کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کے والد عبدالغفار رئیسانی نے یوم شہداء صحافت بلوچستان پر شہید صحافیوں کو ان کی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہدا جسمانی طور پرہمارے درمیان موجود نہیں مگر فکری طور پر وہ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام یوم شہداء صحافت بلوچستان پر منعقدہ سیمینار کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں 41 کے قریب صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کئے گئے ہیں مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے قاتل بھی اپنے انجام کو نہیں پہنچے،انہوں نے کہاکہ صحافی عبدالواحد رئیسانی کے قتل کا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں ملزمان گرفتار تو ہوئے اورعدالت سے ایک ملزم کی حدتک فیصلہ آنے پر اسے بری کردیا گیاجس نے بہت سے سوالات کوجنم دیا اہم گزشتہ دنوں اشتہاری ملزمہ کی گرفتاری کے بعد دوبارہ سے مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس بار ہمارے ساتھ انصاف ہوگا، انہوں نے کہاکہ اپنے شہیدکو انصاف دلانے کیلئے ہماری قانونی جدوجہد جاری رئیگی اور اس جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، انہوں نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، کوئٹہ پریس کلب کے عہدیداروں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ نہ صرف انہوں نے اپنے شہید ساتھیوں کو یاد رکھا ہے بلکہ شہداء کو انصاف دلانے کیلئے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، انہوں نے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہر مشکل وقت میں ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں انہوں نے سینئر قانون دان وسابق سینیٹر ملک ممتاز محفوظ ایڈووکیٹ اور طاہر حسین ایڈووکیٹ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک ممتاز محفوظ ایڈووکیٹ اور ان کے چیمبر نے ان ڈھائی سالوں کے دوران ہر متاثرہ خاندان کو عدالتوں میں ہرممکن قانونی معاونت فراہم کی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔
بلوچستان میں 41 کے قریب صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کئے گئے ہیں، عبدالغفار رئیسانی

ٹیگز:
عبدالغفار رئیسانی
