کراچی (ڈیلی گرین گوادر) نئے آئی جی سندھ کی جانب سےعہدہ سنبھالتے ہی شہرمیں ڈکیتی کی 2 بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان پیٹرول پمپ کے عملے سے دن دیہاڑے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹ کربا آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔نئے آئی جی سندھ راجہ رفعت مختار کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی شہرمیں ڈکیتی کی 2 بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان پیٹرول پمپ کے عملے سے دن دیہاڑے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹ کربا آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پہلی واردات پاکستان بازارتھانے کے علاقے اورنگی ٹاؤن نشان حیدرچوک کرن شادی ہال کے قریب پیش آئی جہاں 2 نامعلوم مسلح ملزمان دن دیہاڑے پیٹرول پمپ کے منیجر پرویزاور2 کیشیئرزسے 30 لاکھ روپے لوٹ کرفرارہوئے۔اس حوالے سے ایس ایچ او پاکستان بازارسہیل خاصخیلی نےبتایا کہ اورنگی ٹاؤن اسلام چوک پرواقع ماہی پیٹرول پمپ کا مینیجر پرویزاور2کیشئرکے ہمراہ سلوررنگ کی گاڑی میں سوار ہوکررقم بینک میں جمع کرانے جا رہے تھے کہ اورنگی ٹاؤن نشان حیدرچوک کے قریب موٹرسائیکل 2 نامعلوم مسلح ملزمان نے اسلحے کے زورپران سے رقم سے بھرا تھیلا چھین لیا اورفرارہوگئے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے ہی پولیس موقع پرپہنچ گئی اور فوری کرائم سین یونٹ کو موقع پرطلب کرلیا گیا اورشواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں جبکہ آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایس ایس پی کیماڑی نے بتایا کہ پیرآباد تھانے کی حدود میں واقع ٹوٹل پیٹرول پمپ مالک معمول کے مطابق اپنی روزانہ آمدنی نجی بینک میں جمع کراتے تھےگزشتہ روز پیٹرول پمپ کا مالک اورکیشیئرہفتے اتوارکی آمدنی گاڑی میں بینک میں جمع کرانے کے لیے نکلے تھےاورجسے ہی بینک کے سامنے پہنچے تو بینک کے باہر پہلے سے 2 نامعلوم ملزمان موجود تھے جنھوں نے اسلحے کےزور پران سے رقم سے بھرا بیگ چھینا اور فرار ہو گئے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے بینک سے سی سی ٹی وی فوٹیجزحاصل کی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہےکہ واردات میں پیٹرول پمپ کا عملہ ہی ملوث ہے اس پرتحقیقات جاری ہیں۔پولیس نے کچھ افراد کوحراست میں بھی لیا ہےاورپیٹرول پمپ کے عملے کے موبائل فونز نمبربھی حاصل کر لیے گئے ہیں اورکچھ عملہ ہفتے دس دن میں پیٹرول پمپ سے کام چھوڑکرگیا ہے، اس کے نام اورفون نمبرزبھی حاصل کیے گئے ہیں تاکہ سی ڈی آرسے معلوم ہوسکے کہ کون کس سے رابطے میں تھا۔

