کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان میں صحت کے شعبے میں سہولیات باقی دنیا سے 25 پاکستان کے دیگر صوبوں سے دس سے بارہ سال پیچھے ہونے کا انکشاف، جدید عہد میں بھی بلوچستان میں روبوٹک سرجری کا آغاز نہ ہوسکا، صوبے میں فرسودہ نظام کے تحت مریضوں کی اوپن سرجری کرکے انسانی جسم کو سینہ سے مثانے تک چیر دیا جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق باقی دنیا میں صحت کے شعبہ میں روزانہ کی بنیاد پر جدت لائی جارہی ہے،سائنس کے اس دور میں دنیا 25 سال پہلے اوپن سرجری سے مرحلہ وار روبوٹک سرجری کی طرف منتقل ہوچکی ہے جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے ہسپتالوں میں بھی 12 سال قبل روبوٹک سرجری کا آغاز ہوچکا ہے تاہم بلوچستان میں اب بھی فرسودہ نظام صحت کے تحت مریضوں کی اوپن سرجری کی جارہی ہے، ماہرین کے مطابق اوپن سرجری میں انسانی جسم کو سینہ سے مثانے تک چیر دیا جاتاہے، جبکہ اوپن سرجری کے ذریعے مریض کے جسم کے اندر انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے جبکہ روبوٹک سرجری کے ذریعے انسانی جسم کے اندر انفکیشن پھیلنے کا خدشہ نہیں، ماہرین کے مطابق انتڑ یوں، پتہ، گردہ، مثانہ ودیگر امراض کاآپریشن روبوٹک سرجری کے ذریعے نہ صرف انتہائی آسان ہے بلکہ مریض کو بھی تکلیف نہیں ہوتی نہ مستقبل میں اس کی صحت پر سرجری کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق روبوٹک سرجری کے آلات اور مشینری کو چلانے کیلئے ترتیب یافتہ عملہ کوئٹہ میں موجود ہے تاہم مشینری دستیاب نہ ہونے سے اب تک فرسودہ نظام صحت کے تحت لوگوں کے آپریشن کئے جارہے ہیں،عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھاتے ہوئے کوئٹہ کے ہسپتالوں میں روبوٹک سرجری کے آلات فراہم کریں۔روبووٹک مشینری کی فراہمی سے نہ صرف بلوچستان میں صحت کے شعبہ میں جدت آئیگی بلکہ صوبے کے وہ مریض جو ملک کے دیگر شہروں میں اپنا علاجومعالجہ کرانے جاتے ہیں انہیں گھر کی دہلیز پر یہ سہولیات میسر آئیں گی۔عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اولین ترجیح کے بنیاد پر کوئٹہ کے ہسپتالوں کو روبوٹک سرجری مشینری کی فراہمی کو یقینی بناکر صحت کے شعبہ میں جدت لائیں گے۔
بلوچستان میں صحت کے شعبے پاکستان کے دیگر صوبوں سے دس سے بارہ سال پیچھے ہونے کا انکشاف

ٹیگز:
صحت
