کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام شمولیتی پروگرام حاجی سعید خان رودینی اسٹریٹ کلی بڑو سریاب میں زیر صدارت سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری مہمان خاص پارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر چیئرمین جاوید بلوچ اعزازی مہمان خاص پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر حاجی باسط لہڑی تھے شمولیتی پروگرام سے غلام نبی مری چیئرمین جاوید بلوچ حاجی باسط لہڑی ملک محی الدین لہڑی طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ ڈاکٹر علی احمد قمبرانی میر اکرم بنگلزئی پرنس رزاق بلوچ میر مصطفی سمالانی میر غلام رسول مینگل رضا جان شاہی زئی میر نیاز رودینی حاجی حضور بخش رئیسانی اور ماما رشید رودینی نے خطاب کرتے ہوئے پارٹی میں نئے شامل ہونے والے قبائلی رہنماؤں اور علاقے کے درجنوں نوجوانوں کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر مبارکباد پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ بی این پی بلوچستان کوئٹہ سریاب اور کلی بڑو کے سب سے مضبوط سیا سی گڑھ ہے جنہوں نے اس سیاسی گڑھ میں ہر مشکل کھٹن ادوار میں اپنے لوگوں کو نا انصافیوں ظلم وجبر کے سامنے تن و تنہا نہیں چھوڑا اور اپنے عوام کے ساتھ رہ کر ہر قسم کی زیادتیوں کے لئے موثر انداز میں آواز بلند کر تے ہوئے سیاسی قومی جمہوری جدوجہد کی طرف راغب متحد و منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ بہت سے نام نہاد مڈل کلاس موقع پرست مفاد پرست ٹولے اور وفاق کے نام پر لوگوں کو جمہوریت کے نام پر دھوکہ دینے والے ان ذہنی کیفیت اور پریشانی کے صدمے سے تو چار ہیں کہ انہوں نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں یہاں کے عوام کی فلاح وبہود، تر قی اور خوشحال کے لئے کچھ نہیں کیا جو بی این پی نے سر دار اختر جان مینگل کی قیادت میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اپوزیشن میں رہ کر بلوچ قوم اور بلو چستانی عوام کے سیاسی معاشی، معاشرتی مسائل کو جس انداز میں اجاگر کیا جس کے نتیجے میں یہاں کے عوام آئے روز جوق درجوق پارٹی میں شمولیت اختیا ر کر کے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بی این پی کا اصولی موقف بیانیہ جدو جہد اور قربانیاں دیگر پارٹیوں سے بلکل مختلف ہے۔ مقرین نے کہا ہے کہ ہم یہ واضح طورپر بتانا چاہتے ہیں کہ دیگر جماعتیں صرف اور صرف الیکشن جب سر پر آتے ہیں تو وہ سرگرم عمل رہتے ہیں جبکہ مشکل اور کھٹن حالات میں بلو چ قوم اور بلو چستان کے کیس کی دفاع بی این پی کر تی ہے۔ مقررین نے کہا کہ یہاں کی سیاسی پارٹیوں سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ ان با اختیار قوتوں سے ہے جو 74سالوں سے بلو چستان کے وسائل کی لوٹ کسوٹ کی توسیع پسندانہ بدترین استحصال کی پالسیوں پر گامزن ہے،وڈھ کا مسئلہ بلوچستان کے جملہ قومی سیاسی حقوق کی جدو جہد سے جڑا ہوا ہے جن میں بلو چوں کی جبری گمشدیوں سے لیکر ماروائے آئین و قانون سیاسی کارکنوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل و غارت گیری، ٹارگٹ کلنگ،بلوچستان کے جملہ وسائل کا اختیار بلوچستانیوں کے پاس ہونا، مذہبی منافرت، فر قہ واریت، بنیا د پرستی، اغواء برائے تاوان، ریاستی سرپرستی میں مسلح جہتوں کے خاتمے پر مبنی ہے۔ مقررین نے جعلی مقابلہ میں تربت کے بالاچ بلوچ اور ان کے دوستوں کی شہادت پر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کے سردار اخترجان مینگل کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے تمام بلوچ مسنگ پرسن کو بازیاب کی جائے۔اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سوشل میڈیا کمیٹی کے ممبر اسد سفیر شاہوانی ملک عبدالسلام رودینی محبوب رودینی ڈاکٹر شبیر احمد قمبرانی ظفر نیچاری میر الطاف لہڑی حاجی عبدالحئی مینگل غلام سرور لانگو شارین لہڑی کامریڈ مرتضی مینگل کامریڈ نزیر دھوار یار جان بلوچ پرنس بابل سمالانی مصطفی مری غلام رسول مری شکیل مینگل نعمت اللہ شکاری علاودین سمالانی اور دیگر دوست موجود تھے۔نئے شمولیت کرنے والے قبائلی معتبرین بلوچ قومی لیڈر سردار اختر جان مینگل کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے میر نیاز رودینی کے سربراہی میں شمولیت کرنے والوں میں نصراللہ رودینی امان اللہ رودینی نصیب اللہ رودینی نثار احمد نور احمد اکرام عطا اللہ رودینی نصیر احمد رودینی ظفر اللہ رودینی کلیم اللہ نعمت اللہ نور اللہ اسرار رودینی محمد عمر محمد انور غلام فاروق محمد اسحاق سیف اللہ امداد رودینی یوسف رودینی سفر خان احسان اللہ ابراہیم اور صادق رودینی عبدالمنان نعمت اللہ اور دیگر شامل ہیں۔
سردار اخترجان مینگل کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے تمام بلوچ مسنگ پرسن کو بازیاب کی جائے، جاوید بلوچ

ٹیگز:
جاوید بلوچ
