خضدار (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں خوشحال بلوچستان کے عنوان سے پرگرام منعقد، قبائلی و سیاسی رہنماؤں سے سمیت شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت ایم پی اے خضدار میریونس عزیز زہری، ڈپٹی کمشنر خضدار میجر(ر) الیاس کبزئی، فوکل پر منصور، رجسٹرار جلال شاہ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے بجٹ سب سے بڑا حصہ امن و مان پر خرچ ہوتا ہے گزشتہ دس سالوں سے امن و امان کی وجہ سے ہمارے خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔اگر ہم خود آگے بڑھ کر امن و مان کو قائم کریں تو یہ ہمارے پیسے ضائع نہیں ہونگے بلکہ ہماری تعلیم اور صحت پر خرچ ہونگے، بلوچستان کی معدنیات دنیا کی بیش قیمت معدنیات میں شمار ہوتی ہیں اور یہاں اتنے قدرتی وسائل موجود ہیں جن کا اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے، تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا، لیکن بدقسمتی سے حکومت کی عدم توجہی، اور تعلیمی کمی کے باعث بلوچستان کے اندرونی حالات مخدوش رہے۔ حکومت کی عدم توجہ اور بلوچوں کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث پاکستان کے دشمنوں خاص طور پر بھارت کو موقع ہاتھ لگا اور اس نے اربوں ڈالر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی بلوچ سرزمین کو استعمال کرنا چاہئے رہے ہیں۔۔ دنیا میں تجارت کا اہم مرکز گوادر ہونے کے باعث عالمی طاقتوں سمیت خطے کے تمام ممالک کی نظریں بلوچستان پر مرکوز ہیں۔ پاک فوج کی دن رات انتھک محنت اور بلوچستان کے محب وطن عوام کے فورسز کے ساتھ تعاون سے آج بلوچستان مکمل امن کا گہوارہ نظر آتا ہے۔ بلوچستان کو عام طور پر ایک پسماندہ اور محروم صوبہ کہا جاتا ہے اور بلاشبہ اس صوبے نے ماضی میں گوادر سے لے کر ژوب تک بہت سی محرومیاں دیکھی ہیں۔ مگر آج کا بلوچستان ماضی کی طرح نہیں ہے اس بلوچستان نے اب خوشحالی کی جانب تیزی سے سفر کا آغاز کیا ہے،عوام میں پاکستان اور ریاست کے اداروں سے محبت کی سوچ پر وان چڑھ رہی ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے حکومت بلوچستان، افواج پاکستان اور خود صوبے کے عوام نے ایک پیج پر آکر پر امن اور خوشحال بلوچستان کی بنیا رکھ دی ہے۔ حکومت بلوچستان کی کاوشوں میں پاک فوج نے بھی اپنا حصہ ڈالااور اس طرح گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن میں جوکردار ادا کیا ہے اس کی بدولت آج ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کا مستقبل نہایت شاندار اور تابنا ک ہے۔ یہاں پر ترقی اور خوشحالی ڈیر ے ڈال چکی ہے اور پسماندگی و محرومیاں خاتمے کے قریب ہیں ایک عام آدمی بھی محسوس کر رہا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں جو ترقی ہورہی ہے اس سے لوگوں کا معیا ر زندگی بدل رہا ہے۔۔ وہ لوگ جو ریاست کی مخالفت میں پہاڑوں پرچلے گئے تھے۔ حقا ئق جان کر پہاڑوں سے نیچے آئے اور قومی دھارے میں شامل ہو گئے۔ بلوچستان کاپانچ سالہ خوشحال بلوچستان پروگرام واقعی اس صوبے کے لئے تر قی کا ر استہ کھول چکا ہے اور یہاں پر اب ذہنی تبدیلی بھی آنی شروع ہوگئی ہے۔۔ ہم آج خوشحال بلوچستان پروگرام کا ایک جائزہ بھی لیتے ہیں کہ اس منصوبے میں بلوچستان کے طول و عر ض کے لئے کیا خدمات انجام دی گئی ہیں۔ اس عظیم منصوبے کا مقصد بلوچستان کو درپیش اصل مسائل کا جائز ہ اوران سے نمٹنے کے لئے مختلف نوعیت کے منصوبوں کی تشکیل تھی۔ ان منصوبوں میں صوبے کے مسائل کی اصل و جو ہات بیان کی گئی ہیں اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ صرف امن و امان کی صورتحال نہیں ہے، دیگر ایسے مسائل بھی ہیں جو کہ نہ صر ف حل طلب بلکہ فوری توجہ بھی چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں گورننس اور معاشی و اقتصادی تر قی بھی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی تر قی بھی اہمیت کی حامل ہے ان پر توجہ کے بعد ہی خوشحال بلوچستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔
بلوچستان کے بجٹ سب سے بڑا حصہ امن و مان پر خرچ ہوتا ہے،میر یونس عزیز زہری

ٹیگز:
میر یونس عزیز زہری
