نوکنڈی (ڈیلی گرین گوادر)بی این پی کے مرکزی رہنما و رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے گزشتہ روز محمد حسنی اور ساسولی قبائل کے درمیان دس سالہ پرانی قبائلی رنجش کے خاتمے پر قبائلی عمائدین علما اکرام،سعادات برادری اور دیگر کی مصالحتی جرگہ میں کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ علما اکرام، سادات برادری اور قبائلی عمائدین کا تنازعات اور رنجشوں کے خاتمے میں کردار لائق تحسین ہے انہوں نے محمد حسنی اور ساسولی قبائل کے معتبرین کی مجموعی سوچ اور صلاح رحمی کے جزبوں پر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی تنازعات کی خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے قبائلی تنازعات کی وجہ سے آج بلوچستان میں شہروں کے بجائے قبرستانیں آباد ہورہی ہیں ہر دوسرا گھر آپس کی رنجش اور قبائلی تنازعات کے باعث متاثر ہے ان تنازعات کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ ہر میدان میں پیچھے ہیں معاشرے کی تعمیر و ترقی لوگوں کی خوشی اور خوشحالی پر منحصر ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک ایسا بدقسمت سرزمین ہے جو معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود یہاں کے لوگ خوشی اور خوشحالی کے بجائے دکھ درد آنسو،تکالیف اور ازیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اب قبائلی دشمنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ہر دوسرا گھر آپس کی رنجش اور قبائلی تنازعات کے باعث متاثر ہے، ثناء بلوچ

ٹیگز:
ثناء بلوچ
