پشین (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل ہی ملک کو بحرانوں سے نجات دلاسکتا ہے قومی اسمبلی میں ملک کے وفاقی وحدتوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی کے بغیر موجودہ پارلیمانی نظام قابل عمل نہیں اس کے بغیر موجودہ نام نہاد جمہوری نظام ملک کے محکوم اقوام کے قومی حقوق و اختیارات کا تحفظ نہیں کرسکا، ممتاز سیاسی اور نظریاتی کارکنوں کی پارٹی میں شمولیت اور بھرپور اعتماد ہماری پارٹی کیلئے قابل فخر ہے وہ کلی گانگلزئی میں ایک مذہبی پارٹی کے رہنما اور یونین کونسل کے چیئرمین سید جلیل باچا اور سابق کونسلر سید رفیع اللہ آغا کی قیادت میں درجنوں کارکنوں کی پارٹی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی کمیٹی کے ممبر سید شمس آغا، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری سید احسان آغا اور سید جلیل باچا نے بھی خطاب کیا جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت علاقائی سینئر معاون سیکریٹری سید نعمت اللہ آغا نے حاصل کی۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ سید جلیل باچا نے ہمیشہ ہر قسم کے ذاتی و گروہی مفادات کو مسترد کرکے وطن دوستی پرمبنی قومی تحریک کی سیاسی جدوجہد کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور اب بھی یونین کونسل کے چیئرمین ہوتے ہوئے ہر قسم کے مفادات کو مسترد کیا اور اپنے قومی تحریک کی صفوں میں جرات کے ساتھ شامل ہوئے اور اپنے اکابرین محترم عبدالرحیم خان مندوخیل اور ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے افکار و جدوجہد کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے ان کی راہ پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا جو قابل فخر اور قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتون غیور ملت کو ہرشعبہ زندگی میں قومی طور پر محکوم رکھ کر ہر قسم کے حقوق و اختیارات سے محروم کر رکھا ہے جبکہ ملکی بحرانوں کا اصل مقصد استعماری قوم کی بالادستی کو برقرار رکھ کر محکوم قوموں کے وسائل کی لوٹ مار جاری رکھنا ہے موجودہ نام نہاد جمہوری نظام کی کوئی حیثیت نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل طور پر اختیارات سے محروم ہے اور مختلف بہانوں سے نام نہاد غیر نمائندہ حکومتوں کو جمہوریت کے نام پر طول دے کر محکوم اقوام و عوام کے آنکھوں میں دھول جھانکھنا چاہتے اور اس کا ثبوت مسلسل غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر مختلف قانون سازی، آئین وقانون میں غلط ترامیم ہے اور ان تمام غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کا مقصد بھی نام نہاد جمہوریت کے نام پر ایک بالادست قوم کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے اور ایسی نام نہاد جمہوریت ملک کے اقوام و عوام کو قابل قبول نہیں جو مسلسل دھاندلی، رشوت خوری، کرپشن، زور زبردستی اور دھوکہ دہی کے ذریعے مسلط رکھا گیا ہو اور اس جعلی جمہوریت کے ذریعے ملک کے آئین کا حلیہ بگھاڑ کرکے رکھ دیا ہے اور وفاقی وحدتوں کو پہلے سے حاصل اختیارات کو چھیننے کیلئے ان نام نہاد جعلی اسمبلیوں کو استعمال کیا جارہا ہے جسکا ثبوت 26 ویں آئینی ترمیم اور مائنز اینڈ منرل بل کو جعلی اسمبلی سے جعلی طریقے سے پاس کیا گیا اور جن نام نہاد نمائندوں نے اس ترمیم و بل کو پیش اور پاس کیا ہے وہ ا س ملک اور دو قومی صوبے کے اقوام و عوام کے تاریخی مجرم ہے اور غیور عوام اْس کا ضرور محاسبہ کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں حقیقی پارلیمانی جمہوری نظام اْس وقت قابل قبول اور قابل عمل ہوگا جب قومی اسمبلی میں ملک کے قوموں یعنی وفاقی وحدتوں کو برابری کی بنیا د پر نمائندگی دی جائے اور قوموں کے وسائل اور اْن کے قومی حقوق و اختیارات کو بھی عملاً تسلیم کیا جائے جبکہ موجودہ جعلی اسمبلیوں اور جعلی حکومت کے ذریعے ملک کے اقوام وعوام کو مزید دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز سیاسی و نظریاتی رہنماؤں و کارکنوں کی پارٹی میں شمولیت اور فعالیت پارٹی کو تنظیمی طور پر مزید مضبوط کریگی اور پشتونخوا نیپ کے قیادت کی رہنمائی میں پارٹی بیانیے کو ہمارے غیور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے ہم سیاسی جمہوری جدوجہد اور احتجاج کے ذریعے بھی اپنے عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرتے ہوئے اپنے غیور عوام کو پارٹی کے جھنڈے تلے متحد کرنے کیلئے اپنی فعالیت کو دوبالا کرنا ہوگا۔
نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل ہی ملک کو بحرانوں سے نجات دلاسکتا ہے،خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
