کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) زند اکیڈمی نو شکی کے زیر اہتمام اور کوئٹہ پریس کلب کے تعاون سے کوئٹہ میں نوائے وطن بلوچی کی ایڈیٹر آمنہ پناہ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس اور انکی کتاب کا سہ آب کی رو نمائی کی تقریب کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہو ئی۔ جس کی صدرات منیر علی بلوچ نے کی جبکہ تعزیتی ریفرنس میں مہمان خان سابق اسپیکر بلو چستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی تھیں۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پلاک سے ہوا۔

اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے سابق اسپیکر بلو چستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ آمنہ پناہ ایک نفیس خاتون تھی جنہوں نے اپنے والد کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا نوائے وطن کوپہلے بلوچی روزنامے کا شرف حاصل ہوا وہ مر تے دم تک بلوچی زبان و ادب کی خدمت کرتی رہیں۔ تعزیتی ریفرنس سے ایڈو کیٹ ظہور شاہوانی نے خطاب کر تے ہوئے آمنہ پناہ ایک بہادر خاتون تھی انہوں نے بیماری کا مقابلہ بہادی سے کیا چونکہ انکا تعلق ایک صحافتی گھرانے سے تھا۔ آمنہ پناہ نے بلوچی صحافت کو بہت تر قی کی راہ گامزن کر تے ہوئے بلوچی زبان و ادب کو بہت فروغ دیا ہے۔

اس موقع پر یار جا ن بادینی نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ آمنہ پناہ کی رحلت بلوچی زبان و ادب اور خاص کر صحافت کے لئے بڑا خلاء ہے جوبھی پرنہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ آمنہ پناہ سمیت بلوچی زبان کے بہت سارے صحافی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زند گی صحافت کے لئے وقف کر دی ہے لیکن انکو حکومت کی طرف سے کوئی ایورڈ نہیں ملتا ایکسیلنی ایوارڈ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جن کو پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے زند گی میں کیاکام کیا ہے۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر تے ہوئے منیر علی بلوچ نے کہا کہ آمنہ پناہ نے اپنے والد کے صحافتی مشن کو آگے بڑھایا ہم آمنہ پناہ کے صحافتی مشن کو آگے بڑھائیں گے تاکہ بلوچی زبان ادب کو فروغ حاصل ہو سکے۔ڈاکٹر عنبرین مینگل، وحیدامیر، افضل مراد مانور بلوچ اور سعدیہ بادینی نے مکالمے اور آمنہ پناہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کے اختتام پر دو قرار دادیں پیش کی گئیں کہ سبی یا کوئٹہ میں کسی تعلیمی ادارے،لائبریری یاپھر سڑک کا نام آمنہ پناہ سے منصوب کریں تاکہ انکا نام سدا زندہ رہے۔ڈاکٹر طاہر بلوچ نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

