ڈیرہ اللہ یار(ڈیلی گرین گوادر)قائم مقام گورنر بلوچستان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی آرگنائزر میر جان محمد جمالی کی زیر صدارت بی اے پی نصیرآباد ڈویژن کے اراکین کا ایک اہم اجلاس منعقد لہڑی ہاوس ڈیرہ مراد جمالی میں منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر ایری گیشن حاجی محمد خان لہڑی، صوبائی وزیر ریونیو سکندر خان عمرانی، سابق صوبائی وزیر عبدالغفور لہڑی، میر بہرام خان بلیدی و دیگر شریک ہوئے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ بی اے پی کو نصیرآباد ڈویژن میں فعال رکھنے کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا اجلاس کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے میر جان محمد جمالی نے کہا کہ بی اے پی کہیں نہیں گئی اپنے پاوں پر کھڑی ہے ہم اراکین اسمبلی بی اے پی کے پلیٹ فارم پر عوام کے سامنے بیٹھے ہیں جن شخصیات نے بلوچستان سے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی انہوں نے بہت جلدی کی دیگر جو شخصیات جانا چاہتے ہیں تو انہیں روک نہیں سکتے تاہم بی اے پی اپنی جگہ موجود ہے نصیرآباد ڈویژن سے اہم اور قدآور شخصیات بی اے پی میں شمولیت کے لیے رابطے میں ہیں آئندہ چند روز میں وہ شخصیات سامنے آجائیں گی ایک سوال کے جواب میں میر جان محمد جمالی نے کہا کہ مگسی برادران کے بی اے پی سے کوئی اختلافات نہیں خالد مگسی کی طبیعت ناساز ہے اور طارق مگسی کراچی میں ہیں ان سے رابطے بحال ہیں ابھی اجلاس میں انہیں آن بورڈ لیا گیا جان محمد جمالی نے کہا کہ آئندہ انتخابات بی اے پی کے ٹکٹ سے لڑینگے انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری سے ہمارے بھی تعلقات ہیں اور عزت و احترام کا باہمی رشتہ ہے صوبے میں آٹے کے بحران پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں اس وقت آٹے کا بحران ہے غریب عوام انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں بی اے پی، پی ڈی ایم کا حصہ ہے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ بحران سے فوری نمٹا جاسکے انکا یہ بھی کہکا تھا کہ بی اے پی کی تشکیل اس بنیاد پر ہوئی تھی کہ بلوچستان کے فیصلے بلوچستان میں کیے جائیں کسی وفاقی پارٹی یا کسی دوسرے کی ڈکٹیشن نہیں لینگے اب اگر کچھ دوست پارٹی چھوڑ کر گئے یا دوسرے جانا چاہتے ہیں تو انہیں بہت جلدی ہے روک نہیں سکتے مگر ہم بی اے پی ہیں اور پارٹی کو فعال بنائے رکھیں گے۔
پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنے والوں نے جلد بازی کی ہے،جان محمد جمالی

ٹیگز:
جان محمد جمالی
