ڈیرہ اللہ یار(ڈیلی گرین گوادر)سندھ بلوچستان سرحدی علاقے جاگیر میں ڈاکووں کے خلاف جعفرآباد پولیس نے پہلی اہم کامیابی حاصل کر لی۔ سندھ پولیس کے ہمراہ مشترکہ آپریشن میں 6 اہلکاروں کے قتل میں مطلوب دو ڈاکووں کو گرفتار کرکے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، درجنوں ٹھکانے بھی جلا دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار کی حدود روجھان جمالی کے مقام سے 8 روز قبل اغوا ہونے والے نوجوان فرقان سومرو کی بازیابی اور پولیس آپریشن میں انسپکٹر سمیت 6 اہلکاروں کے قتل میں مطلوب بدنام زمانہ ڈاکو مٹھو شاہ گینگ کے خلاف جعفرآباد پولیس کی جیکب آباد پولیس کے ہمراہ مشترکہ آپریشن جاری ہے، گزشتہ روز ہونے والے آپریشن میں جعفرآباد پولیس نے اہم کامیابی حاصل کر لی، دوران آپریشن دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد جعفرآباد پولیس نے اغوا برائے تاوان اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں مطلوب مٹھو شاہ گینگ کے دو اہم کارندوں کو گرفتار کرلیا۔ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں گولی لگنے سے گینگ کا سرغنہ ماجد عرف مٹھو شاہ زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، گرفتار دونوں ڈاکووں میں ایک ڈاکو جیکب آباد کے مولاداد تھانے کی پولیس دوسرا جعفرآباد پولیس کے حوالے کیا گیا، جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے دوران تفتیش اہم انکشافات بھی متوقع ہیں، تاہم 8 روز گزرنے کے باوجود مغوی فرقان سومرو کی بازیابی عمل میں نہ آسکی ہے، واضح رہے کہ 8 روز قبل اوستہ محمد کے رہائشی نوجوان فرقان سومرو کو کوئٹہ سے اوستہ محمد جاتے ہوئے روجھان جمالی کے مقام پر اغواکاروں نے اغوا کرلیا تھا، مغوی نوجوان کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی میں جعفرآباد پولیس کا انسپکٹر محمد طیب عمرانی کانسٹیبل عبدالوہاب پیچوہو سمیت اے ٹی ایف سبی کے چار جوان بھی شہید ہوئے تھے۔
ڈیرہ اللہ یار، سندھ پولیس کے ہمراہ جعفر آباد پو لیس نے آپریشن میں 2 ڈاکووں کو گرفتار کر لیا

ٹیگز:
ڈیرہ اللہ یار
