کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے اس نہج تک نہیں پہنچایا کہ انہیں ہٹانے کے لئے صف اول میں کھڑے ہوں، تحریک عدم اعتماد سے قبل بی این پی سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی شاید عدم اعتماد لانے والوں کے نمبر پورے ہیں،بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق کی گئی کسی بھی کمٹمنٹ کا علم نہیں ہے،تحریک عدم اعتماد پر پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے،یہ بات انہوں نے بدھ کو این این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں آج تک کوئی بہتر حکومت نہیں آئی یہ کہنا مشکل ہے کہ جام کمال اور موجودہ حکومت میں سے کونسی بہتر ہے اور کونسی بدتر البتہ ہم حالات سے مطمئن نہیں ہیں جس انداز میں جام کمال اینڈ کمپنی نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا اسکا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑا کم سے کم قدوس بزنجو کی حکومت نے ہمیں اس نہج تک نہیں پہنچایا کہ ہم انہیں ہٹانے میں صف اول میں اس طرح کھڑے ہوں جیسے جام کمال خان کے خلاف تھے انہوں نے کہا کہ جو لوگ تحریک عدم اعتماد لائے ہیں اس کی کامیابی سے متعلق ان سے پوچھنا چاہیے بی اے پی کی ایک چوتھائی، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ 34ارکان کیسے پورے کریں گے تحریک عدم اعتماد ٹیبل کرنے کے لئے 14ارکان کامیاب ہوسکتے ہیں مگر اسکی کامیابی کے لئے 34ارکان کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی سے نہ کوئی رابطہ کیا گیا اور نہ ہی ہمیں آن بورڈ لیا گیا ہے شاید انکے نمبر پورے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے وقت نہ بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں ساتھ دینے سے متعلق ہم سے کوئی بات ہوئی نہ ہی کوئی معاہد ہ ہوا جبکہ پی ڈی ایم کے کسی اجلاس میں بھی ایسی کوئی شرط سامنے نہیں آئی اس حوالے سے غلط بیانی کی گئی ہے بی اے پی ہمارے کہنے نہیں بلکہ ”مطلوبہ نمبر کسی کے استعمال میں نہ ہونے اور رابطہ منقطع ہونے“کے بعدپی ڈی ایم کے ساتھ آئی البتہ بی این پی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ جب تبدیلی لائی جاتے ہے تو مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کہاں اور کس حد تک جانا ہے لیکن تحریک عدم اعتماد لانے والوں نے اب تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ قدوس بزنجو کو نکال کر کسے لانا ہے جتنے ارکان نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے ہیں ان میں سے زیادہ تر وزیراعلی کے امیدوار ہیں جنہوں نے پریس کانفرنس کی صف اول میں کھڑے لوگ وزرات اعلیٰ کے امیدوار تھے جب ہم سے بات کی جائیگی تو ہم پوچھیں گے کہ وہ قدوس بزنجو کو نکال کر کسے لانا چاہتے ہیں اگر ہم سے رابطہ کیا گیا تو معاملے کو پارٹی اور اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں جمعیت علماء اسلام،پشتونخواء ملی عوامی پارٹی سے مشاورت کریں گے انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لانے والوں نے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر سے بھی رابطہ نہیں کیا شاید انکی تعداد پوری ہے اگر موجودہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں بھی ایک طرف ہوجائیں تو انکی کامیابی کے امکانات ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرواتے وقت بھی 14ارکان پورے نہیں تھے آج جب انہوں نے اپنی تعداد ظاہر کی تو کم سے کم دستخط کرنے والے ارکان کو موجود ہونا چاہیے تھا
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق کی گئی کسی بھی کمٹمنٹ کا علم نہیں،سردار اختر جان مینگل

ٹیگز:
سردار اختر جان مینگل
