کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلو چستان صو بائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر کو تین گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میرجان محمد جمالی کی زیر صدارت تلاو ت کلام پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے آئندہ مالی سالی 2023-24ء کا بجٹ ایوان میں پیش کیا۔ صوبائی وزیر خزانہ کے بجٹ کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے وزیرخزانہ انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں موجودہ حکومت کا یہ دوسرابجٹ ہے۔ ہماری حکومت نے اپنی مختصر مدت مکمل کی ہے۔کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے یہ عرصہ نہایت کم ہوتا ہے۔ تاہم ہم نے اس مختصر مدت کے دوران بہت سی اہم کامیابیاں حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جس کے لیے میں اللہ تعالیٰ کا شکرگذار ہوں۔ہماری حکومت نے اس عرصہ میں ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ کیا۔ شروع دن سے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے پر توجہ دی۔ عوام کی عزت نفس اور ان کے احترام کو اپنی اولین ترجیح سمجھا۔ صوبے میں باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دیا۔ صوبے کے اہم معاملات میں سیاسی وابستگیوں سے بالا ترہوکر تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا۔ انفرادی حیثیت میں فیصلہ کرنے کی بجائے صوبے کی نمائندہ اسمبلی اس ایوان کو مشاورت کا مرکز بنایا اور تمام اہم فیصلے کابینہ کی منظوری سے کیے۔وزیرخزانہ انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں حکومت بلوچستان ایک جمہوری اور سیاسی تصور کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے درست سمت کی جانب گامزن ہے۔یہ وزیراعلیٰ کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے کہ بلوچستان ہمہ گیر ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مشاہدہ صوبے کے عوام خود کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے عوام دوست وژن کے مطابق صوبائی حکومت نے جو بھی فیصلے کیے ہیں ان پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے عملی اقدامات زمین پر نظر آ رہے ہیں اور صرف کاغذوں تک محدود نہیں ہیں زیراعلیٰ نے بلوچستان کے مالی مسائل اور ترقیاتی عمل سے متعلق وفاقی حکومت کے سامنے صوبے کا موقف بھرپور طور پر اٹھایا ہے جس کے لیے وزیراعظم پاکستان نے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہمیشہ اپنے عمل سے عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے وزیراعلیٰ نے عوام کی سہولت کے لیے وی آئی پی پروٹوکول کی سختی سے نفی کی ہے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھنے کے تاثر کو بڑھاوا دیا ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ گزشتہ اڑھائی سال کی مدت میں وزیراعلیٰ کی قیادت میں کابینہ نے دور رس نتائج پر مبنی ایسے فیصلے کیے جن کاماضی میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک دوسرے کو عزت و احترام دینا بلوچستان کی دیرینہ روایت ہے اور ہم اپنی اس روایت کے امین ہیں۔ ہم جب تک اقتدار میں رہیں گے صوبے کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے خلوص نیت سے کام کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ملک اور صوبے کی ترقی میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری حکومت نے سیلاب زدگان کی فلاح کے لیے7ارب روپے پی ڈی ایم اے کو دیے۔ رمضان پیکج کے تحت مفت راشن فراہم کیا جس کے لیے تقریباً 2ار ب روپے کے فنڈ فراہم کیے گئے۔ شام و ترکی کے زلزلہ زدگان کے لیے 1ارب روپے کا امدادی سامان فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں صوبائی حکومت نے قلیل عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔صوبائی حکومت کے عوامی نوعیت کے اہم اقدامات کی تفصیل طویل ہے تاہم یہاں چیدہ چیدہ بڑے فیصلوں اور اقدامات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔جس میں ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ،صحت کارڈ کا اجراء،کسان کارڈ کا اجراء،سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی منظوری،گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے 1493 اساتذہ کی مستقلی،محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 361 ملازمین کی بحالی،صوبے کے جامعات کو اربوں روپے کے بیل آؤٹ پیکج کا اجراء،صاف اور شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد،سیلاب اور ہرنائی کے زلزلہ زدگان کی بروقت امداد اور بحالی،پر امن ماحول میں ڈیجیٹل مردم شماری،19 سال بعد نیشنل گیمز کا انعقاد،صوبے میں پہلی مرتبہ پی ایس ایل کے نمائشی میچ کا انعقاد،صحافیوں کے لیے رہائشی کالونی اور ہاکرز ویلفیئر فنڈ کا قیام،ماہی گیروں کے لیے رہائشی کالونی،ماہی گیر کا درجہ مزدور کے برابر قرار،گوادر کو اسپیشل اکنامک ڈسٹرکٹ کا درجہ،بینک آف بلوچستان کی فزیبلٹی کی تکمیل،پی پی ایل کے ذمہ صوبے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے عملی اقدامات،سیندک میٹل لمیٹڈ کی جانب سے صوبے کو 2.5 ارب روپے کی ادائیگی،نوجوانوں کی اِسکل ڈویلپمنٹ کے لیے انڈوومنٹ فنڈ کا قیام،بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کو گرانٹ اِن ایڈ،بارڈر ٹریڈ کی موثر روانی کے لیے بارڈر مارکیٹوں کا قیام،عوام کی عزت نفس کی بحالی کے لیے غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ،صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹرن اساتذہ کی مستقلی،محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر انتظام سرچ کمیٹی کی سفارشات پر جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی،اساتذہ کی ان کے متعلقہ اضلاع میں تعیناتی،غیر فعال سکولوں کی فعالی،ایران سے گوادر کو 100 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کے منصوبے کی تکمیل،صوبے میں گندم کی قلت کو دور کرنے اور عوام کو وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے بروقت گندم کی خریداری کے ہدف کا حصول،ٹریفک انجینئرنگ بیورو کاقیام،گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA)کے 37 کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی،لواحقین کوٹہ (متوفی کوٹہ) کی بحالی،لینڈ ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، صوبے میں عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ای خدمت مراکز کا قیام،محکمہ پولیس بلوچستان میں اینٹی رائٹ وومین ونگ کا قیام شامل ہے اور ایسے بہت سے عملی اقدامات جن کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری حکومت کی کاوشوں سے مالی سال 2023-24میں وفاقی حکومت نے ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کے لیے45ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی اہم کامیابی اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے صوبہ بلوچستان کی سر زمین کو بے پنا ہ قدرتی و سائل سے نوازا ہے جس کی اہمیت کو دنیا تسلیم کر تی ہے۔ ہماری آباد ی کم اور وسائل بے شمار ہیں۔ آبادی اور وسائل کا یہ تنا سب کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب میر عبدالقدوس بزنجو صاحب کی مدبرانہ قیادت میں ہم ترقی اور خوشحالی کی مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد ہمیں سب سے بڑا چیلنج رواں مالی سال کے صوبائی ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کرانا تھا جس کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ تاہم ہم نے اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو ہر ممکن حد تک کم کیاتاکہ ہم ترقیاتی سکیموں کے لیے وسائل فراہم کرسکیں۔پی ایس ڈی پی مالی سال 2022-23 ایک سالہ ترقیاتی پروگرام تھا لیکن بہت سی مشکلات کے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا۔ ہم نے مالی سال 2022-23کے دوران ترقیاتی مد میں صوبے کی تاریخ کے سب سے زیادہ127.6ارب روپے کے فنڈز کا اجرا کیا اور بھر پور کوشش کی ہے کہ صوبے کے تما م اضلاع کو بلا تفریق ترقیاتی عمل میں شامل رکھا جائے۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجو دصوبائی حکومت نے آنے والے مالی سال کے لیے ایک متوازن بجٹ بنایا ہے اور تمام شعبہ جات کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق فنڈ ز مختص کیے ہیں۔ بجٹ 2023-24 میں حکومت کے اقدامات میں صوبے کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں یکساں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری،ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات اٹھانے اور جدت پر مبنی اصلاحات متعارف کروانے، سوشل سیکٹر کو مر بو ط بنانے، صوبے کے اپنے پیداواری شعبوں سے مزید بہر ہ مند ہونے، سماجی تحفظ کے لیے اقدامات کو وسعت دینے سمیت روزگار کے نئے مواقع پید ا کرنے اور امن و امان کی مکمل بحالی شامل ہیں۔غر ض یہ کہ معاشرے کا کوئی ایساطبقہ نہیں ہے کہ جس کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات نہ اٹھائے گئے ہوں۔ اِن اقدامات میں سرکاری ملازمین،خواتین، پنشنرز،نوجوان،ماہی گیر،مزدور سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ آئندہ مالی سال2023-24کابجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہو گا کہ موجودہ مالی سال 2022-23کے نظر ثانی شدہ بجٹ کا مختصر جائزہ معززایوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معززایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے اٹھائے گئے نئے مالی سال 2023-24کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کر وں گا۔رواں مالی سال2022-23 کے کل بجٹ کا غیر ترقیاتی تخمینہ 366ارب روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال2022-23 کا تخمینہ 405ارب روپے ہوگیا ہے رواں مالی سال2022-23کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ192ارب روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ میں کم ہو کر 127.6ارب روپے ہو گیا ہے۔ جس میں 3390جاری ترقیاتی اسکیمات کے لیے 79.7ارب روپے جبکہ 3473نئی ترقیاتی اسکیمات کے لیے 47.9ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔، رواں سال 2022-23میں اسپیشل ایس این ای (SNE)میں 7785اسامیاں تخلیق کی گئیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اب میں اس معززایوان کے سامنے مالی سال 2023-24 کے بجٹ کے بنیادی خدو خال پیش کر نا چاہوں گاآئندہ مالی سال 2023-24 کا کل بجٹ تخمینہ750ارب روپے ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 437ارب روپے ہے جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا حجم 229.301ارب روپے ہے۔ڈویلپمنٹ گرانٹسFederal Funded Projects) (کی مد میں 45ارب روپے اور فارن پروجیکٹ اسسٹنس (FPA)کی مد میں 39ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہیں۔اس طرح خسارہ 49ارب ہے۔ یہ ایک تاریخی بجٹ ہے جس کا خسارہ انتہائی کم ہے۔ جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد4721جن کے لیے170.724ارب روپے مختص کیے گئے ہیں نئی ترقیاتی اسکیمات کی کی کل تعداد5068جن کے لیے58.667ارب روپے مختص کیے گئے ہیں نئے مالی سال 2023-24میں بلوچستان کے نو جوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پید ا کرنے کے لیے مختلف محکموں میں 4389 نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت مالی مسائل کا سامنا شروع دن سے کر رہی ہے مگر نا مساعد حالات کے باوجود حکومتی اور اپوزیشن کے حلقوں کو یکساں بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں میں وسائل کی تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ صوبے کی بڑھتی آبادی کو سر کاری ملازمتوں اور دیگر روز گار کی فراہمی میں حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے میں پرائیویٹ اور پبلک پرائیویٹ اشتراک کو مزید مو ثر بنایا جائے تاکہ بے روزگاری کی عفریت کو قابومیں رکھا جاسکے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صحت کا بہتر نظام نہ صرف لوگوں کے معیار ِزندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو تا ہے۔ بلوچستان میں صحت کے شعبہ میں بہتری آئی ہے۔محکمہ صحت نے ریکارڈ مدت میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کا آغاز کیا۔ بہت جلد مذکورہ کارڈ کااجرا کیا جائے گا۔ اس انقلابی اقدام سے صوبے کے شہریوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہو گی۔سال 2023-24 میں صحت کارڈ کے لیے5.5ارب کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں،محکمہ نے 9ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال(DHQs) کو ٹیچنگ ہسپتال بنا یا،رواں سال 2022-23 میں ہماری حکومت نے صحت کے شعبے میں اہم اسکیمات شروع کیں جن میں ٹراما سینٹر کچلاک، زیارت میں BHUs،آواران میں 50بیڈڈ ہسپتال، گوادر کے ہسپتالوں اور شہید غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں سہولیات کی فراہمی شامل ہیں،محکمہ صحت نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ صوبے کے DHQs کے لیے ٹیلی میڈیسن سیٹلائٹ سینٹر کے قیام کا معاہدہ کرلیا،بارکھان میں 25 بیڈڈ (Bedded) ہسپتال کے قیام کے لیے حکومت پنجاب کے ساتھ معاہدہ کرلیا گیا،شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں Pediatric Oncology Services کے لیے انڈس ہسپتال کے ساتھ مفاہمت پر دستخط ہوئے۔مزید برآں جی ڈی اے ہسپتال گوادر میں سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی انڈس ہسپتال کے ساتھ معاہدہ ہوا،بِل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن (Bill & Malenda Gates)کے ساتھ صوبے کے منتخب سینٹرز میں ایمونائزیشن سہولیات کے لیے معاہدے پر دستخط ہوئے،نیشنل انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کے تعاون سے الرجی سینٹر کوئٹہ کو فعال بنایا گیا،نئے مالی سال 2023-24 کے لیے ٹیلی ہیلتھ کئیر، ماڈل آپریشن تھیئٹر، انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم سمیت دیگر اسکیموں کی تجاویز ہیں نئے مالی سال 2023-24 میں صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کی مد میں 4ارب88کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے،اس طرح نئے مالی سال 2023-24میں شعبہ صحت کے لیے1002 نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں مجموعی طور پر مالی سال 2023-24میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے غیر ترقیاتی فنڈز میں 51ارب 73کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سر فہرست ہے۔ حکومت بلوچستان پورے صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہر سال صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ جس کا مقصد بلوچستان میں سب کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے،رواں مالی سال 2022-23میں حکومت نے اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی،رواں مالی سال 2022-23میں سو (100) نئے پرائمری اسکولز قائم کیے گئے، پچاس (50) پرائمری اسکولز کو اپ گریڈ کرکے مڈل کا درجہ دیا گیا جبکہ پچاس (50) مڈل اسکولز کو اپ گریڈ کرکے ہائی کا درجہ دیا گیا،کوالٹی ایجوکیشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے اساتذہ کی پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 1 ارب 21 کروڑ روپے کی رقم مہیا کی،رواں مالی سال 2022-23میں گریڈ 9سے گریڈ 15کی 9396پوسٹوں پراساتذہ کی بھرتیوں کے لیے امتحانات جاری ہیں۔میرٹ پر کوالیفائیڈ اساتذہ کی بھرتیوں سے تعلیم کا معیار بلند ہوگااور تعلیمی ادارے فعال ہوں گے، سینکڑوں اساتذہ کی بھرتی بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے عمل میں لائی گئی،عالمی بینک کے تعاون سے سرحدی اضلاع میں 44اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا جس سے نہ صرف مقامی بچے استفادہ کرسکیں گے بلکہ مہاجرین کو بھی فائدہ ہوگا۔ان اضلاع میں کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور چاغی شامل ہیں،رواں مالی سال 2022-23میں انرولمنٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا،رواں مالی سال 2022-23میں 12سیلاب زدہ علاقوں میں یورپی یونین، گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن اور یونیسیف کے تعاون سے 115لرننگ سینٹرزقائم کیے گئے،نئے مالی سال 2023-24میں صوبے بھر میں 87نئے پرائمری سکول کھلیں گے جبکہ 130 اسکول اپ گریڈ ہوں گے جن میں مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولز شامل ہیں۔اس طرح863 نئی اسامیاں تخلیق ہوجائیں گیمجموعی طورپر مالی سال 2023-24میں شعبہ پرائمری و سیکنڈری تعلیم کی ترقیاتی مد میں 12ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 65ارب21کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ رواں مالی سال 2022-23میں کوئٹہ میں 15کروڑ کی لاگت سے گرلز کیڈٹ کالج کو فعال کیا گیا،زیارت میں 2ارب روپے کی لاگت سے نئے کیڈٹ کالج کی تعمیرہوگی،رڑکن ضلع بارکھان اور پشُکان ضلع گوادر میں نئے کالجوں کی تعمیر بالترتیب 20 کروڑ روپے اور 10کروڑ روپے سے قیام عمل میں لایا جائے گا،طلباکے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 1 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی،37کروڑ کی رقم مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے لیے خرچ کی گئی،انٹر کالج تسپ اورعیسائی پنجگور کو فعال کیاگیا، 5 کروڑ 40لاکھ روپے بینظیر بھٹو اسکالرشپ کی مد میں طلبا کو وظائف دیے گئے، دس پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں 2ارب50کروڑ روپے کے فنڈز تقسیم کیے گئے۔ مزید بیل آؤٹ پیکچ کے تحت 1ارب17کروڑ روپے بلوچستان یونیورسٹی، 30کروڑ بیوٹمز، 6کروڑ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی، 13کروڑ لسبیلہ یونیورسٹی اور 6کروڑ تربت یونیورسٹی کو دیے گئے، رواں مالی سال 2022-23میں سات سو سے زائد پروفیسر اور لیکچررز کو اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی،بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی دو شاخیں لورالائی اور مکران بمقام تربت قائم کی گئیں، رواں مالی سال 2022-23میں تین کیڈٹ کالجز کو فعال کردیا گیا،مکران یونیورسٹی کو بھی ایک سال میں 2ارب 52کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت سے فعال بنایا گیا،بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کو منظور کر لیا گیا،پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے چھ (6) وائس چانسلرز کی تقرری کو حتمی شکل دی گئی، ڈیپوٹیشن پر جانے والے اساتذہ کی واپسی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے۔مزید یہ کہ محکمہ کالجز اپنے اپنے اضلاع میں اساتذہ بھیج رہا ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں،رواں سال ایم فل اور پی ایچ ڈی کی پالیسی ترتیب دے دی گئی،مجموعی طور پر مالی سال 2023-24میں اس شعبہ میں غیر ترقیاتی مد میں 13ارب63کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ ترقیاتی مد میں 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ موسمی تغیرات سے پیدا ہونے والے اثرات جن میں پانی کی قلت، طویل خشک سالی، زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی، صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سمیت بارشوں اور سیلاب نے اس شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، سبسڈی کے ساتھ بلڈوزر فراہم کر کے سالانہ تقریباً24 ہزارسے27 ہزارہیکٹرزمین قابلِ کاشت بن گئی ہے،ہماری حکومت نے رواں سا ل 2.2ارب روپے کی سبسڈی دی،رواں سال 2022-23میں محکمے کے بلڈوزر زنے 78ہزار گھنٹے کام کیا اور 5ہزار سے زائد ہیکٹر کی اراضی زیر کاشت آئی،ہماری حکومت نے بلوچستان گرین ٹریکٹر پروگرام کا آغاز کیا جس کے دوسرے فیز پہ کام جاری ہے۔ اس اسیکم کے تحت آئندہ برس 1000 ٹریکٹرز دیے جائیں گے،محکمہ زراعت، فلوری کلچر (Floriculture)کے ذریعے سارا سال پھولوں کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔،محکمہ نے ٹرکل اریگیشن (Trickle Irrigation)کے نظام کوصوبہ بھر میں متعارف کروایا، رواں سال 2022-23میں 10ہزار نرسری پلانٹس تیارکیے گیے جن کو سبسڈی ریٹ پر فروخت کیاگیا اور بعض سرکاری محکموں میں درخت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مفت تقسیم کیے گئے،رواں سال 2022-23میں کچن گارڈننگ (Kitchen Gardening) کے تحت صوبہ بھر میں ٹیموں نے آگاہی مہم کی اور مختلف گھروں کو پودے اور بیج فراہم کیے گئے،رواں سال 2022-23میں سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ (Soil & Water Testing)ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ لیبارٹری نہ صرف محققین کوتحقیق کرنے میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ صوبہ بھر کے طلبہ کو بھی سہولت بھی فراہم کی جائے گی،مالی سال 2023-24 میں مشروم کی کاشت سمیت ہابرڈ(Hybrid) بیج کی پیداوارپر زور دیا جائے گا،سیلاب کے اثرات کو کم کرنے اور کاشتکار برادری کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت بلوچستان نے ”بلوچستان میں ٹریکٹر آورز کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ زرعی زمین کی بحالی“کے عنوان سے منصوبہ شروع کیا جس کی تخمینہ لاگت 4ارب روپے ہے۔ رواں مالی سال 2022-23میں 2ارب25کروڑ روپے جاری کیے گئے،مالی سال 2023-24 میں بلڈوزر گھنٹوں کے لیے صوبے کے تما م اضلاع کے لیے 1ارب 48کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،رواں سال 2022-23میں زمینداروں کو زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے بیج(seed) سبسڈی کی مد میں 2.2ارب روپے دیے گئے،ٹنل فارمنگ کے فروغ کے لیے صوبے میں 400 سے زائد ٹنلز نصب کیے گئے،قلات اور قلعہ سیف اللہ میں کولڈ اسٹوریج پلانٹ کی تعمیر زیر غور ہے،مجموعی طور پر مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی میں 11ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11ارب87کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ اس معزز ایوان کو بخوبی علم ہے کہ گندم عوام کی بنیادی ضروریات میں سے اہم جزو ہے اور اس کے مہنگا ہونے سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو تا ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومت فوڈ سیکورٹی کے لیے خاطر خواہ ذخیرہ رکھتی ہے تاکہ کسی بھی بحرانی کیفیت سے فوری طور پر بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔سستے آٹے کی فراہمی کے لیے رواں سال مختلف شہروں میں ’سستاآٹا سیل پوائنٹس‘ لگائے گئے محکمہ نے سال 2022-23میں تمام اضلاع میں 20کلو گرام آٹے کی دس لاکھ بوریاں تقسیم کیں، محکمہ نے سال 2022-23میں ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی،ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے پراونشل ریزرو سینٹر (Provincial Reserve Centre) میں نگرانی کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل نظام نصب کیا گیا ہے،نئے مالی سال 2023-24 میں گندم کی خریداری کے لیے سود سے پاک قرضے کی فراہمی کے لیے 1ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے،مجموعی طور پر مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 27 کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں علاوہ State Trading کے لیے 82کروڑ 52لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ؎؎مقامی اور نچلی سطح پر سروس ڈیلیوری کے لیے لو کل گورنمنٹ سسٹم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بلدیاتی اداروں کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے موجودہ حکومت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مزیدموثر بنانے کے لیے اقدامات اُٹھارہی ہے،اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت نے لوکل گورنمنٹ کی کاوشوں سے اس باربلوچستان بھر میں کامیاب، شفاف اور پُرامن بلدیاتی الیکشنزکروائے،لوکل گورنمنٹ نے بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ساتھ تعاون کرکے صوبے میں ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری کروائی،بلوچستان بلڈنگ کنٹرول اینڈ ٹاؤن پلاننگ رولز 2022 سمیت مختلف پالیسیوں کا اجرا کیا گیا،رواں سال 2022-23میں ترقیاتی فنڈ سے211جاری اسکیمات اور551نئی اسکیمات پر کام جاری ہے،مجموعی طور پر مالی سال 2023-24کے ترقیاتی مد میں اس شعبے کے لیے 11ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 18ارب38کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقے و عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے ذرائع مواصلات و تعمیرات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے جس میں مختلف آبادیوں کے درمیان زمینی فاصلہ بہت زیادہ ہے جس کو کم کرنے میں اس محکمے کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مواصلات کی بہتری کے لیے موجودہ حکومت صوبے بھر میں شاہراہوں کا جال بچھائے گی،رواں سال 2022-23 میں روڈ سیکٹرکی 1479میں سے 603جبکہ بلڈنگ سیکٹر کی197میں سے 50اسکیمات مکمل ہوجائیں گی،محکمہ مواصلات و تعمیرات دوسرے محکموں کو بھی تعاون فراہم کرتا ہے۔جن میں 1282اسکیمات میں سے 888پہ کام جاری ہے جبکہ 394 نئی اِسکیمات ہیں، مالی سال 2023-24 ترقیاتی مد میں اس شعبے کے لیے 60ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 13ارب 72کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جہاں صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے امن وامان کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہاں صوبے کے محل و قو ع اور وسیع وعریض رقبے کی وجہ سے امن و امان ایک بہت بڑ ا چیلنج ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے تما م قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیو ں سے صوبہ بھر میں مخدوش امن وا مان کی صورتحال کو کنٹر ول کیا گیا۔ اس حوالے سے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے۔ساتھ ہی ہمارے عوام نے اداروں کے ساتھ تعاون کیا وہ بھی قابل ستائش ہے،محفوظ سفر کے لیے قومی شاہراہوں کی سیکیورٹی کو بڑھا دِیا گیا ہے۔کوسٹل ہائی وے کی حفاظت کے لیے 1033نئی اسامیاں تخلیق کی گئیں ہیں،محرم، عیداور دیگر قومی ومذہبی دِنوں کی تقریبات کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اِقدامات کیے گئے،صوبے میں اِنٹیلی جنس میکانزم کو ہموار کرنے کے لیے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح کی ایپکس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں،دہشتگردی کو کچلنے کے لیے سی ٹی ڈی (CTD) کو بھی از سر نو منظم کیا گیا ہے۔ سات نئے سی ٹی ڈی اسٹیشن قائم کیے گئے۔ چھ سی ٹی ڈی ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی منظوری دی گئی،2300سی ٹی ایف (کاؤنٹر ٹیرارزم فورس) میں سے 1032کارپورل (Corporal)سمیت 1416کے لیے بھرتی مکمل کر لی گئی ہے،اے ٹی ایف اِسکول میں آرمی آفیسران کے زیر سایہ تربیت کے ذریعے پولیس اور لیویز کی اِستعداد کار میں اِضافہ کیا گیا ہے،رواں سال 2022-23میں تربت، گوادر اور کوئٹہ میں خواتین پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے،رواں سال 2022-23میں فارنزک لیبارٹری قائم کی گئی۔ جرائم کے خاتمے کے لیے یہ اہم اقدام ہے، F.I.Rرجسٹریشن کے نئے طریقہ کار متعارف کرنے کی تجویز ہے جس میں موبائل فون فوٹیج، تصاویر، آواز کی ریکارڈنگ بطور ثبوت عدالت میں قابل قبول ہوگی،صوبے کے 17اضلاع میں لیویز بھرتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے تقریباً2042افراد بھرتی کیے گئے اور 23اضلاع میں بھرتی کاعمل جاری ہے،لیویز میں اِنسدادِ دہشتگردی وِنگ کا قیام سمیت لیویز میں QRFکا بھی قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ لیویز میں نئے اِنٹیلی جنس وِنگ، اِنویسٹی گیشن وِنگ، کمیونیکیشن اور آئی ٹی وِنگ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح خصوصی سماجی و اِقتصادی تحفظ یونٹ کا قیام جس میں 1385اسامیاں تخلیق کی گئیں ہیں۔ اسٹیبلیشمنٹ CPECوِنگ میں بھی 1561اسامیاں تخلیق کی گئیں ہیں اور ڈیٹا ریسورس سینٹر کا قیام کا عمل میں لایا گیا ہے،لیویز ٹریننگ سینٹر (LTC)کی اِستعداد کار بڑھانے کے لیے اپ گریڈیشن کی گئی ہے اور پاک فوج کے ذریعے سے خصوصی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں 285اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جیلوں میں پیشہ وارانہ تربیت اور قیدیوں کی اصلاح کا کام جاری ہے اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن، تزئین او آرائش اور مرمت کا کام کیا جا رہا ہے۔ سینٹرل مچھ جیل، گڈانی اور ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مراکزکا قیام عمل میں لایا گیا ہے،جیلوں میں ایکس رے پلانٹس، ای سی جی اور الٹرا ساؤنڈ مشینوں اور دیگر ضروری آلات کی فراہمی کی گئی ہے،تمام سینٹرل جیلوں میں کمپیوٹر لٹریسی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،تمام ڈسٹرکٹ جیلوں میں ہائی اسکول اور تمام سینٹرل جیلوں میں ہائر سیکنڈری اسکول کا قیام اور محکمہ تعلیم اوربی TEVTAکے تعاون سے ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں تیکنیکی تعلیم کی سہولت فراہم کی گئی۔اسی طرح جیلوں میں لائبریریوں کا قیام پروونشل جیل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (PPTI)کا قیام عمل میں لایا گیا،سینٹرل جیل کوئٹہ کی کچلاک کے قریب تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں جیل کی نئی عمارات تکمیل کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر سول ڈیفنس کے دفاتر کا قیام اور ڈویژنل سطح پر سی ڈی بی ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کاقیام عمل میں لایا گیا ہے،مالی سال 2023-24 میں مندرجہ بالا شعبہ جات کے لیے غیر ترقیاتی مد میں مجموعی طور پر51ارب روپے مختص جبکہ ترقیاتی مد میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا کہ ڈ گورننس کے مجموعی وژن کے تحت، بورڈ آف ریونیو نے بین الاقوامی قواعد کے مطابق ریونیو ریکارڈ کی آٹومیشن اور کمپیوٹرائزیشن کا آغاز کیا ہے،بورڈ آف ریونیو نے LRMIS پروجیکٹ کو کامیابی کے ساتھ شروع کیا ہے۔ ضلع گوادر اور پشین میں دسمبر 2022 میں سہولیت مراکز قائم کیے گئے۔ جعفرآباد اور کوئٹہ میں دو مزید سینٹرز بھی اگلے سال قائم ہوں گے، مذکورہ سہولت مراکز وَن وِنڈو آپریشن (One Window Operation)کے تحت زمین مالکان کومختلف سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جیسے کمپیوٹرائزڈ فرد،رجسٹری، زمین کی منتقلی، خودکار لینڈ ٹیکس کلیکشن، ڈیجیٹائزڈ نقشہ جات، جائیداد، وراثت وغیرہ، محکمہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے،اسٹمپ ڈیوٹی کی وصولی حکومت بلوچستان کے ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ صدیوں پرانے عمل میں بڑے مسائل تھے۔ ان پر قابو پانے کے لیے محکمہ ریونیو E-Stampingنافذ کر رہا ہے،مالی سال 2023-24 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 4ارب38کروڑ روپے مختص جبکہ ترقیاتی مد میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک نے کہا کہ محکمہ نے پہلی بار بلوچستان میں ٹریفک انجینئرنگ بیورو کا ماڈل متعارف کرایا ہے۔ بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو ایکٹ 2022 میں منظور کیا گیا تھا۔مذکورہ بیورو بلوچستان کے شہری علاقوں کے لیے ایک قابل عمل ماسٹر پلان دے گا جس کا آغاز کوئٹہ سے ہوگا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ گرین بسوں کو چلانے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کررہا ہے۔ابتدائی طورپر محکمہ نے8بسیں خریدیں جس کا ایک روٹ بیوٹمز ایئرپورٹ روڈ سے سریاب روڈکوئٹہ تک ہے۔ تاہم محکمہ ٹرانسپورٹ نے 100 بسوں کی تجویز پیش کی ہے۔ اس نظام کو پورے شہر میں پھیلایا جائے گاحکمہ ٹرانسپورٹ تمام پبلک سروس گاڑیوں میں ٹریکرز کی تنصیب کے ایجنڈے پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کوئٹہ سے دیگر صوبوں کے روٹس پر چلنے والی تمام بسوں میں ٹریکرز لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب تک 204 بسیں ٹریکرز سے لیس ہو چکی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈرائیورز اکیڈمی کے قیام کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔ بلوچستان کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں B-TEVTA مراکز میں باقاعدگی سے ڈرائیورز کے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے،مسافروں کی سہولت کے لیے شکایت پورٹل کی ایپلیکیشن تیار کی گئی ہے۔ تاکہ وہ عملہ، بس ڈرائیور اور سروس سے متعلق شکایات اور تجاویز سے حکومت کو آگاہ کرسکیں،قانونی دستاویزات کے بغیر چلنے والے رکشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے سمارٹ کارڈز کے ساتھ منسلک RTA ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے ایک اسکیم کی منظوری دی گئی ہے، مالی سال 2022-23 میں محکمہ نے 8 کروڑ روپے کا ریوینیو اکٹھا کیا، وفاقی حکومت کے تعاون سے ماس ٹرانزٹ سسٹم کا آغاز کیا جائے گا۔ یاد رہے ماس ٹرانزٹ ایکٹ 2017 میں پاس کیا گیا تھا۔اس منصوبے سے شہری نقل و حرکت قابل اعتماد اور آسان ہو جائے گی،محکمہ ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ، ڈرائیور، ٹرانسپورٹ کمپنی اور دیگر قانونی تقاضوں وغیرہ سے متعلق بسوں کی آن لائن ڈیجیٹل تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس سسٹم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، محکمہ ٹرانسپورٹ،وہیکل انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سسٹم(VICS) کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ VICS بنیادی طور پر گاڑیوں کے معائنے کا طریقہ کار ہے۔ جس کے تحت فٹنس کوالیفائی کرنے کے لیے گاڑیوں کو سات قسم کے ٹیسٹ سے گزرنا ہوگا،صوبے کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پی ٹی اے اور آر ٹی اے کے دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا،الی سال 2023-24 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 20کروڑ 81لاکھ روپے جبکہ ترقیاتی مد میں 3 کروڑ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا اہم جزو ہے۔ آبپاشی جیسے اہم شعبے پر ہمیں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ایک طرف محدودپانی کے وسائل ضائع ہورہے ہیں تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح ٹیوب ویلوں کے زائد استعمال سے خطرناک حد تک نیچے گر چکی ہے۔ اس ناموافق صورت حال سے ہماری حکومت بخوبی واقف ہے جس سے نمٹنے کے لیے جدید آبپاشی کے نظام اور پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ڈیمز کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اس حوالے سے صوبہ بھر میں ہر قسم کے اقدامات اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں مالی سال 2022-23 میں آ ب پاشی کا کل حجم 15.69 ارب روپے تھا۔اس میں 193 جاری اسکیمیں جبکہ 342 نئی اسکیمات شامل تھیں۔جس میں سے230اسکیمیں پایہ تکمیل تک پہنچیں۔ جس میں گھروں اور زرعی زمینوں کی سیلاب سے حفاظت کے لیے بندات، نہروں میں پانی کی روانی بر قرار رکھنے کے لیے بھل صفائی اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے صوبے میں نظام آبپاشی، زیر زمین پانی کی سطح کوبلند کرنا اور پانی کی قلت کو قابو کرنے میں مدد ملی، رواں مالی سال میں صوبائی تر قیاتی بجٹ سے بولان ڈیم اور گوادر میں شینزانی ڈیم جبکہ وفاقی و صوبائی حکومت کے مشترکہ تعاون سے گروک ڈیم خاران، بسول ڈیم گوادر اور وندر ڈیم لسبیلہ پر کام جاری ہے جبکہ گشکور ڈیم کیچ، پنجگورڈیم، آواران ڈیم اور سُنی گر ڈیم خضدار ابتدائی مراحل میں ہیں۔ان ڈیموں کی تکمیل سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور ایک لاکھ سات ہزار ایکڑزرعی زمین آباد ہو گی۔ جس سے بلوچستان کی معیشت کی ترقی میں قابل قدر اضافہ ہو گا،محکمہ ایریگیشن کی شب و روز کاوشوں کی بدولت حالیہ بارشوں سے جو نقصانات اور تباہ کاریاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔اس ضمن میں بلوچستان حکومت نے 78 کروڑ کی خطیر رقم برائے بحالی سیلابی نقصانات پٹ فیڈر کینال، کھیرتھر کینال و ذیلی شاخوں کے لیے مختص کی اور محکمہ آبپاشی نے انتھک محنت، جانفشانی اور دن رات کی تگ ودو سے نہری نظام کو بحال کیا،محکمہ ایریگیشن اور ڈونرز ایجنسیز (ورلڈ بینک،ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور NDRMF)کے تعاون سے محکمے کی طرف سے20 ارب کی چھوٹی اسکیمات کی نشاندہی اور رقم مختص کی گئی ہے جوحالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں،صوبائی حکومت کے تعاون سے کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میں 1 ارب کے چھوٹے چیک ڈیموں کی تعمیر کا آغاز ہوا،صوبائی حکومت کی کاوشوں سے پٹ فیڈر کینال کی لائننگ اور اسے پختہ کرنے کا منصوبہ و فاقی PSDP میں منظور ہوا جس کی لاگت 64 ارب روپے ہے۔اس منصوبے سے 6 لاکھ 16 ہزار ایکڑ زرعی زمینیں آباد ہوں گی او ر نصیر آباد ڈویژن کو پینے کے پانی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا، محکمہ نے ضلع گوادر، لسبیلہ اور قلعہ سیف اللہ میں 6میڈیم ڈیم بنائے۔جبکہ ضلع گوادر، خاران، کیچ، آواران، پنجگور اور خضدارمیں ڈیمز پہ کام جاری ہے۔ دیگر اضلاع میں ڈیموں کی تعمیر کی تجویز پیش کی گئی ہے،پٹ فیڈر کنال کی توسیع پہ کام جاری ہے۔ یہ پروجیکٹ فیڈرل پی ایس ڈی پی 2022-23میں 42ارب روپے کی لاگت سے شامل ہے،سیلابی پانی کی مناسب منصوبہ بندی کے لیے اریگیشن ڈپارٹمنٹ نے ’انفارمینشن منیجمنٹ سسٹم‘ متعارف کروایا ہے۔ ان نظام کے ذریعے آب وہوا، موسم، پانی اور سیلاب کی صورت حال کا ڈیٹا آسانی سے لیا جائے گا،مالی سال 2023-24 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 3ارب63کروڑ روپے جبکہ ترقیاتی مد میں 18 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ دیگر شہروں میں پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے،محکمہ نے PSDP، SDGsاور R&UDP کے تحت رواں مالی سال 2022-23 میں 490 ترقیاتی سکیمیں مکمل کیں، اب تک 836 منظور شدہ واٹر سپلائی سکیموں میں سے 303 اسکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے،سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سبزل روڈ کوئٹہ کی بحالی کا کام مکمل ہوا۔ یہ پلانٹ روزانہ 1.8ملین گیلن ٹریٹڈ (Treated)پانی فراہم کر رہا ہے، کچھی پلین(Plain) واٹر سپلائی سکیم فیزII پر 90% فزیکل پیش رفت ہو چکی ہے،ڈیجیٹل بلنگ اینڈ کلیکشن سسٹم کے نظام کوWASA اور 20 اضلاع میں نصب کیا گیا،لورالائی، خضدار، سبی اور واسامیں واٹر کوالٹی لیبارٹریزکا تعمیراتی کام مکمل ہو گیا،پی ایچ ای نے درجہ چہارم کی 639 اسامیاں مشتہر کیں۔ ان آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے، منگی ڈیم کو دسمبر 2023 تک مکمل کیا جائے گا جس سے کوئٹہ شہر کو روزانہ8.1 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا،شادی کور ڈیم سے کولانچ ویلی پسنی کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے PDWP نے 2023-24مذکورہ اسکیم کے پی ایس ڈی پی میں 2 ارب40کروڑ روپے کی منظوری دی ہے،مالی سال2023-24 میں آب نو شی کے لیے ترقیاتی مد میں 23 ارب روپے اورغیر ترقیاتی مد میں بشمول واسا8ارب60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی سی ٹی پوری دنیا میں قوموں کی ترقی کے علامات سمجھی جاتی ہیں۔ حکومت بلوچستان تمام علاقوں میں سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے آئی سی ٹی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے، 2.2ارب کی لاگت سے’کوئٹہ سیف سٹی‘ کو شہر بھر میں سیکورٹی سرویلنس کے لیے مکمل کیاگیا۔ تاکہ وہاں کے شہریوں اور اثاثوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے، ورچوئل ایجوکیشن،ای لرننگ سسٹم‘ پروجیکٹ کے ذریعے، کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور انگلش کی گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیکچرز اور پریکٹیکل تیار کیے گئے اورصوبے کے 100 سیکنڈری اسکولوں اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں،کالجوں میں سولرائزیشن، سمارٹ بورڈز وغیرہ سمیت انفراسٹرکچر کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا،آئی ٹی کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے چار آئی ٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ زیارت، نصیر آباد، ژوب اور قلعہ عبداللہ میں مکمل ہو گئے جبکہ قلات، جعفرآباد اور ہرنائی میں تین آئی ٹی ٹریننگ سینٹرز جلد مکمل ہونے کی امید ہے،گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپ پروگرام کے لیے Tech-Valley Pakistan کے ساتھMoUپر دستخط کیے گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے بے زورگاری پہ قابو پایا جائے گا،ای خدمت سروس کا آغاز کیا گیا۔اس کے ذریعے عوام کو ایک چھت تلے بہترین سہولیات مل رہی ہیں،مالی سال 2023-24 اس شعبے کے ترقیاتی مد میں 7ارب روپے اور غیر قیاتی مد میں 54کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ محکمہ اطلاعات، حکومت اور پریس کے مابین خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں ہمیشہ سے کلیدی کر دار رہا ہے۔ موجودہ سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) کے دور میں اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہواہے۔ پرنٹ،الیکٹر انک اور سو شل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات، پالیسیوں کو اجا گر کرنے کے لیے محکمے کی کا وشیں قابل تحسین ہیں، خا ص طور سے بروقت معلومات تک رسائی اور عوام میں شعور و آگائی پیدا کرنے کے لیے محکمے کے افسران و اہلکاران فرنٹ لائن پر دن رات کا م کر رہے ہیں رواں مالی سال 2022-23کے دوران محکمہ اِطلاعات بلوچستان نے بہت سے اہداف حاصل کیے ہیں جن سے صوبائی حکومت کی پالیسیوں کی تشہیرمیں مدد مل رہی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اور حکومت کے درمیان خوشگوار تعلقات کے لیے بھی بہت سے عملی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں،محکمہ اطلاعات نے اپنے سبی ڈویژن کے ڈویژنل انفارمیشن دفتر کا تعمیراتی منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ اس سے سبی ڈویژن میں اطلاعات کے فروغ اور حکومتی پالیسیوں کی تشہیر و فروغ اور عوام میں حکومتی کارکردگی اجاگر کرنے میں مدد ملے گی،محکمہ اطلاعات بلوچستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل میں ایک جدید ڈیٹا انفارمیشن سیل قائم کیا گیا ہے جو مقامی و قومی اور بین الاقوامی سطح کی خبروں و دیگر جدید اطلاعاتی و معلوماتی مواد کی مانیٹرنگ کر سکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی پالیسیوں کی تشہیر و ترویج میں مصروف عمل ہے،محکمہ اطلاعات بلوچستان نے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر کام کا آغاز کردیا ہے اور بہت جلد تمام اسٹیک ہولڈرز کی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا،محکمہ اطلاعات بلوچستان نے اخبارات کے دیرینہ مطالبہ کے پیش نظر اشتہارات پالیسی 2023صوبائی کابینہ سے منظور کرواکر اس پر عمل درآمد شروع کردیا ہے تاکہ صوبے کے مقامی ذرائع ابلاغ کو فروغ دیا جا سکے،2023-24میں ڈویژنل انفارمیشن آفس ژوب کا قیام عمل میں لایا جائے گااس کے علاوہ صوبے بھر کے پریس کلب و صحافیوں کے لیے گرانٹس کی بھی منظوری لی گئی ہے۔ صوبے کے متعدد اضلاع میں مالی سال 2021-22اور 2022-23 میں پریس کلبز کے لیے 20,20لاکھ روپے کی گرانٹس بھی فراہم کی گئیں مالی سال 2023-24 اس شعبے کے ترقیاتی مد میں 9کروڑ روپے اور غیر قیاتی مد میں 71کروڑ 61لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمارے صوبے کو معدنیات سے مالامال کیا ہے ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ ہماری حکومت نے خوش اسلوبی سے طے کروایا جس کے تحت ہمارے صوبے بالخصوص ضلع چاغی کے لوگو ں کو روزگار ملے گا،ریکوڈک میں ہونے والی 8ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کی نجی سرمایہ کاری کی تاریخ میں سب سے نمایاں ہے،15دسمبر 2022کو پایہ تکمیل کو پہنچنے والے معاہدے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 68کروڑ روپے حکومت بلوچستان کو موصول ہوئے۔ مزید ایک ارب 45کروڑ روپے ایڈوانس رائلٹی کی مد میں بھی موصول ہونے کوہیں۔ اس معاہدے کے بعد کئی ملکی اور بیرونی کمپنیوں نے بلوچستان میں معدنیات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی درخواستیں جمع کرائی ہیں جن پر معدنیات کی پالیسی اور قوانین کی روشنی میں غور کیا جارہا ہے،رواں مالی سال 2022-23 میں محکمہ نے 7ارب 20کروڑ سے زائد رقم صوبائی خزانے میں جمع کیے،رواں سال مختلف معدنیات کے لے82 لائسنزدیے گئے تاکہ معدنی وسائل کی تلاش اور کان کنی کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ 43غیر قانونی لیز بھی کینسل کردیے گئے،حکومت نے معدنیات کے لیبر اور ان کے بچوں کی بہبود کے لیے 50کروڑ روپے کے پراجیکٹس کی منظوری دی ہے جس کے تحت سکول، ڈسپنسری کی تعمیر اور اسکالرشپس مہیا کی جائیں گی،محکمہ کان کنی و معدنیات پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مِنرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کے آغاز پر غور کررہی ہے جس سے منرل ٹیسٹنگ کی سہولت بلوچستان میں میسر ہوگی، مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 80کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2ارب82کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو دنیا کی بہترین ساحلی پٹی سے نوازا ہے۔جس میں کوسٹل ٹورازم(Coastal Tourism)کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے بے پنا ہ مواقع موجو دہیں۔ اس حوالے سے حکومت بلوچستان جامع حکمت عملی کے تحت پوری ساحلی پٹی کی بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ماسٹر پلاننگ کر ارہی ہے، محکمے نے رواں مالی سال سیکورٹی ایجنسیوں کے تعاون سے 25 سے زائدغیر قانونی ٹرالروں کو کامیابی سے پکڑا ہے،سمندر میں غیر قانونی شکار سے نمٹنے کے لیے، فشریز پیٹرولنگ اسٹاف کو باضابطہ طور ایک خصوصی فورس ڈکلیئر کیا گیا ہے،بلوچستان کے غریب ماہی گیروں پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے محکمہ نے ماہی گیری لائسنس اور اس کی تجدید کی فیس میں کمی کردی ہے،مقامی ماہی گیروں کو زندگی کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جن میں ماہی گیر کالونیوں کی تعمیر، کمیونٹی سینٹرز کا قیام، کشتیوں کی مرمت کی ورکشاپس اور ماڈل فش مارکیٹس شامل ہیں۔ مزید برآں محکمے نے فشریز ٹریننگ سینٹر، فش ہیچری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فشریز کے قیام جیسے منصوبے بھی شامل ہیں،محکمہ نے بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس اور ایکسپو (PIMEC) میں حصہ لیا اور نجی شعبے کے ساتھ مفاہمت کی کئی یادداشتوں (MOUs) پر دستخط کیے ہیں،ساحلی سیاحت کو فروغ دینے اور مقامی باشندوں کو متبادل ذریعہ معاش فراہم کرنے کے لیے ریزورٹس (Resorts)اور بیچ پارکس کی تعمیر جاری ہے۔ توقع ہے کہ ان کوششوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کیا جائے گا، گوادرلسبیلہ لائیولی ہُڈ سپورٹ (Gwadar Lasbela Livelihood Support Program) سمیت متعدد غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔ تین جیٹیوں کی تعمیر کا کام کیا گیا جبکہ پسنی فش ہاربر کی بحالی جلد شروع کی جائے گی،ساحلی ترقی کے شعبے میں مستقبل کے اقدامات میں سلپ ویز کی تعمیر، ایک میگا ریزورٹ اور گڈانی اور کنڈ ملیر میں مرینا کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں،کاروبار کے آغاز کے لیے 300 بے روزگار گریجویٹس اور 1000 ماہی گیروں کو ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام پیش کیے جائیں گے، مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 2 ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2ارب 82کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ قانون کے مناسب عمل کے ذریعے مجرموں کو سزا کے بغیر متوازن معاشرے کا قیام ممکن نہیں ہے۔ ایک موثر پراسیکیوشن کی خدمات مہذب معاشرے میں مجرمانہ نظام انصاف کا ناگزیر ستون ہیں۔ محکمے کے سروس سٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے،سالانہ پراسیکیوشن رپورٹ کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے اگست 2023سے پہلے بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے بلوچستان کی پہلی پراسیکیوشن پالیسی2023-28 پر کام جاری ہے۔ ریئل ٹائم پراسیکیوشن انفارمیشن مینجمنٹ قائم کیا جائے گا تاکہ صوبہ بھر میں مجرمانہ مقدمات کی کارروائی میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے اور فیصلوں کے خلاف بروقت اپیلیں دائر کی جا سکیں،پراسیکیوٹرز کے رہائشی منصوبوں، کوئٹہ میں پراسیکیوٹر کمپلیکس، پراسیکیوٹرز کے لیے دفاتر کی تعمیر کی تجاویز پیش کی گئی ہیں،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 52کروڑ 34لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے بلوچستان نصف پاکستان کا حصہ ہے۔ بکھری آبادی کے باعث توانائی کی سہولیات کی فراہمی کے لحاظ سے بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ رہا ہے۔خوش قسمتی سے قدرت نے دیگر نعمتوں کے علاوہ بلوچستان کو متبادل توانائی کے ذرائع سے بھی نوازا ہے جو کہ بہتر منصوبہ بندی کی بدولت عوام کو کم خرچ توانائی مہیا کر نے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے،وزیراعلیٰ جناب میر عبدالقدوس بزنجو کی دور اندیش قیادت اور ٹھوس موقف کے سبب پی پی ایل (PPL) سے55ارب گیس رائلٹی کی مد میں بقایاجات کی وصولی کے لیے وزیراعظم جناب میاں محمد شہبا ز شریف کی ہدایت پر کمیٹی قائم کی گئی،مکران جو کہ صرف ایران سے اِضافی بجلی کی درآمد کردہ بجلی پر منحصر تھا کے قومی گرڈ سے منسلک ہونے پر اضافی بجلی ملنے سے علاقے میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں ایران سے اضافی 100میگاواٹ بجلی کے منصوبے کی تکمیل سے خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا،حکومت نے CPECکے تحت گوادر میں مستقبل کی توانائی کی ضروریات جو کہ صنعتی و معاشی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے نہایت اہم ہے کے پورا کرنے کے لیے گوادر میں کوئلہ سے سستی بجلی کی پیداوار کے لیے دوست ملک چین کے تعاون سے نئے بجلی گھر کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔صوبائی حکومت نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے دور دراز علاقو ں جیسے آواران گرڈ اوراس کی قومی گرڈ سے منسلکی کے منصوبے پر 1ارب 41کروڑ روپے کی خطیر رقم کے خرچ سے کام شروع کردیا ہے،مالی سال 2022-23 میں حکومت بلوچستان نے دیہی علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر 3ارب 12 کروڑروپے خرچ کرنے سے تقریباً2900سے زائد دیہاتوں کو بجلی کی سہولت بہم پہنچائی گئی،متبادل توانائی کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت نے90کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً5000گھرانوں کو چھوٹے گھر یلو شمسی توانائی پر مبنی سسٹم مہیا کیے۔ یہ گھرانے اس سے قبل بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم تھے اور دور دراز علاقوں میں رہائش کی وجہ سے انہیں بجلی کی فراہمی تقریباًناممکن تھی،سی پیک گوادر ٹرانسمیشن لائن پر کا جاری ہے جس سے گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ ساتھ ہی گوادر میں کوئلہ سے بجلی کی پیداوار پر کام ہو رہا ہے جس سے گوادر کو 300میگا واٹ بجلی مہیا کیا جائے گا،بلوچستان سول سیکرٹریٹ میں 1میگا واٹ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی اور ساتھ ہی میٹر سسٹم لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں کمشنر کے دفاتر کو 20سے 25کلو واٹ شمسی توانائی کے ذریعے سے بجلی مہیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،حکومت بلوچستان صوبے کے ایسے اسکول جو کہ قومی گرڈ سے غیر منسلک ہیں کو شمسی توانائی مہیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے تعلیم کے مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملے گی،توانائی کی صوبائی و قومی ضروریات اور بلوچستان میں متبادل ذرائع توانائی کے استعدادکے پیش نظر بلوچستان پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے زیر اہتمام بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹیڈ کے اشتراک سے نجی شعبے کو متبادل توانائی کے 27منصوبوں کی تنصیب کی اجازت دی گئی ہے،بلوچستان کے سرحدی علاقہ جات سے منسلک روزگار کو تحفظ دینے کے لیے بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ تفتان میں ایل پی جی ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کر رہی ہے تا کہ ایل پی جی کی بذریعہ روڈ ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے اور عوام الناس کو معیاری ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔مجموعی طور پر مالی سال 2023-24ترقیاتی مد میں ا س شعبے کے لیے9 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 6ارب80کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا کہ بلوچستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے۔ سال 2022میں ہونے والی بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تباہی مچائی۔ بڑے پیمانے پرانفراسٹرکچر کو تباہ کیا۔ محکمہ ماحولیاتی تبدیلی وماحولیات کے ماتحت بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی(Environmental Protection Agency) صوبہ بھر میں ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کے یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے،گرین ہاؤس گیسز کے اخراج اور اثرات کو کم کرنے کے لیے صوبہ بھر میں کام کرنے والی صنعتوں میں سکریبرز لگوائے جا رہے ہیں،مندری آلودگی کو ختم کر نے کے لیے متعلقہ صنعتوں میں Treatment Plantنصب کروائے جا رہے ہیں۔چالیس کے قریب اینٹوں کے بھٹوں کو روایتی Bull Trench ٹیکنالوجی سے دور ِ حاضر کی جدید Zigzagٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے،حکومت بلوچستان کے پی ایس ڈی پی پروگرام کے تحت انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ایک عدد Ambient Air Mobile Monitoringاسٹیشن خریدا ہے جو کہ حب اور گوادر میں Air Quality Indexکے تعین اور موصول میں موجود زہریلی گیسوں کا معائنہ کرے گا اور اس کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،حکومت بلوچستان کے پی ایس ڈی پی پروگرام کے تحت کوئٹہ، حب، لورالائی اور ژوب میں Solid Waste Managementکے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک فزیبلیٹی اسٹڈی کروائی جا رہی ہے تا کہ ان اضلاع میں سالِڈویسٹ کے مسئلہ پر قابو پایا جا سکے، حکومت بلوچستان نے بلوچستان انوائرمینٹل ایجنسی کے استعداد کار کو بڑھانے کے لیے Integrated Development Programکے تحت پی ایس ڈی پی2022-23میں دس کروڑ کی روپے کی رقم مختص کی تھی، صوبہ بھر میں پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری سے Balochistan Plastic Shoping & Flat Bags Act, 2022کو صوبائی اسمبلی کو بھیجا گیا ہے،کوئٹہ شہر کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں سے نکلنے والے زہریلے اور نقصاندہ فضلے کی نگرانی اور ٹھکانے لگانے کے عمل پرانوائرمینٹل ایجنسی مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ گڈانی میں موجود شپ بریکنگ یارڈ کی مسلسل نگرانی کویقینی بنایا گیا ہے تا کہ ماضی جیسے کسی بھی خطرناک حادثہ سے بچا جا سکے،رواں سال کے پبلک سیکٹر پروگرام کے تحت بلوچستان اِنوائرمینٹل ایجنسی کے ماتحت ایک Climate Changeیونٹ بنایا جائے گا جو کہ صوبہ میں وقوع پذیر ہونیوالی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے کا م کرے گا۔ اس کے علاوہ Establishment of Balochistan Comprehensive Environment & Climate Change Research Institute بنائے جانے کی تجویز زیر غور ہے،بلوچستان انوائرمینٹل ایجنسی نے NOCsاور جرمانے کی مدمیں 4کروڑ روپے کا ریونیو اکٹھا کیا اور صوبائی خزانہ میں جمع کروایا،مالی سال 2023-24اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 22کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 49کروڑ 28لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ذریعے بلوچستان ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ اتھارٹی (BHA)ایکٹ نافذ کیا گیا،بلوچستان کے 34ضلعی ہیڈ کوارٹرز،ٹاؤنز کے ماسٹر پلانز پہ کام جاری ہے،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ماسٹر پلان کی ترتیب محکمہ ہذا نے دی،دالبندین ٹاؤن، وڈھ ٹاؤن اور جاہُو ٹاؤن کے ماسٹر پلانز کی تیاری اور ترقی زیر غور ہیں،کیوڈی اے ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا گیا،بلوچستان کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور بڑے شہروں میں محکمے کے ذریعے کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں کا آغاز کیا جائے گا،ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے اورسہولت فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو پورٹل کا قیام عمل میں لایا گیا،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 3 ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 39کروڑ24لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ بلوچستان کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیواسٹاک سے منسلک ہے۔ وزیر اعظم پاکستان پروگرام کے تحت بلوچستان میں دیہی مرغبانی کے فرو غ کے لیے 32کروڑ روپے اور 63کروڑ روپے کی لاگت سے بھیڑ بکریوں کو فربہ کرنے کے منصوبوں پر عمل جاری ہے اور اِمسال اس کی مد میں صوبہ کے مختلف اضلاع گوادر، ڈیرہ بگٹی، کچھی، نصیرآباد، جھل مگسی، ہرنائی، جعفر آباد اور شیرانی کے 2800بیواؤں اور نادار غریب خاندانوں میں 28ہزاردیہی مرغیاں تقسیم کی گئیں۔ جبکہ باقی ماندہ اضلاع میں اس سے قبل دیہی مرغیاں تقسیم کی جا چکی ہیں،حکومت کے بر وقت اقدام سے لیمپی سکن(Lumpi Skin) بیماریوں سے گائیوں کو بچانے کے لیے5کروڑ روپے کی لاگت سے ویکسین خریدی گئی اور پورے صوبے میں مالداروں کو بھاری نقصان ہونے سے بچایا گیا اور ویکسین کو جاری رکھتے ہوئے مزید 18کروڑ روپے جاری کیے گئے تا کہ مالداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جاسکیں،ڈیرہ مراد جمالی میں مصنوعی تخم ریزی کے مرکز کے قیام کے لیے 8کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے۔ ژوب اور حب میں جدید مذبح خانہ و گوشت پروسیسنگ یونٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے،ویٹرنری ریسرچ سینٹر اور ویکسین لیبارٹری کے قیام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ریسرچ کے دفتر کی تعمیر کے لیے 10کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے،صوبے میں جانوروں کے وبائی امراض کی رپورٹنگ کے لیے 12کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے جس پر کا م کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سرکاری پولٹری فارموں میں اصلاحات اور ہیچری کی تنصیبات کے لیے10کروڑروپے کی لاگت سے کا م جاری ہے، بیف پروڈکشن ریسرچ سینٹر سبی کی توسیع کا کام جاری ہے اور گورنمنٹ ڈیری فارم کوئٹہ کی مزید بہتر اور جدید طرز بنانے کے لیے 14کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے،تربت میں ویٹرنری ایجوکیشن کی ترویج اور تربیتی صلاحیتوں کو اجاگر کر نے کے لیے 75کروڑ روپے کی لاگت سے ویٹرنری اِنسٹیٹیوٹ تربت کے قیام کی تجویز ہے،بھیڑ بکریوں میں امراض کے تدارک کے منصوبے کے لیے 10کروڑ روپے سے اسکیم کی تجویز ہے،مالی سال 2023-24اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.5ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 5ارب4کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے صوبے میں پندرہ سے 24سال کی عمر کے نو جوانوں کی تعد اد 20 لاکھ سے زائد ہے اور نو جوانوں کو روزگار فراہم کرنا بلاشبہ ہم سب کے لیے اہم چیلنج ہے۔ نو جوان نسل کو مختلف ہنر کے شعبوں میں تربیت دے کر انہیں کا ر آمد بنانا اور ان کی سماجی و معاشی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا حکومت کی ذمہ دار یوں میں شامل ہے تاکہ و ہ سماج میں ایک بہتر مقام حاصل کر سکیں اور منفی رجحانات کی طرف مائل نہ ہوں، مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے تقریباً12 مختلف لیبر قوانین بنائے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مختلف لیبر کورٹس میں مقدمہ چلایا جاسکے گا،محکمہ نے 2022-23 میں 50 لاکھ سے زائد ریونیو اکٹھا کیا ہے۔ آئندہ برس80 لاکھ تک محصولات کی وصولی کی تجویز پیش کی ہے،یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ چائلڈ لیبر سروے (CLS) کے نام سے ایک پروجیکٹ چل رہا ہے۔ منصوبے کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 2023 کے آخر میں مکمل ہو جائے گا، مزید برآں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 2022-23 میں اس محکمے میں سات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، چھ صنعتی حفظانِ صحت اور چار تحقیقی افسران بھرتی ہوئے۔ جس سے محکمے کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا تاکہ موجودہ لیبر قوانین کو انتہائی موثر طریقے سے نافذ کیا جا سکیمحکمہ خزانہ نے حال ہی میں بلوچستان ہوم بیسڈ ایکٹ (Home Based Act) 2022 کے مطابق ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے ابتدائی طور پر 10 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر ز کو سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) میں تبدیل کرنے کا کام GIZ کے تعاون سے مکمل ہو چکا ہے اوراکتوبر2022 میں اس حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، حکومت بلوچستان نے 20 کروڑروپے کی لاگت سے BTEVTA کمپلیکس کے قیام کے لیے PC-I کی منظوری دی ہے، ایس ڈی پی (SDP)کے ذریعے حکومت پنجاب کے مالی تعاون سے ضلع خاران میں ٹیکنکل ٹریننگ سینٹرکی تعمیر مکمل ہوئی، صوبائی اسمبلی نے ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تحت بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن (BBTE) کی منظوری دی، ہاشو ہُنر ایسوسی ایشن کے ساتھ صوبائی کابینہ کی منظوری سے مہمان نوازی اور سیاحت کے10 تجارتوں میں 500 نوجوانوں کی تربیتی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے B-TEVTA کے انڈومنٹ فنڈ کے لیے 2ارب روپے کی منظوری دی ہے جسے سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے محکمہ خزانہ کے تحت رکھا جائے گا،مالی سال 2023-24اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 40کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2ارب 29کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ صنعتی ترقی ملکی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ محکمہ صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، سر حدی علاقوں میں لوگوں کے روزگا ر کو یقینی بنانے کے لیے حب اور چمن اسپیشل اکنامک زون سمیت ایران اور افغانستان کے ساتھ کمرشل مارکیٹس کا قیام عمل میں لایاگیا۔ گبد(گوادر)،مند(کیچ) اور چیدگی (پنجگور) میں کام مکمل ہوا،گوادر اسپیشل اکنامک ٹیکس فری زون کی منظوری دی گئی،ضلع چمن،حب اور گوادر میں سینکڑوں ایکڑزمینوں پر خصوصی اقتصادی زون کے قیام کا عمل جاری ہے،بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کوئٹہ دفتر میں عوام کے لیے وَن وِنڈو سہولت(One Window Facility) فراہم کی گئی، بلوچستان کی پہلی سرمایہ کاری پالیسی پہ کام جاری ہے۔ حکومت سے جلد منظوری لی جائے گی،مالی سال 2023-24اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1 ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2ارب15کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں رجسٹرڈمعذور افرادمیں 100وہیل چیئرز،155ٹرائی موٹر سائیکل، 25الیکٹرک وہیل چیئرز تقسیم کی گئیں یونیسیف کے تعاون سے کوئٹہ میں نئی طرز کاچائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا گیا۔آئندہ ایسے یونٹس ڈویژنل سطح پر بھی قائم کیے جائیں گی،بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے 6ارب روپے سے رولز اور پالیسیز کے مطابق2848 مریضوں کااعلاج کیا گیا،بلوچستان ہُنر مند پروگرام کے تحت 7500نوجوانوں کو تربیت دی گئی، رواں سال 3527دستکاری مشینیں اور 56 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے،نصیرآباد میں دارلامان کی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 92کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 2ارب 55کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کی مجموعی آبادی کا 60 فیصدنو جوانوں پر مشتمل ہے۔ان کی فلاح و بہبود اور انہیں مثبت سر گرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے حکومت بلوچستان مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے،رواں سال 2022-23 میں اسپورٹس ڈپارٹمنٹ نے بلوچستان میں 19 سال بعد34th نیشنل گیمز کا انعقاد کیا جوکہ صوبے کے لیے ایک اعزاز ہے،کوئٹہ گلیڈئیٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان PSL 8th کا نمائشی کرکٹ میچ کھیلا گیا،آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان تیسری ڈائمنڈ جوبلی فٹ بال اور ہاکی گولڈ کپ کا انعقاد کیاگیا،18 سال بعدکوئٹہ میں آل پاکستان بی گریڈ نیشنل باسکٹ بال چیمپئن شپ منعقد ہوئی،آل پاکستان بیڈ منٹن، باکسنگ،ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ (مرد اور خواتین) منعقد ہوئی،میگا ایونٹس کی کامیاب تکمیل جیسے کہ بلوچستان گیمز، گوادر بیچ گیمز، سندھ بلوچستان فٹبال،قلات، سبی اور لسبیلہ میں ٹورنامنٹس، گوادر میگا یوتھ فیسٹیول،معذور افراد کے کھیلوں کا میلہ اور یوتھ سیمینار وغیرہ کامیابی کے ساتھ انجام پائے، نیشنل یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت مختلف یونیورسٹیوں کے 40 طلباکو گلگت بلتستان لے جایا گیا،بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 60 اسپورٹس کمپلیکسز تعمیر کی جائیں گی،بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 140 فُٹ سال گراؤنڈز کی تعمیر جن میں سے 60 سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں اور 80 سکیمات پر کام جاری ہے،امورِنوجوانان بلوچستان پالیسی اور یوتھ ایکسچینج پروگرام بلوچستان پر کام جاری ہے،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 5ارب روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 1ارب 24کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو جنگلات و جنگلی حیات جیسی نعمتوں سے نوازا ہے رواں سال محکمہ نے کارکردگی کی استعداد کو بڑھانے کے لیے 600سے زائد خالی اسامیوں کو پُر کیا اورمزید400اسامیوں پر بھرتی کا عمل کا جاری ہے،محکمہ نے بلوچستان کے ساحل پر6مقامات پر پائے جانے والے تمام مینگروز جنگلات (Mangroves) کو قانونی تحفظ دیا،رواں سال 2022-23 میں مون سون اور موسم بہار کی شجر کاری مہم کے دوران تقریباً20لاکھ پودہ جات عوام الناس، زمینداروں اور اداروں میں بلا معاوضہ تقسیم کیے گئے،رواں سال زیارت میں صوبے کے پہلے فارسٹ اسکول کی تعمیر مکمل کی گئی، رواں سال محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے 5کروڑ کا ریونیو دیا،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.5ارب روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 1ارب 80کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے سیاحت و ثقافت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں بلوچستان کے110فنکاروں کو آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ سے فنڈ کی فراہمی سمیت مختلف فن کاروں کو علاج کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں،ایکسی لینس ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا جس میں 24 دانشوروں، اسکالرز، مصنفین اور سماجی کارکن کو چیک کے ذریعے رقم سے نوازا گیا،بلوچستان کے فنکاروں،نوجوانوں کی تفریح اور حوصلہ افزائی کے لیے موسیقی، مشاعرے، ڈراموں، مصوری کی نمائشوں سمیت مختلف ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا،کنڈ ملیر ریزورٹ (Resort)کی آؤٹ سورسنگ(Out Sourcing) کی گئی جو ملکی اور غیر ملکی سیاحت کے فروغ کا باعث بنے گا،محکمہ نے بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے PIMIC ایکسپو کراچی میں ٹورازم کانفرنس کا انعقاد کیا،کوئٹہ، زیارت، تفتان اور خضدار میں موجود پی ٹی ڈی سی موٹلز (PTDC MOTELS)کو محکمے کے ماتحت کر لیا گیا،وادی شعبان، ہربوہی، شین گڑھ،سلیازہ اور مائی پیر کی ماسٹر پلاننگ پر کام جاری ہے،سیاحتی مقامات مُولہ چٹوک، خضدار، زنگی ناوڑاور پیر غیب پر سیاحوں کی سہولت کے لیے ٹورسٹ ریزورٹ کی تکمیل ٓآخری مراحل میں ہے،مہر گڑھ، خاران قلعہ، چاکر قلعہ، میری قلات،تمپ اور چوکنڈی جیسے آثار قدیمہ کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے موثر اقدامات اٹھائے گئے، سریاب روڈ کوئٹہ پربین الاقوامی معیار کے مطابق”مہرگڑھ میوزیم“ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا،تاریخی ریکارڈ اور قدیم دستاویزات کی حفاظت کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز میں آرکائیوز لیب قائم کیا گیا ہے، ڈویژنل سطح پر ریکارڈ رومز کا قیام اور کوئٹہ میں تاریخی اور قیمتی مسودات کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام جاری ہے،بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 10 لائبریریاں بنائی گئیں۔قارئین اور طلبا کے لیے تمام پبلک لائبریریز کو کتابیں فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں،آئندہ مالی سال 2023-24میں بلوچستان کے تمام آثار قدیمہ کے مقامات کو تحفظ اور ثقافت و سیاحت کی پالیسی کا اجرا کیا جائے گا،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.3 ارب روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ صوبے میں منشیات کی روک تھام اور ٹیکسیشن کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے اس محکمے کی گراں قدر خدمات ہیں، مالی سال 2022-23 میں محکمہ نے 1 ارب50کروڑ سے زائد رقم صوبائی خزانے میں جمع کی،لیویز ٹریننگ سینٹر کے ذریعے کوئٹہ کے 200 کانسٹیبلری عملے کی تربیت کی گئی،امریکی سفارت خانے، اسلام آباد کے بین الاقوامی منشیات اور قانون نافذ کرنے والے امور کے سیکشن کے ساتھ مل کرانسداد منشیات کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے،آئندہ برس انسداد منشیات ڈائریکٹوریٹ کی تعمیر کی جائے گی۔محکمے کی جانب سے جمع کردہ دیگر ٹیکسوں،ڈیوٹیوں کی ڈیجیٹلائزیشن زیر غور ہے،آن لائن گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نظام کی بلوچستان کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔سرکاری گاڑیوں کو سیکورٹی فیچر نمبر پلیٹس کا اجراء زیر غور ہے،محکمہ نے موٹر وہیکل ٹرانزیکشن لائسنس بل 2023 کا مسودہ بھی تجویز کیا ہے۔عوامی شکایات کے ازالے کے لیے آن لائن شکایت سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 25کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 1ارب 85کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک اچکزئی نے کہا کہ محکمے کا مقصد Gender Equalityاور خواتین کو Empowerکرنا ہے اور ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانا ہے، مالی سال 2022-23 کے دوران شہید بینظیر بھٹو ویمن سینٹر اینڈ شیلٹر ہوم، لورالائی، نصیر آباد اور کیچ کے دفاتر کو فعال کیا گیا، مئی 2023 میں کوئٹہ شہر میں گرینڈ ویمن ایکسپو کا انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل 8 مارچ 2023 کو کوئٹہ سرینا ہوٹل میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، صوبائی کابینہ نے بلوچستان ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2014 کی منظوری دی، وومن ڈویلپمنٹ سیکٹر پلان 2022-2027 کی صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک اہم دستاویز ہے جو مستقبل کے لیے رہنما اصول فراہم کرے گی، خواتین انٹرن شپ پروگرام برائے گریجویٹس کاپہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ
نافذ کیا گیا جس کے تحت 370 گریجویٹ لڑکیوں کو انٹرن شپ فراہم کی گئی۔انہیں چھ ماہ کے لیے 20ہزار روپے کاوظیفہ دیا گیا۔ جبکہ دوسرا فیز زیر غور ہے، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ورکنگ ویمن ہاسٹل قائم کیے گئے ہیں کوئٹہ، خضدار، خاران، لورالائی اور گوادر میں خواتین کے بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں،2023-24 ضلع ژوب اور لورالائی میں خواتین ایکسپو کا انعقاد کیا جائے گا، مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 40 کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 25کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ہمیشہ سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات اٹھاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے اقلیتی امور کا محکمہ عمل میں لایاصوبائی اقلیتی کمیشن بلوچستان کا قیام عمل میں لایا گیا، ہنگلاج ماتا کے ماسٹر پلان کو حتمی شکل اور منظوری دی گئی جس میں ہندو زائرین کے لیے دو ہاسٹل بھی شامل ہیں، ہنگلاج ماتا فیسٹیول 2023 کے لیے ہنگلاج میں کچھ اہم PSDP اسکیموں کی تکمیل ہوئی، ہنگلاج ماتا فیسٹیول کی تقریبات بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں۔ ایک لاکھ سے زائد ہندو زائرین نے شرکت کی۔ جس سے مذہبی آہنگی اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، کوئٹہ کی مسیحی برادری کے لیے رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے نوحصار میں 20 ایکڑ سرکاری زمین لیز پر دی گئی، مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 84کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مدمیں 29کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی مختلف مساجد میں غیر موجود سہولیات فراہم کی گئیں،کیچ، ہرنائی، پنجگور، چاغی، زیارت سمیت بہت سے اضلاع میں قبرستانوں کی چاردیواری تعمیر کی گئی،امام بارگاہ ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں اضافی کمرے تعمیر کیے گئے،آئندہ سال تاریخی جامع مسجد صحبت پور کی مرمت، قرآن اکیڈمی سوراب اور مسجد ِفاطمہ کان مہترزئی کی تعمیر پہ کام ہوگا،مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 77کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 91کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے انتظام کاذمہ دار ہے۔ جس کے لیے محکمہ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید سہولیات فراہم کرتا ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے بلوچستان کے تمام اضلاع میں سہولیات کا ایک نیٹ ورک موجود ہے، بلوچستان نہ صرف ایک قبائلی معاشرہ ہے بلکہ مذہبی رہنماؤں سے بھی متاثر ہے۔ مذہبی عقائد بعض اوقات خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ نے مختلف فرقوں کے علماء اورمذہبی اسکالرز کو اس پروگرام پر تربیت فراہم کی ہے،مانع حمل ادویات کی تقسیم پاپولیشن ویلفیئر پروگرام کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو تمام سروس ڈیلیوری آؤٹ لیٹس بشمول صحت کی سہولیات، پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشیٹو (PPHI) اور این جی اوز کو مانع حمل ادویات کی فراہمی میں پیش پیش ہے، اس سال لورالائی، کیچ اور نصیر آباد میں تین ڈویژنل ڈائریکٹوریٹ مکمل ہونے کی توقع ہے،خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام سرمایہ کاری،سماجی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس حقیقت کی وجہ ہے کہ ترقی کے لیے آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنا ضروری ہے، دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سیٹلائٹ کلینک کا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔ محکمہ بہبود آبادی نے بھی سبی میلہ کے دوران عوام میں آگاہی پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں اسٹیک ہولڈر کی آگاہی اور تکنیکی اور غیر تکنیکی عملے کے لیے صلاحیت کی تعمیر پر توجہ دی گئی ہے، نجی پریکٹیشنرز کو شامل کرنے کے لیے نقشہ سازی کی مشق جاری ہے اور ایک بار مکمل ہونے کے بعدرجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز اور نجی اسپتالوں کو مانع حمل ادویات فراہم کی جائیں گی۔مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 22کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ FBRکے محصولات میں بہتری آنے کی بدولت صوبے کو NFCکی مد میں ملنے والے ٹیکس محصولات میں نئے
سال 2023-24میں 111ارب روپے کا اضافہ ہوگا،2015کے بیشتر سوئی لیز کے معاہدے کے خاتمے کے بعد پیداوار جاری ہونے کے باوجود نیا معاہدہ تاحال طے نہیں ہو سکا۔ جس سے رائلٹی اور ایکسٹنشن بونس کی مد میں سال 2023-24میں کم از کم 55ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے،اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کے نظام محصولات کو پائید ار بنیادوں پر استوار کرنے اور ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے موجودہ حکومت نے فنانس کے ذریعے ٹیکس کے قوانین میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں،صوبائی محصولات میں بہتری کے حوالے سے Balochistan Non Tax Revenue Mobilization Streategy, 2022 پر کام ہو رہا ہے، جس کا مسودہ کابینہ کی منظوری کے لیے بہت جلد پیش کیا جائے گا،صوبے میں کاروباروکو فروغ دینے اور روزگاربڑھانے کے لیے حکومت نے کئی انقلابی اقدامات اٹھائے جن میں گوادرکو خصوصی معاشی ضلع کا درجہ دیا اور گوادر کو خصوصی اسپیشل اکنامک زون کو تمام صوبائی ٹیکسز سے مستثنیٰ قرار دیا،کاروباری سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی غرض سے حکومت نے BRAکے تحت 43قسم کے ٹیکسوں کو کم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ہوٹل ٹیکسز کو 15%سے کم کرکے 4%،ڈویلپمنٹ ٹیکس کو 6% سے کم کرکے 4%اور صحت اور اس سے متعلقہ شعبوں پر ٹیکس کو 15%سے کم کرکے 2%کی تجاویز شامل ہیں۔ مزید برآں حکومت نے تعلیمی سرگرمیوں کو صوبے میں فروغ کے لیے بی آر اے ٹیکس کو 15%سے کم کرکے 3ہزار روپے ماہانہ مقرر کیاہے،صحت کے شعبے میں حکومت نے ایکسرے، ایم آر آئی، الٹرا ساؤنڈ، سٹی سکین اور لیبارٹری کے ٹیسٹوں پر بی آر اے ٹیکس کو 15%سے کم کرکے 2%کی تجویز ہے،جان نشینی سرٹیفکیٹ پر اسٹیمپ ڈیوٹی کو 0.8%سے کم کرکے0.5%کرنے کی تجویز ہے۔انہو ں نے کہا کہ نئے مالی سال 2023-24کے بجٹ میں مختلف نو عیت کے اہم فلاحی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ جن میں سے چند اہم اقدامات معززایوان کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو ریلیف پہنچانے کے لیے صوبائی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہو ں میں گریڈ 1سے16تک 35% جبکہ گریڈ 17سے 22تک 30% اور پنشن میں 17.5% اضافے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مزدورں کی کم سے کم اُجرت 32ہزارروپے مقرر کی جاتی ہیسرکاری ملازمین کی بڑھتی پنشن اور حکومت مالی مشکلات کے حل کے لیے پہلے سے قائم بلوچستان پنشن فنڈ میں 2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے لیے 5.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ دوائیوں کی خریداری کے لیے 4ارب88کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،طلبا کی اسکالرشپس کے لیے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ میں 2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح کے لیے عوامی انڈومنٹ فنڈ میں 1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اِسکل (Skill)ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،صوبے میں فوڈ سیکورٹی کے مالی مسائل پر قابو پانے کے لیے مزید1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے صوبے کی گند م کی سالانہ ضروریات کو یقینی بنا یا جا سکے گابلوچستان آؤٹ آف سکول چلڈرن فنڈ کے لیے 2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئے مالی سال میں ہماری حکومت نے صوبے میں کوئی نیا ٹیکس لا گو نہیں کیا ہے بلکہ کم کردیا ہے۔ جس سے نہ صرف مہنگائی پر قابو پایا جاسکے گا بلکہ ا س کو کم کیا جاسکے گا۔ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اب میں بجٹ 2023-24 کے اہم اعداد و شمار پیش کرنے جا رہا ہوں جس میں مالی سال 2023-24 اخراجات کے بجٹ کا کل حجم750ارب روپے ہے جبکہ آمدن کا کل تخمینہ701ارب روپے ہے۔ اس طرح سال 2023-24 کے لیے بجٹ خسارہ کا تخمینہ49ارب روپے ہوگا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں وفاقی ٹرانسفر ز521،صوبے کی اپنی محصولات57،سوئی گیس لیز ایکسٹنشن بونس55،فارن فنڈ زپر اجیکٹس اسسٹنس (FPA) 37،کیپٹل محصولات بشمول State Trading 21،Cash Carry Over 10،کل آمدن701،انہوں نے کہا کہ اخراجات ِجاریہ437،فارن فنڈ ڈپراجیکٹس اسسٹنس (FPA) 39،وفاقی ترقیاتی پر جیکٹس (Outside PSDP) 45،صوبائی پی ایس ڈی پی 229،ٹوٹل اخراجات 750،مجموعی خسارہ49انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اپنی تقریر کے اختتام پر میں ان تمام لوگوں کا شکر یہ ادا کرناچاہتا ہوں جنہوں نے بجٹ کی تیاری میں معاونت کی خصوصاً فنانس، پی اینڈ ڈی اورگورنمنٹ پرنٹنگ پریس کا،ساتھ ہی میں محکمہ اطلاعات، پرنٹ،الیکٹر انک اور سو شل میڈیا کے صحا فیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب میر عبدالقدوس بزنجوصاحب کا تہہ دل سے شکر گزارہوں جنہوں نے مجھ پر اور میری پوری ٹیم پر اعتماد کیااور ہماری رہنمائی فرمائی۔آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضوردعاگوہوں کہ وہ ہمیں بلوچستان کو حقیقی معنوں میں خوشحال اور ترقی یا فتہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
موجودہ حکومت کا یہ دوسرابجٹ ہے کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے یہ عرصہ نہایت کم ہوتا ہے، زمرک خان اچکزئی

ٹیگز:
زمرک خان اچکزئی
