میر عبدالکریم کھیتران سمیت دیگر بھرپور مہم میں مصروف ہیں اس بار انشاء اللہ نیشنل پارٹی کو عوام بھاری مینڈیٹ دیکر اسمبلی میں پہنچائیں گے، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمدبلیدی نے کہاکہ بلوچستان اس وقت جن گھمبیر حالات سے دوچار ہے یہ الیکشن آخری موقع ہیں کہ عوام نیشنل پارٹی کو مینڈیٹ دیکر بلوچستان کو ان حالات سے نکال کر ایک بہترمستقبل کی طرف گامزن کریں، یہ ہم سب کی قومی اور وطنی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان اوربلوچ قوم کو ان مشکلات سے نکالیں اگر اس الیکشن میں بھی ہم بلوچستان کونہ بچاسکے تو پھر یہ لٹیرے وہ کچھ کریں گے کہ جس کاتصور محال ہے، نیپ کو ایک موقع ملاتھا جس نے بلوچستان کو بچالیا اب حالات پھر ایک ایسی نہج پر پہنچادئیے گئے ہیں کہ اب پھر بلوچستان کو بچانے کی ضرورت ہے کیونکہ 2002ء کے بعد مشرف رجیم اور اس کی پیداوارمسلسل بلوچستان کوتباہی کے گھڈے کی جانب دھکیلتے آرہے ہیں انہی کی وجہ سے 2008ء میں حالات اس حدتک خراب ہوگئے تھے کہ سیاسی جماعتوں کو الیکشن کابائیکاٹ کرنا پڑا جس پر یہ پھر مسلط ہوگئے، 2018ء میں بھی انہی کومسلط کرکے رہی سہی کسرپوری کرلی گئی انہوں نے بلوچستان کے تمام وسائل کو اونے پونے داموں نیلام کردیا، حتیٰ کہ نوکریاں بھی فروخت ہونے لگے بلوچ کے ہاتھ سے سب کچھ جارہاہے بلوچ نان شبینہ کے محتاج بنادئیے گئے ہیں مہنگائی اوربے روزگاری آخری حد کو پہنچ چکے ہیں بارڈر پر ٹوکن مافیا کا راج ہے، سابق وزراء اور ان کے حواری ٹوکن کے کاروبارمیں مصروف ہیں محنت غریب کرتاہے ثمر یہ لوگ کھاتے ہیں، بلوچستان میں لگی آگ کوبجھانے کیلئے ہمیں گھرگھر جانا ہوگا ہرایک کی منت سماجت کرنی ہوگی، انہوں نے کہاکہ جولوگ صبح کسی پارٹی میں شام کسی پارٹی میں ہوتے ہیں اور ٹکٹ کسی پارٹی کالیتے ہیں انہیں بلوچ کا کوئی دردنہیں یہ صرف اپنی لوٹ مار اور پیٹ کیلئے پریشان ہیں بلوچستان اوربلوچ کو ڈاکٹر مالک اورنیشنل پارٹی ہی بہترمستقبل دے سکتے ہیں،نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر کہدہ اکرم دشتی نے کہاکہ باپ اور اس کے حواری چند سینیٹر نے موقع پاکر الیکشن ملتوی کرانے کی قرار داد منظورکرایاہے کیونکہ یہ الیکشن سے خائف ہیں انہوں نے کہاکہ نواب بگٹی کی وزارت اعلیٰ کے دوران سرداراخترمینگل اورپارٹی فیصلے کے مطابق میں نے اور ڈاکٹر مالک نے نواب بگٹی کو اپنے استعفیٰ پیش کئے مگر حالیہ دنوں اخترمینگل نے اپنا گورنر اسلام آباد بھیجا کہ جاؤ لاپتہ افراد کامسئلہ حل کراؤ یا پھر استعفیٰ دے کر واپس آؤ مگر لاپتہ افراد کامسئلہ تاحال برقرار ہے مگر گورنر استعفیٰ سمیت غائب ہے، مسنگ پرسنز کامسئلہ قومی مسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ مینگل گزشتہ5 سالوں کے دوران حکومت کا حصہ رہا، اپنی 6نکات کے ساتھ عمران حکومت میں شامل تھے، عدم اعتمادکے بعد شہباز شریف کی حکومت میں وزارتوں کے مزے لئے اور قدوس بزنجو حکومت کا حصہ رہے بلکہ قدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ کی خریداری میں بھی شامل رہے، شمولیتی پروگرام سے نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فداحسین دشتی، جسٹس (ر) شکیل احمد بلوچ، ریجنل سیکرٹری مکران واجہ ابوالحسن، مرکزی کمیٹی کے رکن نثار احمد بزنجو، قائم مقام ضلعی صدر طارق بابل، حاجی غلام یاسین، بی ایس او پجارکے مرکزی کمیٹی کے رکن باہوٹ چنگیز، ڈاکٹر حیات بلوچ نے بھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض تحصیل آپسرکے جنرل سیکرٹری احسان درازئی نے سرانجام دئیے، شمولیتی پروگرام میں ٹھیکیدار عیسیٰ بمعہ فیملی، کونسلر عبدالصمد بمعہ فیملی، ماما سائین داد بمعہ فیملی، ڈاکٹر خیر بخش بمعہ فیملی، محمد اقبال خدابخش بمعہ فیملی، امیربخش یارجان بمعہ فیملی، واجہ عبدالستار بمعہ فیملی، ڈاکٹر محمد اسماعیل بمعہ فیملی، راشد علی عیسیٰ بمعہ فیملی، داد بخش محمد یوسف بمعہ فیملی، محمد اسماعیل غمانی بمعہ فیملی، فقیر غمانی بمعہ فیملی، عصاء لقمان بمعہ فیملی، قادربخش سخی داد بمعہ فیملی، حسین محمد علی بمعہ فیملی، محمد اسلم بشیر احمد کلگ بمعہ فیملی، عبدالحمید شاہ مراد بمعہ فیملی، حاجی عبدالغفور بمعہ فیملی، رحیم خان بشام بمعہ فیملی، خاطر قادربخش بمعہ فیملی، مہر اللہ بزن عمران بمعہ فیملی، مرادلقمان بمعہ فیملی، گنج بخش لعل بخش بمعہ فیملی، الطاف دار جان بمعہ فیملی، ماسٹر شریف دلمراد بمعہ فیملی، ظہور دلداربمعہ فیملی سمیت دیگر شامل تھے، پروگرام میں چیئرمین حلیم بلوچ، محمد جان دشتی، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ارکان ملابرکت بلوچ، فداجان بلیدی، بلخ شیرقاضی، قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ، ظہور بلوچ ایڈووکیٹ، تحصیل آپسرکے صدر اقبال بلوچ، محمدطاہربلوچ، سید عبدالصمد ملائی، جمال شکیل، بی ایس اوپجارکے چیئرمین بوہیر صالح، نیشنل پارٹی کیل کور کے رہنما عبدالواحد، بالاچ برکت، حاجی اقبال علی محمد، حاجی ہاشم، کونسلر کہدہ محمدنور، عثمان مالک، محراب مالک، جلال مالک، نعیم عادل، حفیظ علی بخش ودیگر بھی موجودتھے۔
نیشنل پارٹی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ سماج کے قیام کیلئے کوشاں ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
