لسبیلہ(ڈیلی گرین گوادر)صوبائی محتسب اعلیٰ بلوچستان ایڈوکیٹ نذر بلوچ نے گزشتہ روز سوک سینٹر حب میں میونسپل کارپوریشن کے کانفرنس ہال میں عوامی مسائل کے حل کیلئے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان وافسران کا اجلاس طلب کرلیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حب اور اسسٹنٹ کمشنر حب کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا ڈپٹی کمشنر حب اپنے دفتر کو وقت دے نہیں سکتے تو وہ عوامی مسائل کے لئے حل کیا کام کرینگے ان کی عوام مسائل کے حل میں عدم دلچسپی اور اپنے دفتر کو وقت نہ دینے کے حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ان کے خلاف کاروائی کرنے پر مبنی خط لکھا جائے گا صوبائی محتسب کو جو اختیارات حاصل ہیں انہیں استعمال کیا جائے گا،حب میں لاء اینڈ آرڈر کو بڑا ایشو ہے تو اسی کے ساتھ ساتھ منشیات فروشی کے اڈے اور منشیات فروشی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے منشیات جیسے لعنت نے نوجوان نسل کو تباہ کردیا ہے پولیس کے نااہلی کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے،تمام صوبائی سرکاری محکمے کے افسران حب کے عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں لوگوں کو پانی،بجلی،گیس بحران کی شکاتیں ہیں اور صحت تعلیم کے شعبے سمیت روڈنیٹ پر عوام کو سہولیات فراہم کرنا افسران کی ذمہ داری ہے وہ اپنے فرض کو اچھی طرح نبھائیں اور عوام کو سہولیات فراہم کریں بصورت دیگر سرکاری افسران کے خلاف نوٹس لیا جائے جو کہ ان کی سروس کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے صوبائی محتسب ایڈوکیٹ نذر بلوچ کا اجلاس سے خطاب اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی اور صوبائی محتسب کو اپنے اپنے اداروں کے حوالے سے بریفنگ دی عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حب اور اسسٹنٹ کمشنر حب کی عدم شرکت پر صوبائی محتسب اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ڈپٹی کمشنر پورے ضلع کا ہیڈ ہوتا ہے لیکن آج عوامی مسائل کے لئے جو اجلاس طلب کیا گیا اس حوالے سے انہیں اطلاع بھی کردی گئی ہے اس کے باوجود دونوں افسران کی عدم شرکت ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ڈی سی حب اپنے دفتر کو ٹائم نہیں سکتے عوام سے نہیں ملتے تو وہ کیا عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھیں گے انھوں نے کہاکہ صوبائی محتسب اعلیٰ کو سوموٹو سمیت دیگر نوٹس لینے اختیارات حاصل ہے اور اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب کے خلاف چیف سیکرٹری کو خط لکھا جائے گا کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اپنے دفتر کو بھی ٹائم نہیں دیتے اور نہ ہی وہ عوام سے ملتے ہیں سرکاری افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی محتسب نے کہاکہ انھوں نے گزشتہ روز جام غلام قادر گورنمنٹ اور سوشل سیکورٹی اسپتال سمیت TTCکا بھی دورہ کیا جبکہ سوشل سیکورٹی اسپتال کے حالات انتہائی گھمبیر ہیں تمام شعبہ جات غیر فعال ہیں مذکورہ اسپتال میں علاج ومعالجہ کیلئے آنے والی مائیں بہنیں ادویات کے حصول کیلئے ہاتھوں میں پرچیاں لیئے گھوم پھر رہی ہوتی ہیں لیکن انہیں ادویات نہیں ملتا صنعتی ورکروں اور انکی فیملیز کیلئے لاکھوں روپے کی ادویات کے پرچی بنائے جاتے ہیں لیکن انہیں ادویات نہیں دیا جاتا سوشل سیکورٹی اسپتال میں پرچی سسٹم کو ختم کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب شہر کے میڈیکل اسٹوروں میں دو نمبر جعلی اور غیر معیاری ادویات فروخت کیا جارہاہے اور جو کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے انھوں نے کہاکہ گزشتہ روز حب کے فوڈ گندام کا جب دورہ کیا تو وہاں پر گندم ایک دانہ تک نظر نہیں آیا جبکہ تاجر کراچی سے مہنگا آٹا لاکر حب میں فروخت کر رہے ہیں انھوں نے کہاکہ سرکاری محکموں کے افسران عوام کے شکایات سننے کو تیار نہیں ہوتے اس لیئے عوام کے مسائل میں اضافہ ہو جاتا جارہا ہے پیرکس،ساکران روڈ کی حالت زار سب تک سامنے ہے پیرکس روڈ پر ہیوی گاڑیوں کے گزرنے کے سبب کھنڈر بن چکا ہے لہٰذا یہاں سے ہیوی ٹریفک کو فوری روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں صوبائی محتسب اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سرزمین او ر ملک کا مجھ پر قرض ہے اپنے اختیارات میں صوبائی محکموں میں ناانصافی و بد امنی ہو رہی ہیں ان کے خلاف نوٹس لیا جائے گاکیونکہ چیف جسٹس بلوچستان کو سومو ٹو ایکشن لینے کا اختیارنہیں ہے مگر صوبائی محتسب اعلیٰ کے پاس یہ اختیارات ہیں کسی بھی صوبائی بھی ڈیپارٹمنٹ کے خلاف سوموٹو نوٹس لے سکتا ہے ہم پورے ملک کا تو سسٹم صحیح نہیں کر سکتے کم ازکم ہم اپنے آپ کو صحیح کر سکتے ہیں انھوں نے کہاکہ حب شہر کے سڑکوں،تعلیمی اداروں،صحت کے شعبوں کی حالت سب کے سامنے ہے اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے کہیں صحت وصفائی تو کہیں ادویات اور سوئپر کا مسئلہ درر پیش آرہا ہے ان تمام معاملات میں بہتری لانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم سب ایمانداری سے اپنے اپنے منصب پر کام کریں تو یہ معاملا ت بہتر انداز میں حل ہو سکتے ہیں انھوں نے کہاکہ حب کے شہری ٹیکس دے رہے ہیں حکومت کو چاہئے انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کریں لیکن بدقسمتی سے حب کے شہری پانی بجلی گیس کی سہولیات سے محروم ہیں انھوں نے کہاکہ حب میں منشیات کے اڈوں میں اضافہ ہو رہا اور منشیات فروشی بھی ہو رہا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز حب کے علاقہ غریب سے شکایتی درخواست ملا ہے کہ غریب میں منشیات کے اڈے چل رہے ہیں اور منشیات فروخت ہو رہا ہے جس سے امن وامان متاثرہو رہا ہے اس ضمن میں پولیس کیا کر رہا ہے منشیات کے اڈوں کا چلنا اور منشیات فروخت ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور منشیات سے ہمارے نوجون نسل تباہ ہو رہے ہیں اور منشیات کی لعنت میں مبتلا ہو رہے ہیں جب تک ہمارا ماحول صیح نہیں ہو گا ہمارا مستقبل تباہ ہو گا اجلاس سے ڈائریکٹر محتسب حب لسبیلہ آواران حب ریجن انوار الحق نے کہا کہ حب کے شہریوں کی جانب سے متعدد شکایتی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جب سرکاری اداروں کے افسران سے جواب طلب کیا جاتا ہے تو کوئی جواب نہیں ملتا اس لیئے سائلین کے مسائل حل ہونے میں وقت لگتا ہے اس موقع پر صوبائی محتسب بلوچستان نے انہیں ہدایت دی کی جن شہریوں کے کیس تین ماہ سے پینڈنگ میں ہے انہیں ری اوپن کیا جائے اور انکے حل کیلئے اقدامات اٹھایا جائے گا۔
نذر بلوچ نے سوک سینٹر حب کے کانفرنس ہال میں عوامی مسائل کے حل کیلئے مختلف سرکاری محکموں کے وافسران کا اجلاس طلب کرلیا

ٹیگز:
اجلاس طلب
