کوہلو(ڈیلی گرین گوادر) ضلع کوہلو میں خود ساختہ مہنگائی سے عوام عاجز آگئے ہیں قائم کردہ پرائس کنٹرول کمیٹی اور سرکاری نرخ نامہ دعووں تک محدود ہو کر رہ گئے۔تفصیلات کے مطابق ضلع کوہلو میں گزشتہ کئی ماہ سے اشیاء خوردنی کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئیں ہیں جس سے شہریوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول امتحان بن گیا ہے خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کرکے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے دعوے محض دعوں تک محدود ہوگئے ہیں شہر میں تاجروں نے سرکاری نرخ نامہ کو نظر انداز کرکے ہوا میں اڑا دیا ہے من پسند نرخ پر اشیاء خوردنی،پھل سبزیاں اورگوشت فروخت کئے جارہے ہیں شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بڑھتے مہنگائی سے شہریوں کا جینا محال ہوگیا ہے مگر ناجانے کیوں انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے جبکہ عملدرآمد کا فقدان لمحہ فکریہ ہے اس کے برعکس اگر ضلع کے ملحقہ اضلاع کا جائزہ لیا جائے تو وہاں قیمتیں اعتدال میں ہیں اور خود ساختہ مہنگائی نہ ہونے سے شہریوں کی سفید پوشی برقرار ہے مگریہاں خود ساختہ مہنگائی سے متواسط طبقہ دب چکا ہے متعلقہ ذمہ دار منظر عام سے غائب ہیں شہریوں نے مزید بتایا کہ کہی بھی پھل و سبزیوں اور گوشت،دودھ دہی کے نرخ اتنے نہیں ہیں مہنگائی سے انکار نہیں ہے مگر خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا پرائس کنٹرول کمیٹی کی اولین ترجیح ہونی چاہئے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے نرخ نامہ پر کہی بھی عملدارآمد نہیں ہوا ہے جس سے شہریوں کے تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان،کمشنر سبی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر کوہلو سے مطالبہ کیا ہے کوہلو میں خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں تاکہ شہریوں کو دووقت کی روٹی کا حصول ممکن ہو۔
کوہلو، اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، پرائس کنٹرول کمیٹی محض دعوں تک محدود

ٹیگز:
کوہلو
