کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اجتماعی مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے، وفاق اور صو بے کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے پل کا کردار ادا کرونگا، کسی جماعت، قوم، لسانیت نہیں بلکہ بلوچستان کا گورنر ہوں،وزیراعظم سے ملاقات میں صوبے کے مسائل پر گفتگو کرونگا۔یہ بات انہوں نے پیر کو گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے جامعہ بلوچستان، بیوٹمز سمیت بلوچستان کی جامعات اس وقت مالی بحران کا شکار ہیں گورنر بننے کے بعد سب سے پہلی میٹنگ وائس چانسلران کے ساتھ کی تاکہ جامعات کے مسائل کو ترجیحی بنیادو ں پر حل کیا جاسکے صو بے کے دیگر مسائل پر بھی توجہ مرکوز ہے 15مارچ کو وزیراعظم سے ملاقات ہونے جارہی ہے جس میں ان کے سامنے تمام مسائل رکھونگا جبکہ اسلام آباد کے دورے پر وفاقی وزراء اسحاق ڈار، احسن اقبال سے بھی ملاقاتوں میں بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کرونگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت امن و امان کی صورتحال خراب ہے جب تک امن نہیں ہوگا تعلیم،صحت، ترقیاتی سمیت دیگر امور ٹھیک نہیں ہونگے کوشش ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے میں کردار ادا کرسکوں۔انہوں نے کہا کہ جہاں صوبے کے مسائل سامنے آئیں گے ان پر اسٹینڈ لونگا میں ایک سیاسی ورکر ہوں 50سالہ سیاسی کیرئیر کے بعد آج گورنر بنا ہوں نا کہ پیراشوٹ سے آیا ہوں بعض مسائل کا مجھے ادراک ہے اور دیگر مسائل کی نشاندہی کے لئے مجھے عوام اور میڈیا کا تعاون چاہیے عوام کے لئے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں عوامی مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت موجود رہونگا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان کے پاس جو فنڈز تھے وہ عدالتوں نے بند کر دئیے ہیں اب پیٹرول، چائے،گاڑی سمیت دیگر اخراجات کے لئے وزیراعلیٰ کو فون کرتا ہوں فی الحال اپنے اختیارات، آئینی کردار سمیت دائرہ کار کو سمجھ رہا ہوں اپنی حدود میں رہتے ہوئے تمام کام احسن انداز میں سرانجام دینے کے لئے کوشاں رہونگا۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ وہ کسی ایک قوم، لسانیت، علاقے نہیں بلوچستان کے نمائندے ہیں صوبے میں بسنے والی تمام اقوام ان کے لئے برابر ہیں ہمیں یہاں آباد سیٹلز کے لئے بھی بات کرنی ہے کیونکہ انہیں یکسر طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومیت چند افراد کا مسئلہ ضرور ہوسکتا ہے مگر پشتون،بلوچ سمیت تمام اقوام بلوچستان میں گلدستے کی مانند ہیں تعصب کو ہوا دینے یا ان معاملات کو متنازعہ بنانے سے معاشرے کا اجتماعی نقصان ہوگا ہمیں نفرت کے بجائے محبت کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے افرا تفری سے نکلنے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے 9 ارکان صوبائی اور 3ارکان قومی اسمبلی کو ملکر کر شہر کے لئے پلان بنانا چاہیے بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سڑکوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے بحیثیت گورنر کوئٹہ اور صوبے کے دور دراز علاقوں کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان اور مرکز کے درمیان جو دوریاں ہیں انہیں کم کرنے کے لئے پل کا کردار ادا کرونگا میری کوشش ہوگی کہ عام لوگوں میں جاؤں اور انکے مسائل سنوں۔انہوں نے کہا کہ جامعات کے وائس چانسلران کی تعیناتی کے لئے سر چ کمیٹی وزیراعلیٰ کو تین، تین نام بھیجے گی جن کی سفارش وزیراعلیٰ مجھے بھیجیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے وفاقی محکموں میں بہت سے مواقع موجود ہیں 2008سے ان میں کام ہوتا تو آج 20ہزار نوجوان ہنر مند ہوتے اب تک 33ارب روپے خرچ ہوئے مگر اسکے درست ثمرات نوجوانوں تک نہیں پہنچ پائے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ وہ وزیراعظم اور سردار اختر جان مینگل کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پر اعتماد کیا۔وزیراعظم سے ملاقات میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا مسائل کی نشاندہی کرے وہ نوٹس لیں گے۔
بلوچستان کے اجتماعی مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے ، ملک عبدالولی کاکڑ

ٹیگز:
ملک عبدالولی کاکڑ
