کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی سمیت دیگر رہنماں نے صوبے میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالخالق قمبرانی سمیت تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لاکر ساحل و وسائل پر عوام کا حق حاکمیت تسلیم کیا جائے۔ بی این پی اپنے لوگوں کے حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بلوچستان کے مسائل کا حل لاپتہ افراد کو منظر عام پرلاکر بات چیت کے عمل کے ذریعے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے زیر اہتمام عبدالخالق قمبرانی کی جبری گمشدگی اور لاپتہ کرنے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کئے جانے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بی این پی کے رہنمامیر غلام نبی مری، موسی جان بلوچ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، شمائلہ اساعیل سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر عبدالخالق قمبرانی کی گمشدگی کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان کے سفید ریش نواب اکبر بگٹی کو شہید کرکے بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کا شروع ہونے والا سلسلہ تسلسل سے آج بھی جاری ہے اور حکمران بزور طاقت تمام معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں جس میں انہیں ہر معاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لوگوں کو اغواکرکے ان کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں بی این پی نے ہمیشہ ان ناروا اقدامات کے خلاف آواز بلند کی اور ہر فورم پر اس کے خلاف سراپا احتجاج رہے اور حکمران لاپتہ افراد کے حوالے سے کہتے تھے کہ یہ لوگ افغانستان یا کہیں اور چھپے ہوئے ہیں لیکن توتک واقعہ کے بعد نوجوانوں کی ملنے والی نعشیں حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ تھا کہ یہ نوجوان افغانستان کے بجائے ریاستی ہتھکنڈوں کا شکار بنے جن کی نعشیں ملی توتک کمیشن کی رپورٹ ریکارڈ سے ہی غائب کردی گئی ہے ہر کمیشن کی رپورٹ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کی طرح غائب ہوچکی ہے اور کبھی بھی منظر عام پر نہیں آئے گی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا جنہوں نے لواحقین سمیت تمام متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں کی تاکہ لاپتہ افراد کے معاملے کے حل کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بلوچستان ہائیکورٹ نے ایک کمیشن بنایا ہے جس میں مجھ سمیت دیگر انتظامی آفیسران کو شامل کیا گیا ہے ہم کہتے ہے کہ طاقت کی بجائے مسئلے کے حل کو بات چیت سے یقینی بنایا جائے صوبے کے چند اضلاع میں لگنے والی آگ آج بلوچستان بھر میں پھیل چکی ہے لاہور اور اسلام آباد میں زیر تعلیم بلوچ نوجوانوں کو غائب کیا جارہا ہے ظلم اور جبر سے ہم گھبرانے والے نہیں غلط پالیسیوں اور اقدامات کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں حکمران ازلی دشمن بھارت سے کشمیر اور دیگر حوالوں سے بات چیت کرتا ہے لیکن بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھاتا جو باعث تشویش ہے لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کو عدالت سے بھی انصاف نہیں ملا ہمیں تو محسوس ہورہا ہے کہ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آئے گی اور نہ ہی کوئی انصاف کی توقع ہے بلوچستان کے لوگوں کو ریکوڈک، سیندک ، دودر سمیت دیگر وسائل پر دسترس دی جائے آج صبح مالی بحران کا شکار ہے اور صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جارہا عبدالخالق سمیت عقوبت خانوں میں قید لوگوں کو منظر عام پر لاکر صوبے کے مسئلے کے حل کو یقینی بنانے کے لئے راستہ ہموار ہوگا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بے گناہ نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے ہمارے وسائل ہماری مشکلات کا سبب بن رہے ہیں عمران خان کہتا تھا کہ ریکوڈک کو بیچ کر پاکستان کا قرضہ اتاروں گا ہم اپنے وسائل کو کسی صورت فروخت نہیں ہونے دیں گے۔ اور وسائل پر صوبے کے لوگوں کو حق حاکمیت اور دسترس دی جائے تاکہ لوگوں میںپائی جانے والی تشویش دور ہوسکے۔ مسخ شدہ لاشیں اور اغوانما گرفتاریوں نے ہماری ماں، بہنوں اور ان کے اہل خانہ کے غموں میں اضافہ کررہی ہے۔ اس کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں شدید سردی میں ہماری مائیں اور بہنیں روڈ پر بیٹھ کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔
پرویز مشرف کے دورسے بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کا شروع ہونے والا سلسلہ آج بھی جاری ہے،بی این پی

ٹیگز:
بی این پی
