کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کو بلوچستان کے عوام کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بل کے تحت گاڑیاں ضبط کی گئیں تو بلوچستان کے ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے، جس سے غربت اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں لوگوں کی اکثریت کا روزگار ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کے ذریعے وابستہ ہے۔ ایسے میں اس ترمیمی بل کا نفاذ عوام کے معاشی قتل عام کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ کی طرح اصل بڑے اسمگلروں اور بااثر طبقات کو نظرانداز کر کے صرف عام اور چھوٹے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو کسی بھی طرح انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بڑے پیمانے پر تیل و گیس اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کرنے والے اصل کردار کون ہیں؟ ان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جاتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی محرومیوں اور ناانصافیوں کا شکار ہیں اور اب یہ نیا بل ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دے گا۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اگر حکومت کو واقعی اسمگلنگ کے خاتمے میں دلچسپی ہے تو وہ بڑے اسمگلروں کے خلاف کریک ڈان کرے، نہ کہ عام عوام کے روزگار کے ذرائع کو ختم کرے۔
پیٹرولیم ترمیمی بل 2025بلوچستان کے عوام کے لیے تباہ کن ہے، مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
پیٹرولیم
