نئی دہلی: انڈین ریاست مہاراشٹر کے علاقے جلگاؤں میں ہندو گروپوں کے دعوؤں کے بعد ضلع انتظامیہ نے ایک قدیم مسجد میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ضلع انتظامیہ کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے 11 جولائی کو ایک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مسجد میں نماز پر پابندی لگا دی تھی۔
ایک مقامی ہندو گروپ پانڈوواڑا سنگھرش سمیتی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی سے تقریباً 350 کلومیٹر دور ایرانڈول میں واقع یہ عمارت کسی مندر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کمیٹی نے مقامی مسلم کمیونٹی پر عمارت پر قبضہ کرنے اور اسے مسجد میں تبدیل کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
دوسری جانب مسجد کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مسجد کی ملکیت سے متعلق دستاویزات موجود ہیں جو 1861ء کے بعد کی ہیں۔مسجد ٹرسٹ نے بھی 11 جولائی کو ضلع مجسٹریٹ امن متل کے حکم کے خلاف ممبئی ہائیکورٹ کے اورنگ آباد بنچ میں درخواست دائر کی ہے۔
ٹرسٹ کے وکیل ایڈوکیٹ ایس ایس قاضی کے مطابق درخواست کی پہلے ہی دن اور پھر اگلے دن بھی سماعت ہوئی۔ وکیل کے مطابق عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور آئندہ سماعت 18 جولائی کو ہو گی۔ضلع مجسٹریٹ نے اخبار کو بتایا، ”ہم نے ابھی تک حتمی حکم نہیں دیا ہے۔ پہلی سماعت میں، ہم نے امن وامان کے مقصد کے لیے ایک عبوری حکم نامہ پاس کیا۔ دوسری سماعت 13 جولائی کو ہوئی جو دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس میں وقف بورڈ اور مسجد ٹرسٹ کے ارکان شامل تھے۔ اب اگلی سماعت 18 جولائی کو ہوگی۔
خیال رہے کہ ہندو گروپ 1980ء کی دہائی سے اس مسجد کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمارت پانڈووں کی ہے جنہوں نے اس علاقے میں وقت گزارا تھا۔تازہ ترین صورتحال 18 مئی کو پانڈوواڑا سنگھرش سمیتی کی طرف سے ضلع مجسٹریٹ کو دی گئی درخواست کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس جگہ سے مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمارت کسی قدیم مندر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے اپنے عبوری حکم نامے میں عام لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور مسجد انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مسجد کی چابیاں ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیں۔دوسری جانب مسجد کمیٹی نے الزام لگایا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ نے عبوری حکم نامہ پاس کرنے سے قبل اس کا موقف نہیں سنا اور یک طرفہ حکم جاری کیا۔ مہاراشٹر وقف بورڈ کے مطابق یہ مسجد 2009ء سے وقف بورڈ کی رجسٹرڈ پراپرٹی ہے۔
اس مسجد کا ریکارڈ 1861ء سے دستاویزات میں ملتا ہے۔ وقف بورڈ نے ضلع مجسٹریٹ کے اس معاملے کی سماعت کے اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے۔

