بارکھان(ڈیلی گرین گوادر)بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاجی ریلی تیسرے مرحلے میں باکھان پہنچ گیا بارکھان میں عوام نے ریلی کا استقبال کیا استقبال کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں نے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف سے ذولفقار ملغانی سمیت تین طالب علموں کے لاپتہ ہونے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہمارے راستہ کو نہیں روکا جاسکتا ہم اسلام آباد ضرور جائیں گے اس سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوہلو میں احتجاجی ریلی نکالی جہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ریلی کے شرکا سے ماہ رنگ بلوچ گلزار دوست میر نعمت مری علی شیر زرکون ملک گامن مری میر قیوم مری باول خان مری سمیت مسنگ پرسن کے ورثا نے خطاب کیا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام بلوچ مسنگ پرسن کو فوری طور پر رہا کیا جائے اگر کوئی قصور ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے بلوچستان کے لوگوں کو ان کے صوبے کے بنیادی حقوق فراہم کی جائے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر کوہلو میں مکمل شٹر ڈاون رہی بعد ازاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ریلی کوہلو سے روانہ ہوکر بارکھان پہنچی جہاں بڑے پیمانے پر لوگوں نے ان کا استقبال کیا استقبال کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں دفعہ 144کا نفاذ بد نیتی پر مبنی ہے انہوں نے کہا ذولفقار ملغانی سمیت چار طالب علموں کو گزشتہ شب لاپتہ کرنا حکومت پنجاب کی بوکھلاہٹ ہے انہوں نے کہا کہ شہید بالاچ بلوچ سمیت تمام شہدمیں شہادت اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا ہم اسلام آباد کے حکمرانوں کو بلوچ لاپتہ افراد کی بازیاب کریں اگر پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
ہمارے راستے کو نہیں روکا جاسکتا ہم اسلام آباد ضرور جائیں گے،بلوچ یکجہتی کمیٹی

ٹیگز:
بلوچ یکجہتی کمیٹی
