کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینئر صوبائی وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی نے کہا کہ ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کے نام پر حب میں 55ہزار ایکڑ سے زائد زمین الاٹ کر کے حب کے عوام کو ظلم کیا جارہا ہے، زمین کی الاٹمنٹ کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو عدالت سے رجوع اور عوام کے ہمراہ احتجاج کریں گے۔یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ سینئر صوبائی وزیر سردار محمد صالح بھوتانی نے کہا کہ ضلع حب کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کو ایک بلاک میں 36،دوسرے بلاک میں 10ہزار ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے کل ملا کر فیکٹری کے نام پر 54ہزار 900ایکڑ سے زائد زمین الاٹ کی گئی ہے اگر کچھ اور زمین ڈال دیتے تو شاید یہ 55ہزار ایکڑ زمین مکمل کر دیتے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے یہ زمین فیکٹری کے نام الاٹ کی گئی ہے جس میں قدرتی چراہ گاہیں، قبرستان، گاؤں، زرعی زمینیں، پہاڑ شامل ہیں ایک سیمنٹ فیکٹری کو اتنی زمین الاٹ کرنے کے پیچھے کیا جواز ہے معلوم نہیں لیکن پیٹ کی آگ بہت بڑی ہے یہ ایسے نہیں بجھتی۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹری کے لوگ جب یہاں باڑ لگا دیں گے تو لوگ کہاں جائیں گے میری اسمبلی کے توسط سے وزیراعلیٰ سے اپیل ہے کہ وہ غریبوں پر رحم کریں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم عدالت میں جائیں گے اور ہمارے لئے عوام کے عدالت بھی کھلی ہے۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ ہم ریکوڈک اور سیندک کے معاملات پر بات کرتے تھے وہ تو بین القوامی معاہدے ہیں لیکن یہاں سیمنٹ فیکٹری کے نا م پر ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو صوبے کا کیا بنے گا لہذا اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔جمعیت علماء اسلام کے اقلیتی رکن مکی شام لال نے کہا کہ لسبیلہ میں ساڑھے چار ہزار ایکڑ زمین ٹھٹھہ سیمنٹ فیکٹری کو الاٹ کی گئی ہے لسبیلہ لاوارث نہیں کہ ہزاروں ایکڑ اراضی کسی کو الاٹ کی جائے۔
حب میں 55 ہزار ایکڑ سے زائد زمین الاٹ کرکے حب کے عوام پرظلم کیا جارہا ہے، سردار محمد صالح بھوتانی

ٹیگز:
سردار محمد صالح بھوتانی
