کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ چین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں دو ایل این جی منصوبوں میں پچاس کروڑ ڈالرز تک سرمایہ کاری کا قوی امکان ہے سرمایہ کاری ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر، سپلائی اور ترسیل میں کرنے کا منصوبہ ہے،سرمایہ کار کمپنیوں میں چائنا نیشنل کیمیکل انجینئرنگ اور یو اے ای کی کمپنی بائیسن کی ذیلی کمپنی ایل این جی فلکس شامل ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادرنے کہا کہ کمپنیوں نے ورچوئل اور نان ورچوئل ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے کمپنیاں کراچی پورٹ پر ورچوئل ایل این جی منصوبہ لگانا چاہتی ہیں کمپنیوں کا ایل این جی ریسیونگ ٹرمینل اور ایل این جی سٹوریج سہولت کے قیام کا منصوبہ ہے ورچوئل منصوبے کے تحت کراچی سمیت دیگر علاقوں میں گیس سپلائی کے لئے ورچوئل ٹرک استعمال کرنے اور دوسرے ایل این جی منصوبے میں پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہمی کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کا سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی بجائے اپنا گیس ترسیلی نظام قائم کرنے کا منصوبہ ہے متحدہ عرب امارات اور چین کی پاکستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی وجہ سے پاکستان آئندہ چند برسوں میں اقتصادی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا توانائی کی فراہمی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے پاکستان کو توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر صورت توانائی کا خاطر خواہ انتظام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان خوشحالی کی تمام منازل تیزی سے طے کر سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی محمدعبدالقادرنے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں توانائی کا شعبہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے توانائی کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے کئی برس سے پاکستان توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی ہے چین اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے عالمی اقتصادی مسابقتی دوڑ میں شامل پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پاتے ہی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگے گا۔
یو اے ای اور چین پاکستان میں دو ایل این جی منصوبوں میں پچاس کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گے، محمد عبدالقادر

ٹیگز:
محمد عبدالقادر
