کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی اجلاس بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی ثناء اللہ بلوچ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کاہ کہ ہر گاہ کہ بلو چستان آمد و رفت کے تمام جدید ذرائع سے محروم ہے جس کی وجہ سے صوبے کی معاشی اور سما جی تر قی مکمل طورپر جمود کا شکار ہے۔ رخشان ڈویژن بلو چستان کے ایک تہائی یعنی 1لاکھ کلو میٹر پر مشتمل خطہ ہے جس کے قیام سے لے کر آج تک کوئی بڑامنصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ خاران ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو ملانے و الی سڑک خاران احمد وال روڈ اور مکمل رخشان ڈویژن کی شہ ر گ کہلانے والی خاران بسیمہ روڈانتہائی نا گفتہ بہ حالت میں ہے۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفا قی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ بلو چستان کی معاشی تر قی میں اہمیت کے حامل خاران احمد وال روڈ اور خاران بسیمہ روڈ کو وفا قی تر قیا تی اسکیم میں تر جہی بنیادوں پر شامل کرکے اس پر فی الفور کام شروع کر نے کو یقینی بنائے۔قرار داد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے ثناء بلوچ نے کہا کہ سڑکیں صنعتی،تعلیمی اور معاشی ترقی کی ضامن ہوتی ہیں بلوچستا ن کے تمام اضلاع موٹر وے اور اچھی سڑکوں سے محروم ہیں۔خاران، چاغی، نوشکی صوبے کے معدنی وسائل کے لحاظ سے بھی اہم علاقے ہیں رخشان ڈویژن صوبے کے نصف کے برابر ہے اس پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی خاران کو جام کمال نے پسماندہ رکھنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت حادثات سے نجات دلوانے، تعلیمی بہتری کے لئے خاران احمدوال اور خاران بسیمہ روڈ کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرے
بلوچستا ن کے تمام اضلاع موٹر وے اور اچھی سڑکوں سے محروم ہیں ، ثناء اللہ بلوچ

ٹیگز:
ثناء اللہ بلوچ
