لاہور(ڈیلی گرین گوادر) لاہور میں ریکارڈ موسلادھار بارش کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ صبح سے لاہور میں 291 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
قبل ازیں محسن نقوی کے مطابق 3 افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے، دو افراد گھر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آج لاہور میں ریکارڈ موسلادھار بارش ہوئی ہے جس کی توقع نہیں تھی، ہم نے شہر کی سڑکیں صاف کرنے اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔
نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رات 9 بجے بارش کا ایک اور مرحلہ متوقع ہے اور متعلقہ حکام اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ خود بھی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔قبل ازیں لاہور میں آج صبح سے ریکارڈ موسلادھار بارش کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) کے مطابق بارش کے نتیجے میں لاہور کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، خاص طور پر لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ نشتر ٹاؤن میں 277، پانی والا تالاب اور گلشن راوی میں 268 ملی میٹر بارش ہوئی۔مزید بتایا گیا کہ لاہور کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر کے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جمع ہونے والے پانی جیسے مسائل کو حل کیا جاسکے۔
قبل ازیں محسن نقوی نے کہا تھا کہ لاہور میں 9 گھنٹے کے دوران ریکارڈ 272 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے، جس کے سبب سڑکوں پر پانی جمع ہوچکا ہے اور اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، میونسپل اور متعلقہ اداروں کے اشتراک عمل کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور وفاقی اداروں کو پنجاب حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

