کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء سابق صوبائی وزیر میر ظہوراحمدبلیدی نے کہاہے کہ بلوچستان کے شہری سیلاب، زلزلوں، آفات، غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے گھر کی چھت اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں جبکہ ان کے حاکم پہلے سے موجود محلات کی نئے سرے سے تعمیر اور تزئین و آرائش پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں عوامی حمایت میں بولنے کی وجہ سے بھتہ مافیا نے میرے حلقے کے لوگوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا سرحدی کاروبار محدود کردی گئی کیچ کا انتظامی افسر میرے خلاف سیاسی فریق بن گیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا۔میر ظہوراحمدبلیدی نے کہاکہ بلوچستان کے شہری سیلاب، زلزلوں، آفات، غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے گھر کی چھت اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں جبکہ ان کے حاکم پہلے سے موجود محلات کی نئے سرے سے تعمیر اور تزئین و آرائش پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ ان میں تو کوئی احساس نہیں، کوئی تو ہو جو ان کے آلودہ ہاتھ روکے۔انہوں نے کہاکہ حکومت اور اتحادی جماعت نے بزور طاقت عوامی مطالبات کو نظر انداز کر کے عوامی اجتماع کو انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے دبانے کی کوشش کی اور ان کے ضلعی افسران کس کی سفارش پر تعینات ہوئے ہیں؟ اسمبلی اجلاس میں عوامی مطالبات کو سی پیک کے خلاف کس نے سازش قرار دیا تھا؟میں نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا اور بھتہ خوری کے خاتمے پر حکومت نے معاہدہ کیا ہے لیکن وہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہی اور باقاعدہ بھتہ خوری کا ایک نظام متعارف کیا جس میں میرے علاوہ وزیر اعلی سمیت تمام حکومتی اراکین حصہ دار بنے اور مجھے حکومت چھوڑنا پڑا۔عوامی حمایت میں بولنے کی وجہ سے بھتہ مافیا نے میرے حلقے کے لوگوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا سرحدی کاروبار محدود کردی گئی کیچ کا انتظامی افسر میرے خلاف سیاسی فریق بن گیا ہے بلیدہ ٹاون پروجیکٹ اور بلیدہ روڑ پر کام بند کردیا گیا ان تمام کے باوجود میں کس کو خوش کروں گا؟
بلوچستان کے شہری غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے گھر کی چھت اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں ، ظہور احمد بلیدی

ٹیگز:
ظہوراحمدبلیدی
