کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام یکم مئی یوم مزدور کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب بیاد مزدور رہنما مرحوم ماما سلام بلوچ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں زیر صدارت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ منعقد ہوا تقریب میں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن،پیرا میڈکس یونین ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان لیکچررز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن بلوچستان لیبر فیڈریشن پاکستان ریلوے محنت کش یونین بلوچستان یونیورسٹی اسٹاف ایسوسی ایشن گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آہینی، بلوچستان رکشہ ایسوسی ایشن واسا یونین سمیت دیگر یونینز کے سربراہان نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی مزدوروں اور محنت کشوں کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ملک میں محنت کش طبقہ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ایوب خان نے مزدور یونینوں پر پابندی لگادی اور ریاست اداروں نے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر محنت کشوں کو تقسم کیا ضیاالحق نے طلبا یونینز پر پابندی عائد کی جس سے کا واضع مقصد سیاست پر قدغن لگانا تھا۔ آج بلوچستان میں یونیورسٹی کی سطع پر بھی طلبا سیاست پر پابندی عائد ہے جس کا مقصد لکھے پڑھے طبقات اور عام لوگوں کو سیاست سے روک کر ایلیٹ خاندانوں اور اشرافیہ کے لیے سیاست پر قابض رہنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہے اس لیئے ایوانوں میں مزدوروں محنت کشوں اور کاشتکاروں کا نمائندہ نظر نہیں آتا، مہنگائی اور بیروزگاری نے عام لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے، یہ امر ابھی سے زبان زد عام ہے کہ محکمہ تعلیم کے اسامیوں پر بولیاں لگ رہی ہیں اگر بولیاں لگاکر اساتذہ بھرتی کیئے گئے تو تعلیمی ادارے مزید زبوں حالی کا شکار ہونگے اس لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کی بھرتیاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیا جائے۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو سوچنا ہوگا کہ بلوچستان میں راتوں رات پارٹیاں کیوں بنائی جاتی ہے اور یہ ٹھپہ ماری اسلام آباد یا لاہور میں کیوں نہیں کی جاتی اب تو اسٹیبلشمنٹ گراس روٹ لیول پر کونسلران اور یونین کونسل کے چہرمینوں کے الیکشن میں بھی ملوث ہوچکا ہے جس کا مقصد بلوچستان میں سیاست کو بے توقیر کرکے بلوچستان کے اصل سیاسی منظر کو چھپانا ہے جس انداز سے ہمارے اکابرین نے اسلام آباد میں اپنا ایک منفرد سیاسی مقام اور بلوچستان کے حوالے سے واضع موقف رکھا اسی طرح ہم نے نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں اسی موقف اور کردار کو برقرار رکھا ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے اسلام آباد کے سامنے بلوچستان کے سیاسی قیادت کی سبکی ہو۔ اب تو طعنے ملنے لگے ہیان کہ پنجاب اسمبلی بلوچستان اسمبلی بن چکی ہے اور بلوچستان اسمبلی پنجاب اسمبلی بن چکی ہے۔ قول و فعل کے تضاد نے اب اسلام آباد میں بلوچستان کے درخشاں سیاسی تاریخ کو مسخ کردیا ہے۔ تقریب سے حاجی عطا محمد بنگلزئی منظور راہی کامریڈ نذر بلوچ افضل مینگل عبدالمعروف آزاد پیر محمد کاکڑ افضل بنگلزئی نصراللہ بلوچ ایم جے بلوچ نے بھی خطاب کیا۔
ٹریڈ یونینز اور طلبا تنظیموں پر پابندی نے پسے ہوئے طبقات کے احساس محرومی میں اضافہ کیا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
عبدالمالک
