کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)صوبائی منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر آصف شاہوانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5لاکھ افراد ٹی بی سے متاثر ہو تے ہیں جن میں سے تقریباً ایک تہائی علاج کے لئے کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہو تے جو اس بیماری کو پھیلانے میں مدد کرتے ہیں گزشتہ سال021 میں بلوچستان ٹی بی کنٹرول پروگرام نے 11656کے قریب مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص کرکے انہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں۔یہ بات انہوں نے منگل کو ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر نورقاضی،ڈپٹی پروگرام منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر خرم لاشاری،مرسی کورکے ڈاکٹر سعید اللہ خان،ایس پی او کے امداد علی،ڈی ایچ او کوئٹہ ڈاکٹر نوربزنجو،ڈاکٹر عرفان رئیسانی،ڈاکٹر شیر افگن،ڈاکٹر وکیل شیر علی،ڈاکٹرظفر خوسی اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ٹی بی کی بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو تی ہے یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے مگر عموماً پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے بلغم زدہ کھانسی ٹی بی (Tuberclusis)کی خاص نشانی ہے ٹی بی ایک مہلک مرض ہے جو قابل علاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5لاکھ افراد ٹی بی سے متاثر ہو تے ہیں تقریباً ایک تہائی علاج کے لئے کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہو تے جو اس بیماری کو پھیلانے میں مدد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان سال 2022میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ،سیکرٹری صحت نور الحق بلوچ اورڈائریکٹر جنرل صحت بلوچستان ڈاکٹر نور قاضی کی ہدایت کی روشنی میں ایک نئے عزم کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کے لئے کام کر رہا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کو ٹی بی بیماری سے پاک کیا جائے اس سلسلے میں صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام اور ہمارے تمام پارٹرنز مستعد ہیں میڈیا سے بھی اپیل کر تے ہیں کہ وہ بھی اس نیک کام میں ٹی بی سے پاک صحت مند بلوچستان کے لئے ہمارے اس عزم اور جدوجہد کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ 24مارچ ٹی بی، تپ دق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس روز پوری دنیا میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے تپ دق یعنی ٹی بی کوئی لا علاج بیماری نہیں اور اس کے علاج کے لئے دوائی بھی ہمارے تمام بلوچستان کے کسی بھی سول ہسپتال، بی ایچ یوز، آر ایچ ایس سی سے مفت اور آسانی سے دستیاب ہے لیکن ان سب کے باوجود ٹی بی ایک ایسی خطر ناک بیماری بن چکی ہے جس سے مرنے والوں کی تعداد ایڈز اور ملیریا سے بھی زیادہ ہے اور ٹی بی کے شکاران افراد کو اپنی زندگی کا کافی وقت تکلیفوں اور پریشانیوں میں گزارنا پڑتا ہے جب اس کا مریض کھانستا ہے تو ہوا کے ذریعے اس کے بلغم میں موجود ٹی بی بیکٹیریا دوسرے انسان تک پہنچ جاتا ہے اور اس طرح ایک دوسرا ٹی بی کا مریض تیار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان نے اپنے پارٹرنز کے ہمراہ ملکر اس سال مارچ کے مہینے میں ٹی بی کے متعلق لوگوں میں شعور آگہی پیدا کرنے اور موثر مہم چلانے کے لئے ابھی سے مختلف نوعیت کی سر گرمیوں کا آغاز کیا ہے ٹی بی کی تشخیص کے لئے صو بائی ٹی بی کنٹرول پروگرام نے تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوہسپتال میں ٹی بی کی تشخیص کے لئے پی سی آر مشین لگا دی ہیں جس کو جین ایکسپرٹ مشین کے نام سے جانا جاتا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹی بی ایک مہلک بیماری ہے مگر ٹی بی سو فیصد قابل علاج ہے اس مقصد کے لئے ٹی بی سے متاثرہ شخص کو اپنے بلغم کا معائنہ کرانا ہو گا اور پھر ڈاکٹر کی ہدایت کی روشنی میں 6ماہ تک بلا ناغہ ٹی بی کی ادوایات کو پابندی سے استعمال کر نا ہوگا ٹی بی کے علاج کے دوران دوا کے استعمال میں کسی قسم کی کو تاہی کی کوئی گنجائیش نہیں ہے کو تاہی کی صورت میں ٹی بی تپ دق کا مرض پیچیدہ اور علاج طویل ترین ہو جاتا ہے لہذا 6ماہ مسلسل اور بلا ناغہ دوا کا ستعمال سو فیصد ٹی بی تپ دق سے تندرستی اور شفا دلاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے صوبے میں 116سینٹر تھے جبکہ اب انکی تعداد 139ہوچکی ہے اور یہ تمام سینٹرفعال ہیں جہاں باقاعدہ تربیت یافتہ عملہ موجود ہے اور درکار تمام آلات و سہولتیں اور ادویات بھی دستیاب ہیں اور ان تمام سینٹرز میں تشخیص و علاج مفت فراہم کیا جارہا ہے اور ہم باقاعدگی سے ان تمام سینٹرز کا مانیٹرنگ خود کرتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ آبادی میں سالانہ 259افراد کو ٹی بی کا مرض لاحق ہو سکتا ہے پاکستان کی کل آبادی کا تخمینہ ساڑھے پانچ لاکھ جبکہ بلوچستان میں 6فیصد مطلب ایک کروڑ 21لاکھ آبادی پر 35500 افراد متاثر ہو سکتے ہیں لہذا جتنی جلدی ممکن ہو ٹی بی مریض کا معائنہ اور علاج پر ہم سب کو توجہ دینی ہوگی گزشتہ سال ٹی بی کنٹرول پروگرام نے11656افراد میں ٹی بی کی تشخیص کے بعد انہیں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان میں ایک عزم اور ولولے کے ساتھ تین سال کے لئے 2023تک ایک لائحہ عمل طے کر چکے ہیں تا کہ اس کو نیشنل سطع پر لنک کر کے بلوچستان میں اپنے کام کو مزید فعال اور موثر بنائیں انشاء اللہ زیرو ٹی بی بلوچستان کا ٹارگٹ حاصل کر کے رہیں گے ہم نے 10نئے جین ایکسپرٹ مشین منگوائے ہیں جس اضلاع میں ضرورت ہے وہاں دیں گے 4نئے اضلاع میں PMDTسائیٹ کا بھی سروے کیا ہے جلد وہ شروع کریں گے۔
ٹی بی کی بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے ، ڈاکٹر آصف شاہوانی

ٹیگز:
ڈاکٹر آصف شاہوانی
