کوہلو(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان میں سیلاب کے سیلاب کے بعد متاثرین کے مشکلات تاحال کم نہیں ہوسکے ہیں کوہلو میں سیلاب کو گزارے کئی ماہ ہوگئے ہیں مگر ضلع میں سیلاب متاثرین کیلئے حکومتی اقدامات نہ ہونے سے لوگ کھلے آسمان تلے سرد موسم میں رہنے پر مجبور ہیں کوہلو کے مختلف علاقوں،کلی جمعہ خان،اوریانی اور فیصل ٹاؤن سمیت دیگر علاقے متاثر ہوئے تھے جس میں سینکڑوں کچے مکانات گرنے سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں مگر صوبائی حکومت کے بلند بانگ دعوں کے باوجود تاحال کوہلو میں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے ٹھٹرتے سردی میں رہنے پر مجبور ہیں کوہلو کے سیلاب متاثرین نے این این آئی کو بتایا کہ ضلع میں پہلے تو کئی ماہ تک متاثرین کو راشن اور ٹینٹ سے محروم رکھا گیا مگرا س کے بعد تباہ شدہ گھروں کے سروے کے بعد تاحال متاثرین کی داد رسی نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ کھلے آسمان تلے شدید سردی میں رہنے پر مجبور ہیں سردی کے باعث ان کے بچے مختلف بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں انہوں نے مزید کہا حکومت کا حالیہ سیلاب کے بعد پول کھول گیا ہے جہاں متاثرین کے نام سیاست اور بیان بازی کے علاوہ حکومتی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ضلع میں راشن بھی من پسند افراد میں تقسیم کیا گیا جس سے متاثرین کو مزید مایوسی ہوئی ہے جبکہ سیلاب سے ہمارے لاکھوں روپے کے سامان اور گھر بار تباہ ہوئے ہیں مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقداما ت نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ان کے مطابق اب انہوں نے کئی بار ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے گھروں کے دوبارہ تعمیر و مرمت یا انہیں ٹینٹ فراہم کئے جائیں مگر یہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے ضلع میں کئی بار احتجاج بھی ریکارڈ کروائیں ہیں مگر انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت کچھ نہیں کررہی ہے تو ہم کیا کریں مگر سوال یہ کے حکومت نے جو راشن اور مدادی رقوم فراہم کیا تھا وہ کہاں گیا ہے اور کیسے استعمال ہوا ہے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاری ہے جس سے ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے مشکل وقت میں بھی کچھ لوگ کرپشن اور من پسند افراد کو ترجیح دینے میں مصروف عمل ہیں ہماری چیف سیکرٹری بلوچستان،وزیر اعلیٰ بلوچستان اورکمشنر سبی ڈویژن سے مطالبہ ہے کہ کوہلو میں سیلاب متاثرین کے مسائل کا فوری نوٹس لیکر ہمارے گھر وں کے تعمیر کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
کوہلو میں سیلاب متاثرین تاحال چھت سے محروم،صوبے میں سیلاب متاثرین کیلئے حکومتی اقدامات دعوں تک محدود

ٹیگز:
کوہلو
