کوئٹہ(ڈیلی گرین گوا در) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بے روزگاری پہلے ہی بہت زیادہ ہے دوسری طرف چمن بارڈر پر حکومت نے پاسپورٹ کی شرط عائد کرکے مزید لاکھوں افراد کو بے روزگار کردیا ہے چمن بارڈر پرپاکستان اورافغانستان آنے اورجانے والوں کیلئے پاسپورٹ کی شرط کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے چمن دھرنے کے شرکاء کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں،صدیوں سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں رہنے والے افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی اورگرفتاریاں فوری طور پر بند کی جائیں پاکستان میں 15سے زائد ممالک کے مہاجرین ہیں لیکن صرف افغان مہاجرین کی بے دخلی اور گرفتاریاں سمجھ سے بالاتر ہیں جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرتیں بڑھیں گی جس کا فائدہ دشمن اٹھاسکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان امن جرگے کے زیراہتمام چمن دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات کے حق میں منعقدہ احتجاج مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی مظاہرے سے درانی قومی اتحاد کے چیئرمین عباس درانی،محب للہ درانی اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ چمن پاک افغان بارڈر کے دونوں جانب آباد پشتونوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں سرحد کے دونوں اطراف آباد لوگ کاروبار کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اورافغانستان آتے جاتے ہیں نگران وفاقی حکومت نے چمن پاک افغان بارڈر پر آنے جانے والوں کیلئے پاسپورٹ کی شرط عائد کرکے لاکھوں افرادکو بے روزگار کردیا ہے بلوچستان میں انڈسٹریز نہ ہونے سے اکثر لوگوں کا کاروبار باڈر سے وابستہ ہے بارڈ ر بند ہونے سے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں اور گھروں میں نوبت فاقہ کشی پر آگئی ہے۔ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے بارڈر کے دونوں جانب آباد پشتونوں کیلئے پاسپورٹ کی شرط عائد کرنا کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی شرط عائد کرنے کے خلاف چمن کے لاکھوں شہری گزشتہ 34دنوں سے چمن میں پرامن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں لیکن تاحال انکے جائز مطالبات ابھی تک تسلیم نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی اور گرفتاریاں قابل مذمت ہیں پاکستان میں اسوقت 15سے زائد ممالک کے مہاجرین رہائش پذیر ہیں لیکن ملک بھر میں صرف اور صرف افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی اورانہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے حکومت فوری طور پر مہاجرین کی گرفتاریوں اور جبری بے دخلی کا سلسلہ بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40سال سے اسمبلیوں میں جانے والے قوم اور مذہب پرستوں نے اسمبلی میں آج تک کوئی بل پیش نہیں کیا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے افغان مہاجرین کا مستقبل کیا ہوگا پاکستان میں پیدا ہونے والے افغانستان کے رسم و رواج سے بھی واقف نہیں ہیں کیونکہ وہ پاکستان میں پیدا اورچھوٹے بڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ چمن دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات تسلیم اور پاک افغان بارڈر کے دونوں جانب آباد پشتونوں کے آنے جانے کیلئے پاسپورٹ کی شرائط واپس اور افغان مہاجرین کی گرفتاریوں اور جبری بے دخلی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
چمن دھرنے کے شرکاء کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں،لالہ یوسف خلجی

ٹیگز:
لالہ یوسف خلجی
