شانگلہ (ڈیلی گرین گوار) شانگلہ کی تحصیل الپوری اور چکسر کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے پر گرفتار ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 16 کارکنوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے جرم میں سوات کی جیل بھیج دیا۔
شانگلہ انتظامیہ نے ہفتہ (5 اگست) کو دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ایک ماہ کے لیے اجتماعات/جلوس پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم پی ٹی آئی کارکنان نے پارٹی چیئرمین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا، پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر انتظامیہ نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔
سب ڈویژنل پولیس آفیسر شیر حسن کی قیادت میں جگہ جگہ چھاپے مارے گئے اور پی ٹی آئی کے مقامی چیئرمین عبدالمولا سمیت 7 کارکنوں کو گرفتار کر لیا، بعدازاں انہیں الپوری میں ڈیوٹی پر موجود جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے ساتوں پی ٹی آئی کارکنان کو سوات کی جیل بھیج دیا۔
پی ٹی آئی کے انصاف لائرز فورم کے صدر جواد علی نور ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پولیس نے بشام تحصیل کونسل کے چیئرمین کے 3 بھائیوں سمیت 9 کارکنوں کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم سوات کے ایڈیشنل سیشن جج نے استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔
انہوں نے کہا کہ بشام پولیس نے پی ٹی آئی کے 15 کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھیں اور ان میں سے 9 کارکنان کو ہفتے (5 اگست) کو گرفتار کرلیا گیا تھا، گرفتار کارکنوں کی ضمانت کے لیے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نواگئی تحصیل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خلیل الرحمٰن، ریحان زیب خان، لقمان خان، عبدالحق اور مجیب دانش کے خلاف ہفتہ (5 اگست) کو خار بازار میں احتجاج کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر خار بازار پولیس چوکی کے انچارج سب انسپکٹر ممبر خان کی شکایت پر مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی۔

