چمن (ڈیلی گرین گوادر)چمن اور اسپن بولدک کے درمیان دوستی گیٹ پر افغانستان سے آنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد علاج معالجہ کیلئے پاکستان آتے ہیں۔ اس دوران مین دروازے سے بائیومیٹرک کمپیوٹرائزڈ سسٹم (ایس او ایس) کے درمیان 50 سے 60 (لغڑی بچے بڑے) جو افغان فیملیز کو پاکستان داخلے کیلئے مفت میں یا پیسوں سے پار کرانے کی لالچ دیتے ہوئے اس دوران یہ لوگ ان افغان مسافروں کے جیب لوٹ لیتے ہے خواتین کا سامان چوری کرتے ہے اکثر ان لوگوں کے میڈیکل سے متعلق دستاویزات بھی لیجاتے ہے جو کہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ان چور راہزن جیب تراش لڑکے سرعام گیٹ اور ایس او ایس سسٹم کے درمیان دن بھر گھومتے پھرتے ہے جن کے متعلق لوگ کہتے ہے کہ یہ لڑکے جو خود کو لغڑی کہتے ہے یہ اکثریت افغانی اسپین بولدک کے رہائشی ہے مگر رہتے گوداموں میں ہے۔ شام کو فارغ ہوکر گوداموں میں ان کے سرغنہ (چمن اور ویش بارڈر کے رہائشی نامی گرامی لوگ) بیٹھے ہوتے ہے کے پاس جاکر نشہ (شیشہ) پینا شروع کرتے ہے لوگوں کا بتانا ہے ان عناصر کا ایف آئی اے اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ لائن بنا ہے انہیں اپنا حساب انسانی اسمگلنگ کرانے کے مد میں دیتے ہیاور لوگوں کو لوٹنے کا پیسہ گوداموں میں موجود ان کے سرغنہ گروہ جو عزت دار قوم قبیلہ اور خاندانوں سے تعلق رکھے کو دیتے ہے۔اب یہ کہانی علاج کے غرض سے کوئٹہ جانے والے ایک خاندان کی ہے یہ مجبور لوگ صوبہ ہلمند سے علاج کے لیے کوئٹہ جا رہے تھے اور ان ظالموں نے ساری رقم لوٹ لی۔
چمن پاک افغان باب دوستی گیٹ پر جیب کترا گینگ سرگرم متعدد افغان خاندانوں کو لوٹ لیا

ٹیگز:
جیب کترا گینگ
