تربت(ڈیلی گرین گوادر) نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا ہے کہ پہاڑوں اور بیرون ملک بیٹھے ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لئے تیار ہیں وہ آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوکر ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاہم دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر سے کوئی رعایت نہیں ہوگی تربت میں بے گناہ مزدوروں کا قتل انسانیت سوز اقدام اور بلوچستان کی روایات کے منافی ہے اس واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا پیر کو یہاں امن و امان سے متعلق اجلاس کے بعد مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں تربت میں بے گناہ مزدوروں کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا روز وقوعہ یہاں آنا چاہتا تھا تاہم ضروری سمجھا کہ پہلے میتوں اور واقعہ میں زخمیوں دیگر مزدوروں اور ان کے لواحقین کو ان کے آبائی شہر بھیجوایا جائے اس لئے پہلے روز ہم نے حکومت بلوچستان کے سرکاری جہاز کو زخمیوں اور شہداء کے ورثاء کے ہمراہ ملتان بھیجا اور اس سے اگلے روز کوئٹہ سے ہیلی کاپٹر پر شہید مزدوروں کی میتیں ملتان بھیجوائی گئیں مجھ سمیت ہر فرد کے لئے بے گناہ مزدوروں کا قتل ایک تکلیف دہ واقعہ تھا علاقے کے ایس پی کو روز اول معطل کردیا گیا تھا اور اس واقعہ کی جوائنٹ انویسٹیگیشن جاری ہے انہوں نے کہا کہ پیر کو تربت میں ہونے والے اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور تربت واقعہ کی اب تک ہونے والی تحقیقات اور پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے اجلاس میں ہونے والے فیصلے اہم نوعیت کے ہیں جو قبل از وقت نہیں بتائے جاسکتے تاہم اتنا واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اس گھناونے واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے معاونت کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کوئی رعایت نہیں کی جائے گی میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سیکورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے تربت اور گرد و نواح میں باہر سے آنے والے مزدوروں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جاررہا ہے روزگار کے لئے دور دراز علاقوں سے آنے والے ان مزدوروں کے تحفظ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے میں بحالی امن اور عوام کے جانی و مالی تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں ملازمت کے لئے عمر کی بالائی حد کے تعین کے لئے رائے لی گئی تھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اس پر مزید آئندہ کابینہ کے اجلاس میں بحث کی جائے گی تاہم میرے خیال میں یہ فیصلہ ہمیں آئندہ کی منتخب حکومت کے لئے چھوڑنا چاہیے تاکہ وہ جو مناسب سمجھیں فیصلہ کریں۔
پہاڑوں اور بیرون ملک بیٹھے ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لئے تیار ہیں، میر علی مردان خان ڈومکی

ٹیگز:
میر علی مردان خان ڈومکی
