نوشکی(یو این اے)پولیس چھاپے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق خاتون کے لواحقین نے جمعہ کے روز آر سی ڈی شاہراہ پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی میر بہادر خان مینگل اور سنٹرل کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی کے ہمراہ میت کو سڑک پر رکھ کر دھرنا دیدیا جس کے باعث پاک ایران آر سی ڈی شاہراہ صبح آٹھ بجے سے دن ساڈھے بارہ بجے تک آمدورفت کے لیے بند رہی احتجاج کے باعث گاڈیوں کی لمبی قطار لگ گئیں سینکڑوں مسافر پھنس گئے جھنیں کافی مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ایس پی اللہ بخش بلوچ مظاہرین کے ساتھ مزاکرات کی جو ناکام ہوئے اس کے بعد ڈپٹی کمشنر حبیب اللہ اور اسسٹنٹ کمشنر شہزاد زہری نے طویل مزاکرات کے بعد لواحقین کو مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے دھرنا ختم کرکے آر سی ڈی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جمیعت علما اسلام کے رہنما سابق صوبائی وزیر حاجی میر غلام دستگیر بادینی سمیت سیاسی و سماجی رہنماں قبائلی معتبرین نے لواحقین سے اظہار ہمدردی کے لیے دھرنا میں شرکت کی یاد رہے جمعرات کے روز کلی قادر آباد میں پولیس نے اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا اس دوران فائرنگ ہوئی جس سے خاتوں زخمی ہو گئی جنھیں علاج کے لیے کوئیٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
نوشکی،پولیس چھاپے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق خاتون کے لواحقین کا دھرنا

ٹیگز:
نوشکی
