کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ طاقت کے عدم توازن سے ہی پیدا ہوا ہے اسرائیل نے طاقت کے بل بوتے پر فلسطین پر جنگ مسلط کی ہوئی جب تک فلسطین بھی اسرائیل کی طرح ایک طاقتور ملک نہیں بن جاتا فلسطین کا مسئلہ حل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا دنیا بھر میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے اور اسی وجہ سے اسرائیل فلسطین پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہاکہ فلسطین پر اسرائیلی بربریت کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب مسلمان ممالک کی مشترکہ فورس اسرائیل پر اتنی ہی شدت سے حملے کرے گی جس شدت سے اسرائیل فلسطین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اسرائیل سیاسی اور سفارتی زبان نہیں سمجھتا اسے طاقت کی اسی زبان سے سمجھانا ہوگا جس کا وہ مستحق ہے طاقت استعمال کرنے والے کو طاقت ہی کی زبان سمجھ آ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں بھی جان کے بدلے جان اور مال کے بدلے مال اور دیت کا جو قانون موجود ہے وہ برے، ظالم اور غاصب کو سبق سکھانے کے لئے ہی ہے اس قانون کے مطابق ہی دنیا بھر کے مسلمان اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر فلسطین کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں اگر دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے یہ فیصلہ نہ کیا تو اسرائیل کی بربریت کا خاتمہ کبھی نہیں ہوگااسرائیل فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا ہوا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا دنیا کا کوئی ملک سفارتی اور سیاسی طریقے سے اسرائیل کی بربریت ختم نہیں کروا سکا مسلمان حکمرانوں کا بودا پن فلسطینیوں کو اسرائیل کی بربریت سے نہیں بچا سکا مسلمان ممالک نے نیٹو طرز کی فورس اس لئے بنائی تھی کہ اگر کوئی ملک کسی مسلمان ملک پر حملہ آور ہوگا تو مسلمان ملکوں کی یہ مشترکہ فورس اس حملہ آور ملک کے حملے کا موثر جواب دے گی مسلمان ملکوں نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت سے سبق نہ سیکھا تو وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل اور دیگر غیر مسلم ملک باقی ماندہ مسلمان ممالک پر حملہ آور ہونے لگیں گے اور انہیں چن چن کر ختم کر دیں گے۔
دنیا بھر کے مسلمان اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر فلسطین کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
