کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد،جنرل سیکریٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ، شیخ مولانا احمد جان،، شیخ مولانا عبد الاحد محمد حسنی، مولانا محمد اشرف جان،حافظ عبد الحق حقانی، مولانا محمد ایوب مفتی عبد السلام رئیسانی، حافظ مسعود احمد، سرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ، حافظ سید سعداللہ آغا، حافظ سراج الدین، حاجی ولی محمدبڑیچ، حاجی محمد شاہ لالا، مولانا حافظ سردار محمد نورزئی،چوہدری محمد عاطف، میر فاروق لانگو، مولانا جمال الدین حقانی، حاجی صالح محمد، مولانا محمد عارف شمشیر،حاجی عبد اللہ سلیمان خیل اور حافظ دوست محمد نے کہا ہے کہ شہر میں گندگی کے ڈھیر اور آلودگی نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے، کوڑا کرکٹ اٹھانے والا کوئی نہیں شہر کے اندر گندگی کے ڈھیروں سے بچوں کی صحت براہ متاثر ہورہی ہے، میٹروپولیٹن انتظامیہ اور صفائی کرنے والے گورنر ہاؤس تا بلوچستان اسمبلی روڈ کو شہر سمجھتے ہیں، سریاب، پشتون آباد کلی شیخان، نواں کلی، شالدرہ اور مین بازار کے علاقوں پر کوئی توجہ ہی نہیں۔پورے شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر انتظامیہ اور حکومت کے منہ پر طمانچہ سے کم نہیں، کوئٹہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں سست روی اور کمزور تعمیر نے عوام کو بیزار کرکے رکھ دیا ہے، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ مزید اس پر کتنا عرصہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں تمام شعبوں میں کمی ہے جس کے باعث شہر میں پانی کی قلت ہے، ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا سکھ چھین لیا ہے، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر لاوراث بن چکا ہے، کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا نہیں معلوم کہ کوئٹہ کے ساتھ یہ کھلواڑ کیوں کیا جارہا ہے۔ شہری نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے۔ انہوں نے بلدیہ ایڈمنسٹریٹر اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ شہر میں صفائی کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔
شہر میں گندگی کے ڈھیر اور آلودگی نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے، مولانا عبد الرحمن رفیق

ٹیگز:
مولانا عبد الرحمن رفیق
