کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہوگئیں،ہسپتال میں مریضوں سرنج اور ڈریپ بھی میڈیکل اسٹوروں سے مجبور، گزشتہ مالی سال میں ادویات نہ خریدنے جانے سے سات ارب روپے لیپس ہوگئے تھے جبکہ رواں مالی سال کے چار ماہ گزر جانے کے باوجود صرف 30 فیصد ادویات خریدی جاسکی ہیں۔بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کا بحران سر چڑھ کر بولنے لگا ہے کوئٹہ کے دونوں بڑے ہسپتالوں سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس سمیت صوبے کے تمام آر ایچ سی،بی ایچ یو ز میں ادویات میسر نہیں ہے،مریضوں کو سرنج اور ڈریپ بھی میڈیکل اسٹوروں سے خرید کر لانی پڑ رہی ہیں ہسپتالوں میں صفائی کیلئے سامان میسر نہ سے وارڈ ز میں کیڑوں کی بھرمار ہوگئی، بی ایم سی میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کو عملہ ہسپتال میں رکھنے کے بجائے گھر بھجوارہا ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں ادویات نہ خریدنے جانے سے سات ارب روپے لیپس ہوگئے تھے جبکہ رواں مالی سال کے چار ماہ گذر جانے کے باوجود صرف 30 فیصد ادویات خریدی جاسکی ہیں جس کیوجہ سے ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ہے۔
بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات ناپید، مریضوں سرنج اور ڈریپ بھی میڈیکل اسٹوروں سے خریدنے پر مجبور

ٹیگز:
ادویات ناپید
