منگچر(ڈیلی گرین گوادر)منگچر لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہفتہ کو صبح تقریبا 7 بجے جوہان کراس بازار ایریا دھرنا دیکر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلاک کرکے دھرنا دیے جس کے باعث دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ڈپٹی کمشنر قلات منیردرانی، اسسٹنٹ کمشنر منگچر محمد حنیف نورزئی، ودیگر حکام کی مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرکے سڑک کھول دی گئی۔منگچر لاپتہ مہراللہ لانگو کے لواحقین (خواتین)نے ان کی بازیابی کے لئے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو جوہان کراس بازار ایریا میں دھرنا دیکر بند کردیا دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے اس موقع پر لاپتہ مہراللہ لانگو کے لواحقین (خواتین)نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے والد 14سالوں سے غائب ہے ہم مجبور ہوکر سڑکوں پر احتجاج کرتے رہتے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کیا جائے ورنہ ہماری احتجاج جاری رہے گی اس موقع پر مظاہرین لاپتہ افراد کے تصاویر اور بازیابی کے نعرے والے بینرز اٹھا رکھے تھے نو گھنٹے کی طویل ہڑتال سے مسافروں کو گرمی میں شدید مشکلات درپیش اے آخر ڈپٹی کمشنر قلات منیردرانی، اسسٹنٹ کمشنر منگچر محمد حنیف نورزئی نے مظاہرین سے مذاکرات کرکے 9 گھنٹے بعد احتجاج ختم کرکے سڑک ہرقسم کی ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا

ٹیگز:
لاپتہ افراد
