کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) رمضان المبارک کادوسراعشرہ ختم ہوگیا، ضلعی انتظامیہ مصنوعی مہنگائی پرقابوکرنے میں ناکام ہوچکی ہے، اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے شہریوں کو مالی مشکلات درپیش ہیں مین جناح روڈ سے لیکر شہر کے کسی بھی حصے میں آپ دیکھ لیں دودھ کی قیمت 200 روپے کلو چل رہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں عوامی حلقوں نے حکام بالاسے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے احترام میں اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاکمی کرکے سبسڈی دی جاتی ہے مگرہمارے یہاں مصنوعی بحران کی صورتحال پیداکرکے کھانے پینے کی چیزیں مہنگی غریب اورمتوسط طبقے کے منہ سے روٹی کا لقمہ بھی چھین لینے کی کوشش کی جاتی ہے جوباعث تشویش ہے۔ رمضان کے مہینے میں تاجروں کو بے جا مہنگائی کرنے کا لائسنس مل جاتا ہے اور وہ ناجائز منافع خوری کو اپنا حق سمجھتے ہوئے بلا کسی روک ٹوک کے اشیا کے دام بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ حکام نے مکمل خاموشی اختیارکی ہوئی ہے اورمہنگائی کو قابوکرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہے جس سے متوسط اورغریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔عوامی حلقوں نے نے بتایاکہ گھی، دالیں، چاول، چینی، آٹا، سبزیاں ہوں یاگوشت، مارکیٹ میں منافع خورمافیا نے ہرشے کی قیمت میں ہوشربااضافہ کردیا ہے اوراس مقدس مہینے میں غریب عوام کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرکوئٹہ ودیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ ہوشربامہنگائی کوقابوکرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
رمضان المبارک کادوسراعشرہ مکمل ، ضلعی انتظامیہ دودھ سمیت مصنوعی مہنگائی پرقابوکرنے میں ناکام

ٹیگز:
رمضان
