لاہور (ڈیلی گرین گوادر) آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امپورٹڈ لگژری آئٹمز پر ٹیکسز بڑھانے کی تجویز دے دی، جس کے بعدامپورٹڈ موبائل مزید مہنگے ہونے کا امکان ہے۔بجٹ میں 100 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل پر ڈیوٹی میں اضافہ متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق لگژری آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد رہنے سے 55 ارب آمدن متوقع ہے۔حکومت نے اس سال فروری میں لگژری آئٹمز پر سیلز ٹیکس بڑھا دیا تھا ۔
امپورٹڈ انرجی سیور بلب، فانوس اور ایل ای ڈی مہنگی ہو گی۔امپورٹڈ الیکٹرونکس آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رہے گا ۔امپورٹڈ میک اپ سامان پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رہے گا۔امپورٹڈ لپ اسٹک، مسکارے اور فیس پاؤڈر پر سیلز ٹیکس 25 فیصد ہو گا۔بالوں کیلئے امپورٹڈ کلرز، ڈائیرز پر 25 سیلز ٹیکس رہے گا ۔
ذرائع کے مطابق پالتو جانوروں کی امپورٹڈ خوراک پر سیلز ٹیکس 25 فیصد رہے گا۔امپورٹڈ برانڈڈ شوز پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد رہے گی ۔خواتین کے امپورٹڈ برانڈ کے پرس پر سیلز ٹیکس 25 فیصد ہو گا ۔مپورٹڈ شیمپو، صابن اور لوشن پر بھی سیلز ٹیکس 25 فیصد رہے گا۔امپورٹڈ سن گلاسز اور پرفیومز پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد رہے گا ۔امپورٹڈ پرائیوٹ اسلحہ پر بھی سیلز ٹیکس 25 فیصد پر برقرار رہے گا۔
امپورٹڈ برانڈ ہیڈ فونز، آئی پوڈ اور اسپیکرز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد ہو گا ۔امپورٹڈ لگژری برتنوں پر بھی سیلز ٹیکس 25 فیصد پر برقرار رہے گا۔امپورٹڈ دراوزوں اور کھڑکیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد رہے گا۔امپورٹڈ باتھ فٹنگز پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد پر برقرار رہے گی۔امپورٹڈ ٹائلز، سینٹری کے سامان پر سیلز کی شرح 25 فیصد برقرار رہے گی۔امپورٹڈ کارپٹس اور غلیچے پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد پر برقرار رہے گی ۔
ذرائع کے مطابق امپورٹڈ انرجی ڈرنکس، امپورٹڈ جوسز پر سیلز ٹیکس 25 برقرار رہے گا۔امپورٹڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد پر برقرار رہے گی۔موسیقی کے امپورٹڈ آلات پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رہے گا۔امپورٹڈ بسکٹ اور بیکری آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رہے گا ۔امپورٹڈ چاکلیٹ، کینڈی پر سیلز ٹیکس 25 فیصد پر برقرار رہے گا ۔امپورٹڈ جام، جیلی اور مانیونز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رہے گا۔

