اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) قومی اسمبلی سے منظورعدالتی اصلاحاتی بل کے خلاف درخواستوں پرسپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت شروع ہوگی ہے ، بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کررہے ہیں ۔بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلایل کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے، قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے، قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے پر آمادہ نہیں۔
انہوں کا کہنا تھا کہ عدالت کو انتخابات نہ کروانے ہر از خود نوٹس لینا پڑا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے، 3 اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا، آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کیے گئے، عدالت اور ججز ہر ذاتی تنقید کی گئی، حکومتی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمہ دار ہیں۔

