کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق،سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد،جنرل سیکرٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ مسعود احمد،سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، سیکرٹری مالیات میر سرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ سالار حافظ سید سعداللہ آغا حافظ شبیراحمدمدنی حاجی ولی محمدبڑیچ حافظ سراج الدین حاجی قاسم خان خلجی چوہدری محمد عاطف میر فاروق لانگو مفتی رحمت اللہ مولانا جمال الدین حقانی مفتی نیک محمد فاروقی حاجی صالح محمد مولانا حافظ سردار محمد نورزئی مولانا محمد عارف شمشیر مفتی محمد ابوبکر حافظ رحمان گل حافظ دوست محمد اور دیگر نے باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کنونشن میں بم دھماکے کے نتیجے میں 80افراد کے شہید اور 200سیزائدافراد کے زخمی ہونے کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے خون آلود اور زخمی جماعت ریاست سے انصاف مانگ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا نے ہمارے شہداء کو اہمیت نہ دے کر دوہرا معیار قائم رکھا۔ پوری جماعت کا گلشن اجڑنے کے باوجود کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی۔لیکن یہ صبر کا دامن کب تک تھام رکھیں گے بالآخر صبر کا پیمانہ لبریز ہوگا۔سانحہ باجوڑ جمعیت علماء اسلام کی پرامن سیاسی قوت کے خلاف گہری سازش ہے، ملک کے استحکام اور پرامن آئینی جدوجہد کی پاداش میں قائدین اور کارکنوں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں، مزید یہ سازشیں برداشت سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی،معاشی اور بم حملوں کی زد میں ہے، اس کی تہہ تک تحقیقات کرنا تمام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ سانحہ میں جمعیت علماء اسلام کے عظیم ورکرز اور ذمہ داران شہید وزخمی ہوئے ہیں اس کا حساب لئے بغیر آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ضروری ہے کہ باجوڑ سانحہ پر آرمی سربراہان اور سیاسی قائدین کے مشترکہ اجلاس میں سخت لائحہ عمل طے کرکے قوم کو اطمینان دلایا جائے۔
ہمارے خون آلود اور زخمی جماعت ریاست سے انصاف مانگ رہی ہے،مولانا عبد الرحمن رفیق

ٹیگز:
مولانا عبد الرحمن رفیق
